<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%b9%db%8c%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 01:58:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقل کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/70/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/70/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:58:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسائنمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اساتذہ]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_معیار]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[چیٹ_بوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[نقل]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/70/</guid>

					<description><![CDATA[ایک نئی تحقیق کے مطابق 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی اسائنمنٹس مکمل کرنے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لینے لگے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نقل کے ایک نئے اور سنگین بحران کو جنم دیا ہے، جس سے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق، امریکا میں تقریباً 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی اسائنمنٹس اور تحریری کام مکمل کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رجحان کے باعث تعلیمی عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے ٹیکنالوجی کے ذریعے شارٹ کٹ اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے طلبہ میں سیکھنے کے عمل میں کمی آ رہی ہے اور وہ حقیقی علم حاصل کرنے کے بجائے صرف &#039;سیکھنے کی خوش فہمی&#039; میں مبتلا ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نئے &#039;ہیومنائزنگ&#039; اے آئی پروگرامز اب ایسی تحریریں تیار کر رہے ہیں جو انتہائی مستند اور فطری معلوم ہوتی ہیں، جنہیں پکڑنا مشکل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق، اساتذہ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ڈیٹیکشن سافٹ ویئرز اب ان جدید ٹولز کے سامنے بے اثر ہو چکے ہیں، جس سے &#039;ڈیٹیکٹرز بمقابلہ ایویڈرز&#039; کی یہ جنگ اساتذہ ہارتے دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اساتذہ کا ماننا ہے کہ اگر طلبہ نے اپنی تعلیمی ذمہ داریاں خود پوری نہ کیں تو ان کی تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوں گی، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو تعلیمی معیار میں نمایاں گراوٹ آ سکتی ہے، جس سے ڈگریوں کی ساکھ اور طلبہ کی قابلیت پر سوالات اٹھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکا بھر کی یونیورسٹیاں اور کالجز اب اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو محدود کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ تعلیمی ادارے اب اسائنمنٹس کے بجائے کلاس روم میں تحریری امتحانات اور زبانی پریزنٹیشنز پر زیادہ زور دے رہے ہیں تاکہ طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ، اساتذہ کو اے آئی کے استعمال کے حوالے سے خصوصی تربیت دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر طلبہ کی نگرانی کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف نقل تک محدود نہیں بلکہ نسلِ نو کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن اسے تعلیمی معاونت کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ تعلیمی عمل کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ تعلیمی دیانت داری کو برقرار رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/70/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا نام ایک ہزار سال پرانے وائیکنگ بادشاہ سے منسوب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:19:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انوکھی_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[بلوٹوتھ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جیلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[حیرت_انگیز]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈنمارک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_ورثہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدیم_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ہیرالڈ_بلوٹوتھ]]></category>
		<category><![CDATA[وائرلیس_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[وائیکنگ_بادشاہ]]></category>
		<category><![CDATA[یونیسکو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/64/</guid>

					<description><![CDATA[جدید دور کی وائرلیس ٹیکنالوجی کا نام ڈنمارک کے قدیم بادشاہ ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاروں اور تاریخ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آج کے جدید دور میں جب ہم اپنے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور ہیڈ فونز کو بغیر کسی تار کے آپس میں منسلک کرتے ہیں تو &#039;بلوٹوتھ&#039; کا نام ہمارے سامنے آتا ہے۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ جدید ٹیکنالوجی ایک ایسے وائیکنگ بادشاہ کے نام سے منسوب ہے جو ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ قبل دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قدیم بادشاہ کا نام ہیرالڈ گورمسن تھا، جنہیں تاریخ میں &#039;بلوٹوتھ&#039; کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ قدیم نورس زبان میں اس لقب کو &#039;بلاتون&#039; (Blátǫnn) کہا جاتا تھا، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان کے کسی نیلے یا گلے سڑے ہوئے دانت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ ان کی حکمرانی دسویں صدی عیسوی میں ڈنمارک پر محیط تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔ جیلنگ میں نصب دو قدیم پتھر اس بادشاہ کے دورِ حکومت کی کہانی سناتے ہیں، جو آج بھی تاریخ دانوں کے لیے تحقیق کا مرکز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پتھروں میں سے بڑے پتھر پر کندہ تحریر کے مطابق ہیرالڈ نے پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کیا اور ڈنمارک کے لوگوں کو عیسائی بنایا۔ اس دور میں شمالی یورپ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، تاہم ہیرالڈ نے مسیحیت کو اپنا کر اور ایک متحد ریاست قائم کر کے خطے کی تاریخ بدل دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیلنگ کو ڈنمارک کی &#039;جائے پیدائش&#039; بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود پتھروں پر پہلی بار ملک کا نام تحریری شکل میں درج کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہیرالڈ کا دور ایک پرانے نظام سے نئے اور منظم سیاسی نظام کی طرف منتقلی کا اہم سنگ میل ثابت ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقام پر موجود دو تدفینی ٹیلے، ایک قدیم چرچ اور دیگر آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جیلنگ کبھی اقتدار کا مرکز تھا۔ 1994 میں یونیسکو نے جیلنگ کے ان تاریخی آثار، رون پتھروں اور چرچ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا مشہور لوگو بھی اسی بادشاہ کے نام سے جڑا ہے۔ یہ نشان قدیم نورس رسم الخط کے حروف &#039;ایچ&#039; اور &#039;بی&#039; کو ملا کر تشکیل دیا گیا ہے، جو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب 2023 میں اس ٹیکنالوجی کی 25 ویں سالگرہ منائی گئی تو اس کے بانیوں نے جیلنگ کا دورہ کیا اور ہیرالڈ کا نام اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی۔ میوزیم انتظامیہ نے یہ معذرت قبول کرتے ہوئے انہیں اگلے ایک ہزار برس تک یہ نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایڈم باک، جو کونگیرنس جیلنگ میوزیم کے نگران ہیں، کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ اپنی کامیابیوں پر بہت فخر محسوس کرتے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آج ہیرالڈ زندہ ہوتے تو یہ جان کر بے حد خوش ہوتے کہ دنیا بھر میں اربوں لوگ روزانہ ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کا جیلنگ قصبہ اپنی قدیم تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی کے اس انوکھے ملاپ کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں موجود انٹرایکٹو نمائشیں وائیکنگ عقائد سے عیسائیت تک کے سفر کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہیرالڈ کے والد گورم نے بھی جیلنگ میں اپنی اہلیہ تھیرا کی یاد میں ایک پتھر نصب کروایا تھا، جسے ڈنمارک کا پیدائشی سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقامات صرف جنگجوؤں کی کہانیاں نہیں بلکہ ایک قوم کے ارتقاء اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کی کامیابی نے نہ صرف مواصلاتی نظام کو آسان بنایا بلکہ تاریخ کے ایک گمشدہ باب کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ آج یہ نام صرف ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک قدیم بادشاہ کی میراث کا حصہ بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح ایک ہزار سال پرانی تاریخ اور جدید سائنسی ایجادات کا یہ حسین امتزاج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کے کردار کس طرح آج کی جدید دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ جیلنگ کے یہ پتھر آج بھی تاریخ کے اس راز کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>موبائل سگنل نہ ہونے کے باوجود کال کیسے ممکن ہے؟ وائی فائی کالنگ کی ٹیکنالوجی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[VoLTE]]></category>
		<category><![CDATA[VoWiFi]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کمیونیکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_فون]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_نیٹ_ورک]]></category>
		<category><![CDATA[وائی_فائی_کالنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/62/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق وائی فائی کالنگ کے ذریعے صارفین کمزور سگنلز والے علاقوں میں بھی اپنے نمبر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موبائل فون سگنلز کی عدم موجودگی میں بھی فون کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت اب پاکستان میں عام ہو رہی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوامی آگاہی مہم کے ذریعے &#039;وائی فائی کالنگ&#039; یا &#039;وائس اوور وائی فائی&#039; (VoWiFi) ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکثر اوقات تہہ خانوں، بند عمارتوں یا دور دراز علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کے سگنل کمزور ہو جاتے ہیں، جس سے اہم رابطے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وائی فائی کالنگ ایک بہترین متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے جو صارف کو اپنے ہی موبائل نمبر سے کال کرنے کی سہولت دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی سی ٹی کے ماہر پرویز افتخار کے مطابق روایتی فون کال میں موبائل فون قریبی ٹاور سے رابطہ کرتا ہے، جو کال کو کمپنی کے نیٹ ورک تک پہنچاتا ہے۔ تاہم وائی فائی کالنگ میں یہ عمل مختلف ہوتا ہے اور کال کا ابتدائی سفر موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے طے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی میں صارف کی آواز کو انٹرنیٹ ڈیٹا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو محفوظ راستے سے موبائل کمپنی کے سسٹم تک پہنچتا ہے۔ وہاں سے کمپنی اس کال کو عام کال کی طرح مطلوبہ نمبر تک پہنچا دیتی ہے، جس سے وصول کنندہ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کال وائی فائی کے ذریعے کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائی فائی کالنگ اور واٹس ایپ یا دیگر ایپس کے ذریعے کی جانے والی کالز میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وائی فائی کالنگ موبائل آپریٹر کی اپنی وائس سروس کا حصہ ہے۔ اس کے لیے وصول کنندہ کے پاس کسی مخصوص ایپ یا انٹرنیٹ کا ہونا ضروری نہیں ہے، وہ عام لینڈ لائن پر بھی کال وصول کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سہولت کو استعمال کرنے کے لیے چند تکنیکی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ صارف کے پاس ایسا موبائل فون ہونا چاہیے جو VoWiFi اور VoLTE کو سپورٹ کرتا ہو۔ اس کے علاوہ فون میں فور جی (4G/LTE) سم کا ہونا اور وائس کال یا ایس ایم ایس کا پیکج فعال ہونا بھی لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موبائل آپریٹرز کے مطابق جدید اسمارٹ فونز، جن میں سام سنگ، ایپل، ہواوے، شاؤمی، اوپو اور ویوو کے مختلف ماڈلز شامل ہیں، یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ صارفین اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر کنیکشنز یا سم سیٹنگز کے ذریعے اس فیچر کو فعال کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی فون صارفین سیلولر یا موبائل سروس کے آپشن میں جا کر وائی فائی کالنگ کو آن کر سکتے ہیں۔ اگر کسی صارف کو سیٹنگز میں یہ آپشن نظر نہ آئے تو وہ اپنے متعلقہ موبائل آپریٹر سے رابطہ کر کے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائی فائی کالنگ کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ اس پر وہی نرخ لاگو ہوتے ہیں جو عام کال یا ایس ایم ایس کے لیے طے شدہ ہوتے ہیں۔ یہ سہولت دراصل روایتی موبائل سروس کا ہی ایک جدید تسلسل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی یہ پیشرفت صارفین کے لیے مواصلاتی رابطوں کو مزید آسان بنا رہی ہے۔ اب سگنلز کی کمی کسی بھی اہم گفتگو میں رکاوٹ نہیں بنے گی، بشرطیکہ صارف کے پاس وائی فائی کی سہولت موجود ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں اپنے صارفین کو اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے لیے مسلسل آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔ ویب سائٹس پر موجود ہدایات کے مطابق، اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے فور جی ایل ٹی ای ٹیکنالوجی کا ہونا بنیادی شرط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">VoLTE یعنی &#039;وائس اوور ایل ٹی ای&#039; سے مراد کال کو فور جی نیٹ ورک پر برقرار رکھنا ہے۔ ماضی میں کال کے دوران فون تھری جی یا ٹو جی پر منتقل ہو جاتے تھے، لیکن اب VoLTE کی بدولت آواز کا معیار پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور واضح ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختصراً، وائی فائی کالنگ ایک ایسی جدید سہولت ہے جس نے موبائل نیٹ ورک کی حدود کو ختم کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف گھروں اور دفاتر میں رابطوں کو یقینی بناتی ہے بلکہ ہنگامی صورتحال میں بھی ایک کارآمد ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی کمپنی کا بغیر کھڑکیوں والا جدید طیارہ بنانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:57:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بلینڈڈ_ونگ_باڈی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_طیارہ]]></category>
		<category><![CDATA[جیٹ_زیرو]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زیڈ_4]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_اور_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_ایجادات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</guid>

					<description><![CDATA[جیٹ زیرو نامی اسٹارٹ اپ کمپنی کا تیار کردہ زیڈ 4 طیارہ اپنی منفرد ساخت اور بلینڈڈ ونگ باڈی ڈیزائن کی بدولت فضائی سفر میں انقلاب لائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی جیٹ زیرو نے ایک انتہائی جدید اور منفرد مسافر طیارے کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو اپنی ساخت میں روایتی جہازوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس طیارے کا ڈیزائن فضائی صنعت میں ایک نئی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلیفورنیا میں قائم اس کمپنی نے اپنے اس پروجیکٹ کو زیڈ 4 کا نام دیا ہے۔ اس طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ’بلینڈڈ ونگ باڈی‘ ڈیزائن ہے، جس میں طیارے کے مرکزی حصے اور پروں کو ایک ہموار ساخت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے مطابق اس طیارے کی ظاہری شکل سمندری مخلوق ’اسٹنگ رے‘ مچھلی سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ یہ ڈیزائن روایتی طیاروں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی اور کم اونچائی والی ساخت فراہم کرتا ہے جو اسے ہوا میں زیادہ مستحکم بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید طیارے میں 250 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہوگی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ ایک بار ایندھن بھرنے کے بعد پانچ ہزار میل تک کا طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، جو اسے بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طیارے کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت اس میں روایتی کھڑکیوں کا نہ ہونا ہے۔ کھڑکیوں کے بغیر یہ ڈیزائن طیارے کے وزن کو کم کرنے اور اس کی ایروڈائنامک کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طیارے کے اندرونی حصے کو انتہائی کشادہ بنایا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران زیادہ آرام دہ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ نشستوں کی ترتیب اور کیبن کا ڈیزائن مسافروں کو ایک جدید اور پرسکون ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کا یہ منصوبہ بوئنگ جیسے بڑے طیارہ ساز اداروں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا مقصد روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر ایک ایسا طیارہ متعارف کرانا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور کارکردگی کا بہترین امتزاج ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے سال 2027 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت انجینئرز اور ماہرین طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ اسے فضائی سفر کے معیارات کے مطابق بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائی صنعت کے ماہرین اس منصوبے کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، طیارے کی اصل کارکردگی اور اس کی عملی صلاحیتوں کا حتمی اندازہ آزمائشی مراحل مکمل ہونے اور کامیاب پرواز کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے کی کامیابی سے مستقبل میں ہوائی سفر کے انداز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگر یہ طیارہ اپنی آزمائشوں میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ایوی ایشن کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے جس میں کارکردگی کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کی جانب سے اس جدید طیارے کی تیاری پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ طیارہ اپنی منفرد ساخت اور خصوصیات کے ساتھ مسافروں کی توقعات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس طیارے کے ذریعے فضائی سفر کو نہ صرف تیز تر بلکہ زیادہ کفایت شعار بنانا چاہتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیارے کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے برسوں میں اس طیارے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ فی الحال، جیٹ زیرو اپنی تمام تر توجہ 2027 میں ہونے والی پہلی پرواز کی تیاریوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
