<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ٹیکس_چوری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3_%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 11:37:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ٹیکس_چوری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>توانائی تنصیبات پر حملے معیشت کیلئے تشویشناک ہیں: وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 11:37:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ఎఫ్]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_چوری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_خزانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا پاکستانی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بینکاک میں جاری بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی اقتصادی صورتحال، توانائی کے ذخائر اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندگان کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال نومبر تک کی اپنی تمام تر توانائی کی ضروریات کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے اور حکومت کی جانب سے اب موسم سرما کے مہینوں کی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کے دوران پاکستان میں گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے کی جانب سے توانائی کی طلب میں روایتی طور پر نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان نے حالیہ عالمی چیلنجز کے ابتدائی اثرات کا انتہائی مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے اور ملک میں کسی بھی قسم کی بحرانی کیفیت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں نہ تو ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور نہ ہی پیٹرول پمپس پر شہریوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں، جو کہ حکومت کی بہتر پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں امن و امن کی کوئی ایسی ناخوشگوار صورتحال بھی پیدا نہیں ہوئی جیسی کہ بعض دیگر ممالک میں اس نوعیت کے بحرانوں کے دوران دیکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی درآمدی حکمت عملی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک سرکاری سطح پر انتہائی شدید ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی، اس وقت تک مائع قدرتی گیس کی سپاٹ خریداری نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی فوری درآمدات ہمیشہ پہلے سے طے شدہ اور طویل مدتی معاہدوں کے تحت آنے والی گیس کی کھیپوں کے مقابلے میں کافی زیادہ مہنگی پڑتی ہیں، جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اب براہ راست توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی معاشی سرگرمیوں کی معمول کی بحالی میں طویل تاخیر کا سب سے بڑا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک دیانت دارانہ تجزیے کے مطابق اس وقت یہ پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ کشیدگی اور بحران آخر کار کہاں تک جا سکتا ہے اور اس کے اثرات کہاں ختم ہوں گے۔ تاہم، ان کا یہ مؤقف تھا کہ اگر خلیجی ممالک اور خطے میں توانائی تنصیبات پر حملوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو حالات کو مکمل طور پر معمول پر لانے میں طویل وقت درکار ہوگا، چاہے بعد میں کشیدگی میں کمی ہی کیوں نہ واقع ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے داخلی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل مالیاتی نظم و ضبط اور سخت مالیاتی استحکام کی متوازن پالیسی پر کاربند ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ حالیہ چند برسوں کے دوران ملک کے ٹیکس وصولی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور محصولات کی وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے ان تمام نجی کاروباروں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائیاں کر رہے ہیں جو اپنے صارفین اور خریداروں سے سیلز ٹیکس کی مد میں رقم وصول تو کرتے ہیں لیکن اسے ایمانداری سے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے۔ اس طرح کے غیر قانونی اقدامات اور ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انکم ٹیکس کے نظام کے حوالے سے انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں انکم ٹیکس کی وصولیوں کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے اور اس نظام میں شفافیت لانے کی تاحال کافی گنجائش موجود ہے، جس پر حکومت تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے ٹیکس چوری کا خاتمہ اور محصولات کا حصول موجودہ معاشی ٹیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی اصلاحات کے کٹھن سفر پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ حکومت کے نافذ کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو مختلف صنعتوں، طاقتور دباؤ والے گروپوں اور مختلف مفاداتی حلقوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی حکومت روایتی نظام کو بدلنے اور اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہے تو اس طرح کے مفاداتی حلقے اپنی بقا کے لیے مزاحمت ضرور کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہوئی تھیں۔ اس دوران سپلائی چین کے متاثر ہونے اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے باعث پاکستان سمیت کئی ممالک کو درآمدی بل اور توانائی کے انتظام میں نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکاک کے ان اجلاسوں میں عالمی معاشی اداروں کے رہنماؤں اور مختلف ممالک کے مندوبین نے شرکت کی جہاں عالمی سطح پر توانائی کی حفاظت اور مالیاتی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے بھی ان فورمز پر اپنے اقتصادی نقطہ نظر کو مؤثر انداز میں پیش کیا اور عالمی برادری کو ملکی معاشی اصلاحات سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت آئندہ مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت کو استحکام کی طرف گامزن کرنے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر تھے جن کے مثبت ثمرات اب آہستہ آہستہ معیشت کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
