<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاسکو &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاسکو &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>درآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 12:56:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاسکو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک_کی_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدی_گندم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_تنویر_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%b1%d8%a2%d9%85%d8%af%db%8c-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d8%a2%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی پورٹ پر گندم کے بڑے جہاز لنگر انداز، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قیمتوں میں استحکام کی نوید سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی گندم کی بڑی کھیپ پہنچنے کے بعد ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 51 ہزار ٹن گندم لے کر ایک بحری جہاز کراچی پورٹ کے برتھ نمبر 16 اور 17 پر پہنچ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے 3 نومبر کو ایک اور جہاز 59 ہزار 132 ٹن گندم لے کر کراچی پہنچے گا۔ اس طرح دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار ٹن سے زائد گندم درآمد کی جا رہی ہے جس سے مقامی منڈی میں رسد بہتر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز میں گندم کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں اضافہ مصنوعی تھا جس کے پیچھے بعض عناصر کی منڈی میں مداخلت کارفرما تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت اور مکمل اتفاق رائے کے بعد گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں ان کی محنت کا جائز معاوضہ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے 40 سال بعد ایک جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت ملک میں گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔ رانا تنویر حسین نے عوام کو یقین دلایا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدی گندم کے بجائے مقامی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ ملکی زرعی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ پاسکو کے ذخائر سے اب تک صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومتوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک مزید گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ ان اقدامات سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے جی ٹی ایم ایل کے ذریعے کراچی پورٹ پر گندم کی ہینڈلنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ درآمدی گندم کو جلد از جلد ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جا سکے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ترسیل کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ درآمدی گندم کی آمد سے آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا ہوگا جس سے مہنگائی کے ستائے عوام کو بڑی ریلیف ملے گی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور ذخائر کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔ گندم کی سپلائی چین کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں استحکام کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی متحرک کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی سطح پر نگرانی کا نظام مضبوط بنائیں۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے تاکہ منڈی میں شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی زرعی پالیسی میں یہ ایک اہم موڑ ہے جہاں طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے گندم کی قلت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسانوں کی خوشحالی اور صارفین کے لیے سستی روٹی کی فراہمی حکومت کا عزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم کی اپنا گھر اسکیم کے کوائف آسان بنانے کی ہدایت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/639/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/639/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 12:37:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپنا_گذر_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایم_ই]]></category>
		<category><![CDATA[پاسکو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%da%af%da%be%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d9%81-%d8%a2%d8%b3%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت کوائف کی فراہمی مزید آسان بنانے کی ہدایت کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کو آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے امور پر ایک اہم اور تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کا بنیادی مقصد معیشت کے فروغ کے لیے ان اہم ترجیحی شعبوں میں مالیاتی معاونت کی رفتار کو تیز کرنا اور عامتہ الناس بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کے لیے ریلیف کے دائرہ کار کو مزید وسیع بنانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم سے استفاده کرنے والے شہریوں کے لیے کوائف کی فراہمی کے عمل کو جتنا ممکن ہو سکے سادہ اور آسان بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے اس بڑے منصوبے کے تحت اب تک مجموعی طور پر چار سو اڑتالیس ارب روپے مالیت کے پچہتر ہزار ایک سو اٹھانوے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ملک بھر میں اب تک چودہ ہزار سے زائد مستحق افراد کو چھہتر ارب روپے کے قرضے کامیابی کے ساتھ جاری بھی کیے جا چکے ہیں تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے شرکائے اجلاس کو آگاہ کیا کہ رواں سال کے دوران ایک لاکھ پچیس ہزار رہائشی یونٹس کے لیے سات سو ارب روپے کے بھاری قرضوں کی فراہمی کا انتہائی اہم اور بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کی سہولت اور ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاؤسنگ فنانس کی درخواست پر کارروائی کا دورانیہ نمایاں طور پر کم کر کے اب صرف پندره کاروباری دن مقرر کر دیا گیا ہے جو ایک بڑا قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ شہریوں کو سہولت دینے کی غرض سے لازمی دستاویزات کی تعداد بھی پچیس سے کم کر کے صرف پانچ کر دی گئی ہے تاکہ عام آدمی کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی مالی معاونت پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جہاں بتایا گیا کہ زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا موجودہ حجم تیرہ سو باون ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس زرعی مالیاتی تعاون سے ملک بھر کے چونتیس لاکھ سے زائد کسان اور زمیندار براہ راست مستفیض ہو چکے ہیں جو ملکی غذائی سیکیورٹی اور زراعت کی ترقی کے لیے انتہائی خوش آئند بات ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے آئندہ برس یعنی جون دو ہزار ستائیس تک زرعی قرضوں کے اس حجم کو بڑھا کر پندرہ سو ارب روپے کرنے کا عزم کر رکھا ہے جبکہ مستفید کسانوں کا ہدف پینتالیس لاکھ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے تین لاکھ باون ہزار سے زائد افراد کو گیارہ سو سینتیس ارب روپے کے آسان قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جون دو ہزار ستائیس تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بھی قرضوں کے حجم کو بڑھا کر پندرہ سو ارب روپے تک لے جانے کا واضح ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ معیشت مستحکم ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قومی تعمیر و ترقی کے ان اہم ترین ترجیحی شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تمام بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایسے مالیاتی اداروں کو بھی سختی سے تنبیہ کی گئی جو غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی خدمات کے معیار کو فوری طور پر بہتر بنا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاسکو کے غیر فعال گوداموں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فعال بنایا جائے تاکہ کسانوں کی اجناس کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوداموں کے فعال ہونے سے کسانوں کی اجناس کے ضیاع کوروکا جا سکے گا اور ان کی ذخیرہ اندوزی کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے زرعی معیشت کو تقویت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے الائیڈ بینک کی جانب سے اجناس ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو آسان قرضے فراہم کرنے کے جدید ماڈل کو سراہا اور اسے دیگر اداروں کے لیے بھی قابل تقلید قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کو ہدایت دی گئی کہ اپنا گھر اسکیم کے مستفیدین کے لیے کوائف اور غیر متنازع ملکیتی دستاویزات کے حصول کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ وزارتوں کو خصوصی طور پر ہدایت جاری کی گئی کہ جاری اسکیموں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اس ماہ کے اختتام تک اپنی حتمی سفارشات پیش کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/639/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
