<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_تحریک_ইনصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9_%e0%a6%87%e0%a6%a8%d8%b5%d8%a7%d9%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_تحریک_ইনصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1733/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1733/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 13:17:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیان_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پارٹی_اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان_اکرم_راجہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d8%b3%d9%b9%d8%b1-%da%af%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے تمام اراکین کو متحد قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے سختی کے ساتھ روک دیا ہے تاکہ اندرونی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے اور جماعت کے اندر کسی قسم کی غلط فہمیوں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر کوئی اختلاف موجود نہیں ہے اور تمام رہنما مکمل یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جو کہ موجودہ سیاسی حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ دنوں میں پارٹی کے بعض رہنماؤں کے بیانات پر چہ مگوئیاں شروع ہوئی تھیں جس کے بعد چیئرمین نے صورتحال کا فوری نوٹس لیا اور اہم شخصیات سے ٹیلی فونک رابطے کر کے معاملات کو سلجھایا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی ہے اور تمام غلط فہمیوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ دور کر لیا گیا ہے تاکہ صفوں میں اتحاد برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی علی امین گنڈاپور، شیخ وقاص اکرم، علی اصغر خان اور سلمان اکرم راجہ سے ٹیلی فونک گفتگو ہو چکی ہے اور تمام معاملات پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اس گفتگو کے دوران پارٹی امور اور باہمی تعلقات پر کھل کر بات چیت کی گئی اور تمام رہنماؤں نے پارٹی قیادت کے فیصلوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین پی ٹی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں پارٹی کا اتحاد سب سے زیادہ اہم ہے اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ تمام عہدیداران کو بھی اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کو کسی بھی اندرونی انتشار سے بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ کارکنوں کا مورال بلند رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ بانی چیئرمین بھی پارٹی رہنماؤں کی مجموعی کارکردگی اور ان کے باہمی اتحاد سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور سب کو مل کر ایک ہی ہدف کے لیے کام کرنا چاہئے۔ قیادت کا ماننا ہے کہ اتحاد کے بغیر کسی بھی سیاسی ہدف کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا لہذا تمام ارکان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہیں اپنے تمام ارکانِ اسمبلی پر پورا فخر ہے جو اس کٹھن وقت میں بھی پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بانی چیئرمین بھی ان تمام رہنماؤں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں تحریک انصاف کا قیمتی اثاثہ تصور کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اہم سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں پائے جانے والے تمام ابہام کو بھی دوٹوک انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمارے وزیراعلیٰ پہلے بھی سہیل آفریدی تھے، آج بھی وہی ہیں اور مستقبل میں بھی وہی اس منصب پر برقرار رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت اندرونی ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ تمام محاذوں پر ایک ہی آواز میں بھرپور انداز میں مقابلہ کر سکے۔ بیرسٹر گوہر کی جانب سے کی جانے والی فوری مداخلت اور رہنماؤں کو بیان بازی سے روکنے کی ہدایت کو اسی بڑی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اس تمام پیشرفت کو انتہائی مثبت نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سیاسی جماعت کے اندر کسی بھی قسم کی غیر ضروری افواہوں اور چہ مگوئیوں کا سدباب ہوگا۔ پارٹی کے تمام مرکزی رہنما اب یکسو ہو کر ملک کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ پارٹی کے اندر جمہوری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی مشاورت کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ تمام رہنماؤں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پارٹی کے پلیٹ فارم کو مضبوط تر بنانے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیراتی کردار ادا کرتے رہیں تاکہ ورکرز میں کوئی منفی پیغام نہ جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت اندرونی اتحاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے اور کسی بھی ایسے عنصر کو پنپنے نہیں دے گی جو جماعت کے مفادات کے خلاف ہو۔ کارکنان کی طرف سے بھی چیئرمین کے اس بروقت فیصلے کو سراہا گیا ہے اور اسے پارٹی مفاد میں ایک بہترین اور دور اندیش اقدام قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1733/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا: سابق کابینہ اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہ ہو سکیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/623/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/623/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:56:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سابق_وزراء]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_گاڑیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a7%da%a9%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق وزراء اور مشیروں کے پاس سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا میں سابق صوبائی کابینہ کے اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی واپسی کا معاملہ تاحال التوا کا شکار ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سابق وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے پاس تاحال سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جو انہوں نے اپنے عہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود محکمہ کو واپس نہیں کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق صوبے میں مختلف نوعیت کی ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق اراکینِ کابینہ کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیوں کا استعمال بدستور جاری ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے انتظامی امور پر کئی طرح کے سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ عام حالات کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں بھی سرکاری وسائل کا اس طرح سابقہ عہدیداروں کے پاس رہنا ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ بعض سابق وزراء اور مشیروں کے پاس ایک یا دو نہیں بلکہ تین سے چار سرکاری گاڑیاں تک موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا ایک ہی شخص کے زیرِ استعمال رہنا صوبائی وسائل کے غیر مناسب استعمال کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس سے متعلقہ محکموں کے دیگر دفتری امور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف وزراء اور مشیروں تک ہی یہ معاملہ محدود نہیں ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق سابق پارلیمانی سیکرٹریز کے پاس بھی اب تک سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ تمام افراد اپنے سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود حکومتی پروٹوکول اور سہولیات سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ بعض نجی سوشل میڈیا شخصیات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے زیرِ استعمال بھی سرکاری گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس انکشاف نے عوامی حلقوں میں حیرت اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ کس طرح سرکاری املاک کو غیر متعلقہ نجی افراد کے حوالے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تمام سابق اراکین اس رویے پر عمل پیرا نہیں ہیں کیونکہ کچھ سابق کابینہ اراکین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے عہدے چھوڑنے کے فورا بعد یا کچھ عرصے کے اندر ہی اپنی سرکاری گاڑیاں متعلقہ محکموں کے حوالے کر دی تھیں۔ تاہم بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو ان گاڑیوں کو چھوڑنے پر کسی طور تیار دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام اس پورے معاملے کی سنگینی کا مکمل ادراک کرتے ہوئے اس کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ گاڑیوں کی فی الفور اور بلا تاخیر واپسی کے حوالے سے مختلف انتظامی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ تمام سرکاری وسائل کو فوری طور پر ریکور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر اس معاملے کے میڈیا میں سامنے آنے کے بعد اب موثر انتظامی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ تمام سابق عہدیداروں اور غیر متعلقہ نجی افراد سے سرکاری گاڑیاں جلد از جلد واپس لی جا سکیں۔ عوام کی جانب سے بھی یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری املاک کا ناجائز استعمال فی الفور بند کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے انتظامی امور چلانے والے محکموں نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ آیا ماضی میں ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے وقت کن قوانین کو مدنظر رکھا گیا تھا اور اب ان کی واپسی کے لیے کون سے قانونی اور انتظامی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق اراکین کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا یہ مسلسل استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں انتظامی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کی جانب سے ان تمام افراد کی فہرستیں دوبارہ تیار کی جا رہی ہیں جن کے پاس تاحال سرکاری تحویل کی گاڑیاں موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران سرکاری مشینری اور وسائل کا درست سمت میں استعمال ہونا انتہائی ضروری ہے، اس لیے سابقہ دور کے لوگوں کے پاس گاڑیاں رہنا انتظامی مجبوریوں کے بھی منافی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمے کے اندرونی اجلاسوں میں بھی تبادلہ خیال جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند دنوں کے اندر اندر متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا اور تمام غیر قانونی طور پر زیرِ استعمال گاڑیوں کو تحویل میں لے کر سرکاری پول میں واپس جمع کرا دیا جائے گا تاکہ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر صوبائی سطح پر سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور ان کے منصفانہ استعمال کے ضابطوں پر بحث چھوٹی ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو کس انجام تک پہنچاتی ہے اور کیا تمام گاڑیاں بحفاظت واپس حاصل کی جاتی ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/623/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/619/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/619/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:17:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[190_ملین_پاؤنڈ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[بشری_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_باقر_نجفی]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا_معطلی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/190-%d9%85%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d8%a4%d9%86%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%b0-%d8%a8%db%8c-%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے ایک انتہائی اہم اور زیر بحث مقدمے میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ سکینڈل سے جڑے ایک معاملے پر اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اس قانونی کارروائی کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی جانے والی سزا معطلی کی درخواست کو سرے سے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی چارہ جوئی کی سماعت کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا ایک دو رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے فریقین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس معزز بینچ کی قیادت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے خود کی جبکہ ان کے ہمراہ بینچ میں دوسرے جج بھی شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی اس باضابطہ سماعت کا آغاز اسلام آباد میں ہوا جہاں تمام متعلقہ فریقین کے نامور قانونی نمائندے کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاعی وکلاء نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ہوئی تھی اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بشریٰ بی بی کی جانب سے پیش ہونے والے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں اپنے دلائل کا آغاز کیا اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کے ساتھ دوسرے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جو اس موقع پر قانونی ٹیم کا حصہ تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفدر نے عدالت کے روبرو اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملکی عدالتوں کی روایات رہی ہیں کہ خواتین کے مقدمات میں ہمیشہ نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس بنیاد پر بھی سزا کے معاملے میں عدالت کی طرف سے نرمی کا رویہ اپنایا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے دفاعی وکیل نے نیب کے مجموعی کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور تیرہ ماہ کے عرصے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل دورانئیے میں قومی احتساب بیورو کا کنڈکٹ انتہائی قابل اعتراض رہا ہے اور ادارے نے طریقہ کار کے دوران مسائل پیدا کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو مزید بتایا گیا کہ نیب کی طرف سے تفتیشی اور عدالتی کارروائی کے دوران متعدد سماعتوں پر جان بوجھ کر التوا حاصل کیے گئے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب نیب کی باری آئی تو انہوں نے سزا معطلی کی اس باقاعدہ درخواست پر بھی بھرپور انداز میں اعتراضات دائر کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی ٹیم نے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد اب قانون کے تحت ضمانت کا مکمل جواز بن چکا ہے۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ چونکہ درخواست گزار ایک خاتون ہیں لہذا قانون کے ان تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو معطل کیا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو یہ نکتہ بھی سمجھایا گیا کہ اس پورے عرصے کے دوران زیادہ تر توجہ اور فوکس بانی پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل پر ہی مرکوز رہا ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر سزا معطلی کی اس درخواست کو میرٹ پر سن کر اس پر مثبت فیصلہ دیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ اس ابتدائی مرحلے پر مقدمے کے اصل میرٹ پر جانے سے گریز کیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اس وقت عدالت کے روبرو صرف سزا معطلی کی حد تک کا محدود کیس زیرِ غور ہے جس پر بات کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینچ کے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس موقع پر استفسار کیا کہ اس مقدمے کی مرکزی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے اب تک کتنی مرتبہ عدالت کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔ عدالت نے ان تمام قانونی نکتوں کا بغور جائزہ لیا جو دونوں اطراف کے فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے تمام ابتدائی دلائل کو سننے کے بعد اس کیس کی مزید زبانی سماعت کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تمام زبانی دلائل کے اہم نکات تحریری شکل میں عدالت میں جمع کروائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا تھا جو بعد میں باضابطہ طور پر اوپن کورٹ میں سنا دیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سنایا گیا یہ فیصلہ ملکی قانونی حلقوں میں ایک بڑی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر تبصرے جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/619/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
