<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستانی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c_%d9%81%d9%88%d8%ac/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستانی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>قلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2271/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2271/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 09:57:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دہشتگردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رد_الفتنہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ژوب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%82%d9%84%d8%b9%db%81-%d8%b3%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%b1%d8%b3%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عادل شاہ عرف درویش ہلاک کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے ایک انتہائی اہم کمانڈر کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری عزم مصمم اور بھرپور اقدامات کا حصہ ہے، جس کے تحت ریاست کے خلاف سرگرم عناصر کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفتنہ کے سلسلے کی یہ ایک اہم کامیابی ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں یہ کارروائی کی اور فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو شدید دھکا پہنچایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہلاک ہونے والے دہشت گرد کمانڈر کی شناخت عادل شاہ عرف درویش کے نام سے ہوئی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ اس کی سرگرمیوں سے علاقے میں امن و امان کو شدید خطرات لاحق تھے جن کا اب سکیورٹی اداروں نے قلع قمع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات اور دستیاب معلومات کے مطابق، یہ خارجی کمانڈر دسمبر دو ہزار بیس سے فتنہ الخوارج کے ساتھ وابستہ تھا اور تنظیم کے لیے مختلف کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے تنظیم کے اندر ایک اہم مقام حاصل کر لیا تھا اور اس کی تخریبی سرگرمیاں مسلسل جاری تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کی رو سے دہشت گرد عادل شاہ سن دو ہزار چوبیس سے اس شدت پسند گروہ کے مالی امور اور فنڈز کی نگرانی کی انتہائی حساس ذمے داری بھی انجام دے رہا تھا۔ وہ تنظیم کے لیے رقوم کی ترسیل اور مالی وسائل کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خارجی کمانڈر غیر مقامی دہشت گردوں کو ژوب، شیرانی اور شعبان کے مختلف علاقوں میں مستقل رہائش فراہم کرنے میں بھرپور سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا تھا۔ وہ ان علاقوں میں باہر سے آنے والے عناصر کو چھپانے اور ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں ملوث تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خارجی عادل شاہ عرف درویش سن دو ہزار بائیس اور دو ہزار تئیس کے دوران سکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف حملوں میں بھی براہ راست ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ریاست کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے سنگین جرائم میں بھی نامزد تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کی ان تمام گھنائونی سرگرمیوں کے علاوہ وہ معصوم شہریوں کو اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے ذریعے ہراساں کرنے کی وارداتوں میں بھی سرگرم عمل رہا تھا۔ اس کی مجرمانہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والا ایک خطرناک سرغنہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں کم و بیش انیس ایف آئی آرز درج کی جا چکی تھیں۔ ان مقدمات میں سنگین نوعیت کے جرائم شامل تھے جن کی سماعت عدالتوں میں جاری تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خطرناک دہشت گرد کمانڈر کی گرفتاری یا خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے اس کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جو اس کے انتہائی مطلوب ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی عرصے سے اس کی تلاش میں مصروف تھے جو اب اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ بلوچستان کے طول و عرض میں انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر جاری یہ کارروائیاں اس وقت تک بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور سکیورٹی اداروں کا موقف ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ فیصلہ کن اقدامات آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک اسی جذبے کے ساتھ جاری رہیں گے۔ ریاست کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور قانون کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان قریبی تعاون سے ملک میں امن و امان کی فضا کو مزید بہتر بنانے اور شرپسند عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2271/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1615/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1615/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 22:57:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_ایران_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارت_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%81%db%8c%d9%84%da%88-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d9%84-%d8%b9%d8%a7%d8%b5%d9%85-%d9%85%d9%86%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستانی فوج کے سربراہ تہران پہنچ گئے جہاں وہ ایرانی قیادت سے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک اہم سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور ایرانی میڈیا کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد پر اعلیٰ ایرانی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم بنانا اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے قیام کے دوران، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششوں اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے ایجنڈے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کے ممکنہ کردار پر بھی بات چیت شامل ہے۔ پاکستان خطے میں ثالثی کے کردار کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل تلاش کرنے کا خواہاں رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ایران کے مابین تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات استوار ہیں، اور دونوں ممالک کے عسکری اداروں کے درمیان رابطے خطے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید تقویت دے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے موجودہ حالات کے پیش نظر، پاکستان کی جانب سے ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہران میں قیام کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔ اس میں تربیتی تبادلے، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے میکانزم کو بہتر بنانا شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ایران کی سرحدیں ایک طویل جغرافیائی خطے پر محیط ہیں، جس کی حفاظت اور وہاں امن و امان کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری حکام اس بات پر متفق ہیں کہ سرحدوں پر امن سے ہی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور باہمی تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔ یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری قیادت خطے میں استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے حوالے سے مزید ٹھوس اقدامات متوقع ہیں جو خطے کے وسیع تر مفاد میں ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توقع ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے دورے کے اختتام پر اہم ملاقاتوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیں گے یا اس حوالے سے سرکاری اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں دورے کے اہم نکات اور حاصل ہونے والے نتائج کا احاطہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1615/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان_دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%be%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے باعث پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے جہاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں سرگرم عناصر نظریاتی اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کے اثرات ملک کی مجموعی داخلی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی حکام کے مطابق ان عناصر نے سرحد پار افغانستان میں اپنے ٹھکانے اور پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جہاں سے وہ پاکستانی حدود میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے اسلام آباد کو توقعات تھیں کہ کابل انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے اس مقصد کے لیے افغان حکومت کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر بھرپور رابطے استوار رکھے اور ثبوت بھی فراہم کیے لیکن عملی اقدامات کے فقدان سے صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ مبصرین کے مطابق افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجوہات میں نظریاتی قربت اور داخلی دباؤ کے خدشات شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف برسوں کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2026 کے دوران اب تک دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے سدباب کے لیے سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) رضا محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر پاکستان کے اندر عدم استحکام پھیلانے والے گروہوں کی مالی معاونت میں بھی ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث افراد میں افغان شہریوں کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے جن میں سے کئی کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران پاکستان میں کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 260 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت نام اور خاندانی تفصیلات سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حساس نوعیت کے واقعات میں بھی افغان شہریوں اور سابق اراکین کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سلامتی کے امور کے ماہر خرم عباس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چشم پوشی تک محدود نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کو مالی معاونت اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان صوبوں میں بھرتی کی مہمات کے ذریعے افراد کو سرحد پار کارروائیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق سفیر منصور علی خان کے مطابق افغان طالبان اور بعض عسکریت پسند گروہوں کے درمیان گہرے نظریاتی روابط اور پرانے تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے لیے اپنے سابق ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہ طالبان کی نچلی اور درمیانی سطح کی صفوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی تجربات کی وجہ سے دونوں کے درمیان سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو اپنے اندرونی خلفشار اور بغاوت کا بھی خدشہ ہے کیونکہ سخت قدم اٹھانے سے ان کے اپنے جنگجوؤں میں ناراضی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس تزویراتی مخمصے کی وجہ سے افغان حکومت دوغلے پن کا شکار نظر آتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر منظر زیدی کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں یہ گروہ کسی دوسری حریف تنظیم کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔ اس صورت حال میں کابل انتظامیہ کے لیے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان میں صرف ایک ہی نہیں بلکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ان میں فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ دیگر علیحدگی پسند اور کالعدم گروہ بھی شامل ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل (ر) رضا محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام گروہ طالبان کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار ان امور پر دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اسلام آباد اس حوالے سے عالمی برادری پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر پاکستان کا مؤقف واضح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:38:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند ہے، تاہم یمن تنازع میں براہ راست شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ ’انصار اللہ‘ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر حکومت نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے دفاعی معاہدوں کا پابند ہے، تاہم کسی بھی غیر ملکی جنگ کا حصہ بننا پاکستان کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس حوالے سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایک دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کا پابند ہے، جس کے لیے ان کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی ایک انٹرویو کے دوران سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف صلاحیتوں کے حامل پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور یہ موجودگی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلق کا تسلسل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وزارت نے ان خبروں کو ’جھوٹی اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت دفاع کے مطابق، رواں برس اپریل میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچنے والی پاکستانی فورسز کا مقصد سعودی اور پاکستانی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور آپریشنل تیاری کی سطح کو بلند کرنا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر پاکستان کا کردار اہم ہے۔ تاہم، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا روایتی آپریشنل دائرہ کار خطے کی صورتحال تک محدود رہا ہے اور اسلام آباد اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے تحت تشکیل دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی پاکستان نے یمن تنازع کے حوالے سے پارلیمانی فیصلوں کو اہمیت دی ہے۔ سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل پارلیمان میں بحث اور مشاورت کا عمل ناگزیر ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کے مطابق، سنہ 2015 کے بعد سے اب حالات میں کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دو طرفہ اور سہہ فریقی مکہ معاہدے پاکستان کی سکیورٹی شراکت داری کو ایک نئی جہت دیتے ہیں، جس کا مقصد سعودی عرب کے دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے منسلک باربرا سلاون کا خیال ہے کہ سعودی عرب خود کو ایک مشکل صورتحال میں دیکھ رہا ہے جہاں اسے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنے قریبی اتحادیوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار ایک سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ہی واحد راستہ ہیں۔ پاکستان کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گا جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز اور معاشی صورتحال کے پیش نظر بھی پاکستان محتاط پالیسی پر گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کسی بھی ایسی مہم جوئی سے گریز کرے گا جو ملک کو غیر ضروری طور پر کسی بیرونی تنازع میں الجھا دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رہنے کا امکان ہے، لیکن یہ تعاون طے شدہ معاہدوں کے دائرہ کار تک ہی محدود رہے گا۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں رہنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
