<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پانی_کا_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c_%da%a9%d8%a7_%d8%a8%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:01 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پانی_کا_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/1634/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/1634/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:57:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آبی_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[پانی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈملوٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_ایچ_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_منصوبہ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%88%d9%85%d9%84%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی کے تاریخی آبی وسیلے ڈملوٹی سے ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں کے لیے 14 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی ایک دیرینہ اور اہم مسئلہ رہا ہے، جس کے حل کے لیے اب تاریخی ڈملوٹی کے آبی نظام کو جدید خطوط پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملیر کے تاریخی مقام ڈملوٹی سے ڈیفنس اور اس کے ملحقہ علاقوں کو روزانہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈملوٹی کا یہ آبی نظام تقریباً ڈیڑھ صدی قدیم ہے، جسے انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انجینئرنگ کے ایک شاہکار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے ماہرین نے ملیر کے قدرتی جغرافیے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو استعمال میں لاتے ہوئے پانی کی فراہمی کا مربوط نظام قائم کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی طور پر ڈملوٹی کے کنوؤں اور فلٹریشن گیلریوں کے ذریعے پانی حاصل کیا جاتا تھا، جس کی ابتدائی صلاحیت 5 ملین گیلن یومیہ تھی اور بعد میں اسے بڑھا کر 20 ملین گیلن تک پہنچایا گیا تھا۔ یہ نظام ملیر کینٹ، جامعہ کراچی اور شہر کے دیگر اہم علاقوں تک پانی پہنچانے کا ایک منظم ذریعہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے منصوبے پر تقریباً 14 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور اسے 12 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 38 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن بچھائی جائے گی تاکہ ڈی ایچ اے اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقوں کو اضافی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی موجودہ آبادی اور تجارتی ضروریات کے پیش نظر شہر کو روزانہ ایک ارب گیلن سے زائد پانی کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب پانی کی مقدار اس سے کافی کم ہے۔ اگرچہ 10 ملین گیلن کا یہ اضافہ پورے بحران کا حل نہیں، لیکن یہ شہر کے آبی نیٹ ورک کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حاصل کردہ پانی کو ایک مربوط شہری واٹر گرڈ کا حصہ بنایا جائے اور ترسیلی نقصانات کو کم کیا جائے۔ پرانی لائنوں کی مرمت، غیر قانونی کنکشنز کا خاتمہ اور پانی کی تقسیم میں شفافیت لانا بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید شہری انتظام میں پانی کی ہر بوند کا حساب رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی کس ذخیرے سے آیا اور کس علاقے میں کتنا تقسیم ہوا۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے ایک شفاف میٹرنگ اور نگرانی کا نظام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری مساوات کے اصول کے تحت، نئے منصوبوں کا فائدہ شہر کے تمام حصوں تک پہنچنا چاہیے۔ ڈی ایچ اے کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں کے مکین بھی پانی جیسی بنیادی سہولت کے حق دار ہیں، جس کے لیے ایک جامع شہری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مسائل صرف پانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں ٹرانسپورٹ، سیوریج اور بجلی جیسے دیگر چیلنجز بھی شامل ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا قیام بھی شہر کی مجموعی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈملوٹی کا یہ تاریخی ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دور اندیش منصوبہ بندی سے شہروں کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں دستیاب جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی معلومات کو بروئے کار لا کر کراچی کے پانی کے بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کو چاہیے کہ ڈملوٹی کے تاریخی کنوؤں اور آبی تنصیبات کی دستاویز بندی کریں اور انہیں ایک آبی ورثے کے طور پر محفوظ بنائیں۔ نئی نسل کو بھی اس بات سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ کراچی کے پانی کا سفر کس طرح ایک منظم نظام کے تحت شروع ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی قلت میں کمی کا باعث بنے گا۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ شہر کے بہتر مستقبل کی جانب ایک مستحکم پیش رفت ثابت ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/1634/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس میں ہے، مصطفیٰ کمال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/424/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/424/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_یونٹس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پانی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_فنڈز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_پانی_مسئلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک اور بالخصوص صوبہ سندھ کے تمام دیرینہ مسائل کا حتمی اور واحد حل صرف نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ مروجہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور نظام کی اصلاح کے لیے فوری طور پر قدم اٹھانا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور اپنی ذات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ میرا سیاسی یا انتظامی وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، ایسی صورت حال میں میں خود بھی انہیں کیسے تسلیم کر سکتا ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باہمی تعاون کے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا براہ راست ذمہ دار وہاں کے وزیراعلیٰ کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں اور صوبوں کے امور اس انداز سے ہرگز نہیں چلائے جا سکتے جیسے وہاں کی موجودہ قیادت چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حامیوں کو سنجیدہ مشورہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تمام دوستوں کو اب بھی کہتا ہوں کہ وہ کسی بھی صورت میں ریاست مخالف رویہ اختیار نہ کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں مگر اس طرح ریاست کو تباہ نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی حب کراچی کے سنگین مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج دنیا خلا اور چاند پر کمندیں ڈال رہی ہے جبکہ ہمارے سب سے بڑے شہر میں معصوم شہری کتے کے کاٹنے سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اسی فیصد گھروں تک پینے کا صاف پانی ہی مہیا نہیں کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیفنس سے لے کر شہر بھر کی پسماندہ کچی آبادیوں تک پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے جس پر کسی کو کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی غائب رہتی ہے اور صبح کے وقت شہریوں کو گیس کی فراہمی بھی معطل رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کی اہم شاہراہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پچھلے سات سال سے انتہائی خستہ حال اور تباہی کا شکار پڑی ہے۔ اس طویل تاخیر اور سڑک کی خرابی کی وجہ سے پانچ سے سات لاکھ افراد کا روزگار شدید متاثر ہو چکا ہے اور تاجر پریشان ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے قومی معیشت میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا ستر فیصد ریونیو دینے والے اس شہر کے بچے کھلے ہوئے گٹروں میں گر کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے ایک دلخراش واقعے کی یاد دہانی کرائی کہ محض تیس ہزار روپے مالیت کے ایک موبائل فون کی خاطر ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کو بیدری سے قتل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی کے ان دردناک مسائل کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر کسی قسم کی مسکراہٹ نہیں آ سکتی کیونکہ حالات بہت زیادہ ابتر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے شہر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا تو وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مردم شماری کے اعداد و شمار پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جس کی درست اور شفاف آبادی کو شمار کرنے کے لیے صوبائی حکومت کبھی تیار نہیں ہوتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد دو ہزار تیئس کی مردم شماری میں اسی آبادی کو اچانک گھٹا کر ایک کروڑ تیس لاکھ بتا دیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس ناانصافی کا نوٹس لیا گیا اور مردم شماری کے عمل میں چار مرتبہ توثیق کے ساتھ توسیع کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توسیع کے اس عمل کے بعد کراچی کی اصل آبادی مزید تہتر لاکھ افراد کے اضافے کے ساتھ سامنے آئی اور سرکاری کاغذات کے مطابق اب کراچی کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے وسائل کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت قابلِ تقسیم محاصل میں سے ستاون اعشاریہ پانچ فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران تمام صوبوں کو مجموعی طور پر آٹھ ہزار آٹھ سو چوراسی ارب روپے کی خطیر رقم وفاق کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ سندھ کو ملنے والے فنڈز کا حساب کتاب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اکیلے سندھ کو پچھلے سترہ برسوں کے دوران بائیس ہزار ارب روپے کے فنڈز دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی اور بھاری رقوم کے باوجود یہ وسائل عام عوام تک کیوں نہیں پہنچ پائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فنڈز دیانت داری اور شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے تو پورے سندھ کو پچاس مرتبہ نئے سرے سے تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ اندرون سندھ کے دیہی علاقوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غریب خواتین پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے بارہ بارہ کلومیٹر کا طویل سفر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیہی سندھ کی خواتین مجبوری کے عالم میں جانوروں کے پانی پینے کی جگہوں اور تالابوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں جو انسانی حقوق کا سنگین المیہ ہے۔ پمز ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پولی کلینک ٹو کا منصوبہ مقررہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا جہاں فائر سیفٹی کے تمام معیاری انتظامات کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/424/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
