<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پابندیاں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پابندیاں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز بلیک لسٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1781/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1781/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_محکمہ_خزانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_امریکا_کشیدگی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba-4/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی محکمہ خزانہ نے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ایران کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا نے ایران کے خلاف اپنی اقتصادی دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں 5 افراد، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نئی پابندیاں &#039;آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ&#039; کے تحت عائد کی گئی ہیں، جس کا مقصد ایران کی جانب سے کی جانے والی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور ان میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے کا حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پابندیوں کی فہرست میں شامل اداروں میں سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم شپنگ ایجنٹس بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر دبئی میں قائم &#039;وائلر شپنگ لائن&#039; نامی کمپنی کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے، جو ایران کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، پابندیوں کی زد میں آنے والے 9 بحری جہازوں کا تعلق پاناما اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ ان جہازوں کو ایران کی اقتصادی معاونت میں کردار ادا کرنے کی بنیاد پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف یہ کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے۔ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے تحت مزید جنگی جہاز اور فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کی جانب سے ان نئی پابندیوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تہران ماضی میں امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر مزید بوجھ ڈالیں گی، خاص طور پر شپنگ اور لاجسٹک کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل بھی کئی کمپنیاں اسی طرح کی پابندیوں کے بعد اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان پابندیوں کو اسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ان پابندیوں کے اثرات کیا ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ فی الحال، واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسی پر قائم رہے گا اور کسی بھی قسم کی معاونت کرنے والے عناصر کو نہیں بخشا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1781/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا کی جانب سے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1376/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1376/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 00:16:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاونت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%86%d9%b9%db%8c%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے روس پر پابندیوں میں نرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا سلسلہ ایک بار پھر بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یوکرین کو دفاعی اور انٹیلی جنس معاونت کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا عمل کچھ عرصے کے لیے عارضی طور پر معطل ہوا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے اس تعاون پر امریکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے اہم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یوکرین اور روس کے مابین جاری تنازع کے دوران امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل عسکری اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اس تعاون کا مقصد یوکرینی افواج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور زمینی حقائق سے آگاہ رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یوکرینی صدر نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق امریکی اقدامات اور روس پر مجوزہ پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی یوکرین کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی سے روس کی معاشی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ براہ راست یوکرین کی سکیورٹی پر اثر انداز ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حالیہ فیصلوں پر نظرثانی کریں گے اور یوکرین کے ساتھ اپنی اتحادی حیثیت کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی حکومت نے بارہا عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت موقف اپنائے اور یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے تازہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے ان اقدامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماسکو ماضی میں بھی مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی مدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ روس کا موقف ہے کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یوکرین اور امریکا کے تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار واشنگٹن کی پالیسیوں پر ہوگا۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے امریکی قیادت پر اعتماد کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین اب بھی مغرب کو اپنا سب سے بڑا حلیف سمجھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر اس پیش رفت کو یوکرین کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بحالی سے یوکرینی افواج کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کے بحران اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1376/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/993/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/993/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 20:36:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیزل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%88%d9%84%d9%88%d8%af%d9%88%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%84%d9%86%d8%b3%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرینی صدر نے روسی ڈیزل کی عالمی منڈی میں فروخت کی اجازت دینے کے امریکی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی عالمی منڈیوں میں فروخت کی اجازت دینے کے معاہدے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس اقدام کو یوکرین کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور کوئلے سے متعلق معاہدوں کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے بعد روسی گیس کی تجارت پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کی جا سکتی ہے، جو روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کے منافی ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ روس کو توانائی کی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینے سے اسے اضافی مالی وسائل حاصل ہوں گے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس فی الحال کسی بھی قسم کے امن مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر زیلنسکی نے روس کے منجمد اثاثوں سے متعلق امریکی تجویز پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین ایسا کوئی بھی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں یہ اثاثے دوبارہ روس کو واپس مل جائیں، کیونکہ یہ یوکرین کے مفادات کے خلاف ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن کی نگرانی میں ایک مالیاتی انتظام کے تحت منجمد روسی اثاثوں کے ایک حصے کو منتقل کرنے کا امکان زیر بحث رہا ہے۔ یوکرین اس حوالے سے مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے کہ یہ اثاثے روس کے لیے دوبارہ دستیاب نہیں ہونے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی نے یورپی یونین کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ روس کے خلاف سخت موقف برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں روس پر اقتصادی دباؤ کو کم کرنا عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور یوکرین کی دفاعی کوششوں کو کمزور کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کے دوران یوکرینی ہم منصب کے لباس کی تعریف بھی کی، تاہم پالیسی معاملات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان واضح اختلافات سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر یوکرین اور روس کے تنازع کے حل کے حوالے سے نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں یوکرین کے لیے مزید امداد اور روس پر نئی پابندیوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور روس کو تنہا کرنے کی پالیسی جاری رکھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم وہ مغربی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے۔ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر روس اپنی برآمدات کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا یہ دورہ برسلز یوکرین کے لیے سفارتی محاذ پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وہ مسلسل یورپی رہنماؤں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روس کے خلاف متحد رہنا ہی خطے میں امن کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، یوکرین اور امریکہ کے درمیان یہ حالیہ کشیدگی عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ یوکرین کی بقا کی جنگ میں توانائی کی برآمدات اور اقتصادی پابندیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں جن پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/993/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/764/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/764/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 00:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکاٹ_بیسنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_امریکا_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران اپنے جائز مطالبات کے حصول تک امریکا کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے مطالبات تسلیم کرائے جانے تک امریکا کے خلاف لڑائی اور مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ نہ تو کسی لامتناہی جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل اور بے نتیجہ مذاکرات میں وقت ضائع کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپیکر پارلیمنٹ نے زور دیا کہ ایران کا بنیادی مقصد ایک پائیدار دفاعی بازدارندگی قائم کرنا ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی حکومت کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی معاشی پابندیوں اور دباؤ کی مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مقرر کردہ تمام ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں مگر ایران بدستور مضبوطی سے قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی اسپیکر نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فزکس کا نوبیل انعام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے ایران پر دباؤ کے نتائج کے حوالے سے کی گئی تمام پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قالیباف کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے وقت کے تصور اور دباؤ کے اثرات کے بارے میں کیے گئے دعوے بے معنی ثابت ہوئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے خلاف معاشی دباؤ کی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک طویل عرصے سے تناؤ پایا جاتا ہے۔ تہران کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا ہے کہ وہ خطے میں بیرونی مداخلت کا مخالف ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اپنا حق سمجھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو کسی بھی جارحیت کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر پیش کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکومت کی جانب سے تہران کے اس تازہ بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، عالمی برادری اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ایران اور امریکا کے تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار دونوں ممالک کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر ہوگا۔ فی الحال ایران نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/764/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
