<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ٹی_ٹی_پی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%b9%db%8c_%d9%b9%db%8c_%d9%be%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 20:26:55 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ٹی_ٹی_پی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[بی_ایل_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سلامتی_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ قبول ہے، ٹھوس اقدامات کے بغیر امن ممکن نہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، سہولت کاری اور حمایت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے سکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ دستاویزی شواہد پر مبنی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ اطلاعات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026ء کے دوران &#039;آپریشن اینڈ یو رنگ سینٹینل&#039; سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے، جس سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار بتائی گئی ہے۔ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکتیں اور دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساخت کے اسلحے کی برآمدگی، ایسے معاملات ہیں جن کی سنجیدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو محض تردید کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان پر قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ دونوں کے مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے سے نہ اصل مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی اس سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری یا عمل درآمد کے لیے استعمال نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان حکومت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی خدشات کو قابلِ تصدیق عملی اقدامات کے ذریعے دور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 19:37:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%ae%d8%af%d8%b4%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے گمراہ کن الزامات عائد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جو کہ افسوسناک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ اس کے سیکیورٹی اقدامات کا مقصد کسی بھی صورت افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے، بلکہ ان اقدامات کا واحد ہدف دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت کے مطابق پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر افغان حکومت اپنی اس بنیادی ذمہ داری سے ہرگز بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ یہ ٹھوس شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ رپورٹس کی روشنی میں سامنے آئے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں ایک تلخ حقیقت ہیں جن کا اعتراف عالمی ادارے بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح امریکی انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین سے کارروائیوں کی کھلی اجازت دیتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے مزید وضاحت کی کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ اور انہیں ملنے والی آزادی پاکستان کے خلاف حملوں میں تیزی کا باعث بنی ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ جائزے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، جن پر فوری اور ٹھوس توجہ دینا افغان حکام کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ موقف کہ افغانستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت یا دلچسپی نہیں رکھتا، دستاویزی شواہد کے سامنے بے وزن ہے۔ سرحد پار دراندازی کی کوششیں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا غیر ملکی ساختہ جدید اسلحہ اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کی ہلاکتیں سنجیدہ جانچ پڑتال اور فوری تدارک کا تقاضا کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد وضاحت کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے زور دیا کہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ افغان عوام کے لیے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا کہ ان کے پاکستانی ہمسایوں کے لیے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان حکومت کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، حمایت اور سہولت کاری کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے جائز دفاعی اقدامات کو دشمنی قرار دے کر اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے، تاہم امن کا دارومدار افغان سرزمین کے درست استعمال پر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1972/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1972/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:17:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹلیجنس]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_لبریشن_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[بی_ایل_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d8%b3-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[گلستان جوہر اور گلبائی چوک کے قریب مشترکہ کارروائیوں میں کالعدم تنظیموں کے تین تربیت یافتہ دہشت گرد دھر لیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">محکمہ انسداد دہشت گردی اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین خطرناک دہشت گردوں کو دھر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد کسی بھی ممکنہ بڑے سانحے کو روکنا ہے۔ گرفتار شدگان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ہینڈ گرنیڈ اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ کارروائی شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جس سے تخریب کاری کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پہلی کارروائی کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستان جوہر میں عمل میں لائی گئی جہاں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی سے وابستہ دو انتہائی مطلوب افراد کو حراست میں لیا گیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی کے دوران دونوں افراد کو مین یونیورسٹی روڈ کے قریب گھیر کر قابو کیا گیا۔ ان دونوں دہشت گردوں کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو پہلے ہی اہم اطلاعات موصول ہو چکی تھیں جن کی روشنی میں یہ کامیاب گھیراؤ مکمل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار ہونے والے دونوں افراد کی شناخت رحیم فضل ولد فضل محمود اور بالاچ بلوچ ولد رسول بخش کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دونوں عناصر اپنے تنظیمی کمانڈروں کی مسلسل ہدایات پر عمل پیرا تھے اور شہر میں موجود تھے۔ ترجمان کے مطابق یہ ملزمان اپنے نیٹ ورک کے دیگر اراکین کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں تھے اور ان کی گرفتاری سے کئی اہم سراغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق ان گرفتار شدگان نے پڑوسی ملک میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور وہ ماضی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور مختلف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، معصوم شہریوں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام سابقہ ریکارڈ کو بھی سامنے لانے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے تیار شدہ آئی ای ڈی بم اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ وہ ان دھماکہ خیز مواد کو شہر کے کسی اہم حساس مقام یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دفتر کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بروقت کارروائی کے باعث ان کے یہ مذموم عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ اپنے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی قانون کی گرفت میں آ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایک اور کارروائی گلبائی چوک کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں فتنتہ الخوارج یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک کا رن دہ دھر لیا گیا۔ اس ملزم کی شناخت شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھی سکیورٹی اداروں نے بڑی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اسے موقع پر ہی قابو کر لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار شدہ اس خوارجی عنصر کے قبضے سے ایک تیس بور پستول، لوڈڈ میگزین اور متعدد گولیاں برآمد کی گئیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ شخص وزیرستان کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں باقاعدہ شریک رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق ایسے عناصر ملک کے طول و عرض میں بدامنی پھیلانے کے ناپاک ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جنہیں آہنی ہاتھوں سے روکا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق یہ خوارجی دہشت گرد اپنے کمانڈر کے حکم پر کراچی پہنچا تھا جہاں اس کا مقصد شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی ریکی کرنا اور اہم مقامات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ یہ ملزم اسلاسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں تخریب کاری کے لیے زمین ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا مگر حساس اداروں کی بروقت نظر نے اس کے تمام ارادے ناکام بنا دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں، پناہ دینے والوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام رابطوں کو کھنگال رہے ہیں تاکہ اس پورے دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ کسی بھی سہولت کار کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار ہونے والے تمام افراد کے خلاف متعلقہ تھانوں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی ادارے ملزمان سے مزید اہم انکشافات متوقع کر رہے ہیں جن کی روشنی میں آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں تمام شواہد کو اکٹھا کر کے چالان عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملک بھر میں بالخصوص بڑے شہروں میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی مشترکہ کارروائیوں کا یہ سلسلہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاست ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ان بروقت کارروائیوں کی بدولت دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حساس اداروں اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی یہ مشترکہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پوری طرح بیدار ہے۔ عوام بھی سکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے دفاع اور امن کے دشمنوں کے خلاف یہ کارروائیاں اس وقت تک بلا تعطل جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد اور اس کا سہولت کار کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے مزید مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1972/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/801/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/801/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 09:38:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ_کا_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کے_خلاف_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d9%86%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ طور پر لڑنا ہوگی اور ریاست کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام قومی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی صوبہ اپنی الگ خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتا اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت چیلنج سے بالاتر رکھا جانا چاہیےَ۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو کسی ایک ادارے یا جماعت کے بجائے اجتماعی طور پر لڑنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیری رحمٰن نے ماضی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین اور کارکنوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ان زخموں سے پارٹی نے بہت کچھ سیکھا ہے اور آئین کی بالادستی پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرتی ہے جو آئین کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جمہوری اقدار کو پروان چڑھایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے سخت اقدامات کے نفاذ سے قبل سیاسی مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر مذاکرات میں کافی سنجیدہ دکھائی دیے تھے اور ان کے جذبے کا احترام کیا جانا چاہیےَ۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیری رحمٰن نے انکشاف کیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران اپوزیشن کے متعدد مطالبات تسلیم کیے گئے تھے اور وہ اپنے بیشتر نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے تو سیکیورٹی اداروں اور پولیس کا کردار مزید مستحکم ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن خود اس سنجیدہ مذاکراتی عمل سے الگ ہو گئی اور بیرونی اثر و رسوخ نے بھی اس عمل کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ معاہدہ طے پا جاتا اور اس پر دستخط ہو جاتے تو بانی پی ٹی آئی کو تمام مطلوبہ سہولتیں دلانے میں پیپلز پارٹی بھی بھرپور کردار ادا کرتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی کی سیاسی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افراد کو واپس لایا گیا تھا جس کے نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب ہمیں اپنی سرزمین پر مکمل طور پر ریاستی عملداری کو بحال کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو بھی ماضی میں جیل میں ڈالا گیا تھا لیکن اس پر کوئی ہنگامہ نہیں برپا کیا گیا۔ اسی طرح فریال تالپور کی گرفتاری کے باوجود پارٹی کی جانب سے کوئی احتجاجی لانگ مارچ یا ہڑتال نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست اور طویل لانگ مارچ موجودہ ملکی مسائل کا کوئی حل نہیں ہیں بلکہ اس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہر شہری کو متاثر کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دشت گردی سے متاثرہ اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ ان علاقوں کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو سب سے مقدم رکھا جانا چاہیےَ۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ قومی سانحات اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور کسی کو بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی رسہ کشی کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے اور اس مقصد کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/801/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_ٹی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d9%b9%d9%88%da%a9-%d9%85%d8%a4%d9%82%d9%81-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مطالبہ کسی بھی خودمختار ریاست کا بنیادی حق ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے شہریوں پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ صرف سفارتی یقین دہانیوں سے دہشت گردی کے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں حملے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ ان گروہوں کی نقل و حرکت اور مالی معاونت کو روکنے کے لیے افغان حکومت کی جانب سے قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن قائم ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوے ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی نقصانات، تباہ شدہ کاروبار اور سماجی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے قومی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں منظور کردہ &#039;عزمِ استحکام&#039; وژن اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کرنا اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کے خلاف صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اس کے لیے قانون کی یکساں عمل داری، سرحدی نگرانی اور مالیاتی ذرائع کی بندش بھی ضروری ہے۔ ریاست کو ان علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا حالیہ اجلاس اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ داخلی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ، تربیت اور مواصلاتی نظام کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کی حفاظت اور ان کے وسائل میں اضافہ داخلی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کا نقصان کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہتا۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے تو اس سے خطے کے معاشی روابط، تجارت اور علاقائی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ امن کا راستہ دھمکیوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ایک دوسرے کی سلامتی کے احترام سے نکلتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر کام کر رہا ہے؛ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف، اور دوسری طرف سفارتی رابطے تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ یہ توازن قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی اعتماد کا تحفظ اس جنگ کا ایک اہم تقاضا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی بحالی، شہدا کے ورثا کی کفالت اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے کم ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، پاکستان کا مطالبہ اصولی ہے اور اس کی کامیابی پورے خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ جب تک دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں ملتی رہیں گی، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/440/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/440/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 15:37:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%af%d9%85-%d9%b9%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d9%be%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئینی تقاضوں کے مطابق کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطے موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان رابطوں کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جو مناسب وقت آنے پر منظر عام پر لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث عناصر کی بڑی تعداد افغانستان سے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی شناخت اور قبائلی پس منظر کے بارے میں بھی مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس سے سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے محسن نقوی نے کہا کہ یہ اقدام آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے آئینی طریقہ کار کے تحت ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کے اختیارات کا استعمال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے بتایا کہ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی آئینی شقوں کا بغور جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے ماہرین کو چیلنج کیا کہ وہ نشاندہی کریں کہ حکومت نے آئین سے باہر جا کر کون سا اقدام اٹھایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ رابطے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ 10 اکتوبر کو بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا گیا تھا تاکہ پیرا 4 میں ضروری ترامیم کے حوالے سے مشاورت کی جا سکے اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب سکیورٹی اہلکار دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے، تو صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ تعزیت کے لیے نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانات دیتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے پارلیمنٹ میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسد قیصر نے دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کا یقین دلایا تھا۔ تاہم، جب حکومت نے مسودے میں 6 ترامیم تجویز کیں تو معاملہ سبوتاژ کر دیا گیا کیونکہ مذاکرات کرنے والوں کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار نہیں تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا فیصلہ حکومت کے لیے ہرگز آسان نہیں تھا، لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے تاکہ قومی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ تاہم، جب قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں تو حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ اجلاس میں وزیر داخلہ کے بیان کے بعد ایوان میں صورتحال پر بحث کی گئی، جس میں حکومتی ارکان نے دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کی حمایت کی۔ حکومت کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور ملک میں امن کا قیام یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں محسن نقوی نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ ملک کی صورتحال اور سکیورٹی خطرات سے متعلق ابہام دور ہو سکیں۔ حکومت اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد کے لیے فیصلے کرتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/440/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 19:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرحدی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[وزارت اطلاعات نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو روکے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک اہم بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے پاکستان میں کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، جنہیں محض بیان بازی سے چھپایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت نے واضح کیا کہ افغان حکومت کو دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا جواب دینا چاہیے اور ان عناصر کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنی چاہیے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ افغانستان میں 6 ہزار کے قریب کالعدم تنظیم کے کارندے موجود ہیں، جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کے شواہد موجود ہیں، جو دوحہ معاہدے اور عالمی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردی کے خطرے سے انکار کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک کے ساتھ پرامن تعلقات اور مذاکرات پر زور دیا ہے، تاہم بامعنی پیش رفت کے لیے افغان طالبان کو انسدادِ دہشت گردی کے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے عالمی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکنا افغان حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے اور نہ ہی دوطرفہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر پاکستان نے بارہا اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، اسی طرح کی توقع دوسروں سے بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان_دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%be%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے باعث پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے جہاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں سرگرم عناصر نظریاتی اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کے اثرات ملک کی مجموعی داخلی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی حکام کے مطابق ان عناصر نے سرحد پار افغانستان میں اپنے ٹھکانے اور پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جہاں سے وہ پاکستانی حدود میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے اسلام آباد کو توقعات تھیں کہ کابل انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے اس مقصد کے لیے افغان حکومت کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر بھرپور رابطے استوار رکھے اور ثبوت بھی فراہم کیے لیکن عملی اقدامات کے فقدان سے صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ مبصرین کے مطابق افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجوہات میں نظریاتی قربت اور داخلی دباؤ کے خدشات شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف برسوں کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2026 کے دوران اب تک دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے سدباب کے لیے سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) رضا محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر پاکستان کے اندر عدم استحکام پھیلانے والے گروہوں کی مالی معاونت میں بھی ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث افراد میں افغان شہریوں کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے جن میں سے کئی کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران پاکستان میں کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 260 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت نام اور خاندانی تفصیلات سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حساس نوعیت کے واقعات میں بھی افغان شہریوں اور سابق اراکین کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سلامتی کے امور کے ماہر خرم عباس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چشم پوشی تک محدود نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کو مالی معاونت اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان صوبوں میں بھرتی کی مہمات کے ذریعے افراد کو سرحد پار کارروائیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق سفیر منصور علی خان کے مطابق افغان طالبان اور بعض عسکریت پسند گروہوں کے درمیان گہرے نظریاتی روابط اور پرانے تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے لیے اپنے سابق ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہ طالبان کی نچلی اور درمیانی سطح کی صفوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی تجربات کی وجہ سے دونوں کے درمیان سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو اپنے اندرونی خلفشار اور بغاوت کا بھی خدشہ ہے کیونکہ سخت قدم اٹھانے سے ان کے اپنے جنگجوؤں میں ناراضی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس تزویراتی مخمصے کی وجہ سے افغان حکومت دوغلے پن کا شکار نظر آتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر منظر زیدی کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں یہ گروہ کسی دوسری حریف تنظیم کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔ اس صورت حال میں کابل انتظامیہ کے لیے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان میں صرف ایک ہی نہیں بلکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ان میں فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ دیگر علیحدگی پسند اور کالعدم گروہ بھی شامل ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل (ر) رضا محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام گروہ طالبان کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار ان امور پر دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اسلام آباد اس حوالے سے عالمی برادری پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
