<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستانی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:20 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستانی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>صدر آصف علی زرداری کا دورہ جرمنی: گارڈ آف آنر پیش، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:38:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برلن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_جرمنی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%da%af%d8%a7%d8%b1%da%88/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن پہنچ گئے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کی خصوصی دعوت پر ایک اہم سرکاری دورے پر جرمنی پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن وزارت دفاع میں صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے خود صدر مملکت کا استقبال کیا، جس کے بعد انہیں پاک فوج کے دستے کی طرز پر جرمن مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ دورہ اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ 23 برسوں کے طویل عرصے کے بعد کسی بھی پاکستانی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ جرمنی ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جو مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنے جرمن ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی جہتوں سے روشناس کرانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقاتوں کے دوران دونوں رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ، معاشی تعاون کو بڑھانے اور مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک کے مواقع تلاش کرنے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ماہرین کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے مابین دیرینہ تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ صدر مملکت جرمن قیادت کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور جرمنی کے مابین گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرے ہوئے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی فضا کو مزید سازگار بنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور یورپی ممالک کے مابین قریبی رابطے ناگزیر ہیں۔ جرمنی یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران صدر مملکت جرمنی کے دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ مفادات کے حامل امور پر بات چیت کی جائے گی تاکہ باہمی تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے جرمنی کے ساتھ تکنیکی اور تعلیمی شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں اور عوام کے مابین رابطوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے جو تعلقات کی بنیاد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف کی تکمیل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ اس دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیے کے جاری ہونے کا امکان ہے جس میں تعاون کے نئے معاہدوں کا ذکر ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن میڈیا اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی صدر مملکت کے اس دورے کو انتہائی گرمجوشی سے دیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ معاشی اور تجارتی میدان میں بھی پاکستان کے لیے خوشگوار نتائج کا حامل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں عدم تعاون پر گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا: طارق فضل چودھری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1569/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1569/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 10:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بی_ایل_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشتگردی_کے_خلاف_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں قیامِ امن کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دارالحکومت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور ملک بالخصوص صوبے کے امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کو تمام چیزوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور ملک کو ہر قسم کے عسکریت پسند عناصر سے پاک کرنے کا عزم مصمم ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں ملک کے غیور نوجوان اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت کی یہ خلوصِ نیت کوشش تھی کہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے پر تمام فریقین کو ایک ہی صفحے پر لایا جا سکے تاکہ ریاست مخالف عناصر کے خلاف بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے افغانستان سے متعلق ملکی پالیسی اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملات میں تعاون کرنے سے انکار کیا گیا جس کے بعد مجبوری کے تحت سخت فیصلے کرناپڑے کیونکہ صوبائی سطح پر موثر تعاون اور آہنگ کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی موقف تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کبھی بھی کھل کر دہشتگردی یا اس میں ملوث عناصر کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی اور نہ ہی آئینی حلف کی مکمل پاسداری کی گئی۔ حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی انتظامیہ کے عدم تعاون کے رویے کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبے کے انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانا اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں پہلے ہی ایک گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی متحرک انداز میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے جو صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی امور کی نگرانی کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے آئینی عمل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گیارہ اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جسے بعد ازاں قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے بھی توثیق کروایا گیا تاکہ اس اقدام کو مکمل آئینی اور قانونی جواز حاصل ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کی خاطر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی جیسا انتہائی اقدام اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا جس سے کسی صورت گریز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دہشتگردی کے اس ناسور کے پس پردہ بیرونی عوامل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ بھارت مسلسل پاکستان کے اندرونی حالات کو خراب کرنے اور دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے میں ملوث ہے جبکہ دیگر غیر ملکی عناصر بھی کالعدم تنظیموں اور تخریب کاروں بالخصوص بی ایل اے کی اعانت کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ریاست اس لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی پوری قوت کے ساتھ یہ جنگ جاری رکھے گی اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر خاک میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے دہرایا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ صوبائی سطح پر موثر تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا اس لیے وفاقی حکومت نے مجبوری کے تحت آئینی حدود میں رہتے ہوئے یہ اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو ایک پرامن اور محفوظ خطہ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1569/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاک فوج کی قربانیوں پر کوئی شک نہیں، دہشت گردوں کو نہیں چھوڑنا چاہیے: نواز شریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1433/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1433/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 10:56:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہدا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[لندن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%b4%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کی بہادری اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں اپنے رہائش گاہ ایون فیلڈ سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی ملک کے لیے دی گئی قربانیوں پر کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم نے پاک فوج کے جوانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے فوجی انتہائی دلیری اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کی قربانیوں کو قوم کا اثاثہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نواز شریف نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی حلقوں کی جانب سے نواز شریف کے اس بیان کو قومی بیانیے کے عین مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ موقف ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جن میں سویلین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔ نواز شریف نے ان تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا ناسور ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لندن میں قیام کے دوران نواز شریف مختلف ملکی و غیر ملکی امور پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان ملک کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں پاک فوج کے جوانوں کی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے ان جوانوں کی ہمت کو سلام پیش کیا جو سرحدوں اور اندرون ملک امن کے محافظ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دہشت گردی کے اس فتنے سے محفوظ رکھے اور ملک میں پائیدار امن قائم ہو۔ انہوں نے قوم سے بھی اپیل کی کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1433/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/511/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/511/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 01:57:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_بارڈر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں امن و امان کی بحالی کیلئے سیاسی تقسیم ختم کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا، ماہرین۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے قومی سلامتی کے امور پر ایک متفقہ اور جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ ملک کے ان حصوں میں عسکریت پسندی کے واقعات نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔ سیکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کو ایک ایسے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں کسی قسم کی خلیج نہ ہو تاکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تناظر میں اپیکس کمیٹیوں کا ماڈل ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر فیصلے کر سکیں۔ ہنگامی بنیادوں پر بلائے گئے اجلاسوں کے ذریعے ان حساس علاقوں کی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ اور متفقہ پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں یا عدم تعاون کے تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کمزوری نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حمایت کا حصول بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مقامی آبادی کے سماجی مسائل کو حل کرنا اور انہیں اعتماد میں لینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب تک عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، عسکریت پسندی کے خلاف کامیابی کا حصول مشکل رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے اندرونی سیاسی ڈیڈ لاک اور محاذ آرائی کی سیاست بھی سیکیورٹی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر کسی بھی بڑی سیکیورٹی پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنا ممکن نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے فورم پر اکٹھا ہو کر دہشت گردی کے خلاف ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونی عوامل بھی پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کی جانب سے پراکسی وار اور کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی محاذ پر دو ٹوک موقف اپنانا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات نہ ہونا ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور علاقائی سطح پر درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی مباحث کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی بنیاد پر صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ لازمی ہے تو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ریاست، حکومت اور عوام کا ایک پیج پر ہونا ہی واحد حل ہے۔ داخلی سیاست میں تقسیم اور تناؤ کو ختم کر کے ہی ملک کو امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اس جنگ میں سیاسی قیادت کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک سیاسی قیادت یکسو نہیں ہوگی، سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں مکمل ثمر آور نہیں ہو سکتیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ اس منصوبے میں مقامی لوگوں کی شمولیت اور ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا شامل ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کا تعلق براہ راست سیاسی اور معاشی کمزوریوں سے ہے۔ جب تک ملک میں معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی نہیں آئے گی، تب تک عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں حتمی کامیابی کا حصول ایک چیلنج رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/511/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
