<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ٹرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ٹرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ملتان میں ریلوے ٹریک پر ہینڈز فری استعمال کرنے والے 2 نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2107/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2107/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:18:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بستی_خداداد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکپتن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[خبر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92-%d9%b9%d8%b1%db%8c%da%a9-%d9%be%d8%b1-%db%81%db%8c%d9%86%da%88%d8%b2-%d9%81%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[کانوں میں ہینڈز فری لگا کر گانے سننے والے دو دوست ٹرین کی آواز نہ سن سکنے پر جان کی بازی ہار گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے علاقے بستی خداداد میں ڈبل پھاٹک کے قریب ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا ہے جہاں ریلوے ٹریک پر موجود دو نوجوان تیز رفتار ٹرین کی زد میں آ کر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو ذرائع اور عینی شاہدین کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق دونوں نوجوان حادثے کے وقت اپنے کانوں میں ہینڈز فری لگا کر موبائل فون کا استعمال کر رہے تھے اور مصروف انداز میں گانے سن رہے تھے جس کی وجہ سے انھیں قریب آنے والی ٹرین کی ہولناک آواز سنائی نہیں دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ المناک اور دلخراش واقعہ اس وقت رونما ہوا جب یہ دونوں دوست ریلوے لائن کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے اور اس غفلت یا لاپرواہی کے باعث ٹرین کی آمد سے بالکل بے خبر رہے جس نے چند لمحوں میں ان کی زندگیاں چھین لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور دونوں نوجوانوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا تاکہ ضابطے کی تمام کارروائی وقت پر پوری کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو حکام نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں کی شناخت اکیس سالہ عبدالرحمن اور بائیس سالہ محمد ندیم کے ناموں سے کر لی گئی ہے جن کے اس اچانک اور ناگہانی انتقال سے پورے علاقے میں شدید سوگ کی فضا پھیل گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان عبدالرحمن کا تعلق مقامی علاقے بستی خداداد سے ہی تھا جبکہ اس کا دوست محمد ندیم پاکپتن کا رہائشی تھا اور وہ کسی سلسلے میں ملتان آیا ہوا تھا جہاں یہ دردناک سانحہ پیش آ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق عبدالرحمن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی موت کی خبر سن کر اس کے گھر میں قیامت صغرا برپا ہو گئی اور لواحقین کا غم سے رو رو کر برا حال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے پولیس بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کیے تاکہ حادثے کے جملہ حقائق کا مکمل تعین کیا جا سکے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو ذرائع نے موقع پر ابتدائی کارروائی اور ضروری ضابطے پورے کرنے کے بعد دونوں نوجوانوں کی لاشوں کو فوری طور پر نشتر اسپتال ملتان منتقل کر دیا جہاں سے قانونی لوازمات کی تکمیل کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریلوے حکام اور ٹریفک ماہرین نے اس دلخراش حادثے کے بعد شہریوں بالخصوص نوجوان نسل سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ بارہا اپیل کی ہے کہ وہ ریلوے ٹریکس کے قریب چلتے وقت یا بیٹھتے وقت موبائل فونز، ہینڈز فری اور ہیڈ فونز کے استعمال سے ہر صورت گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غفلت اور لاپرواہی ماضی میں بھی متعدد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکی ہے اس لیے شہریوں کو ریلوے لائنز کے قریب انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بستی خداداد کے مکینوں نے اس حادثے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی کے قریب ریلوے پھاٹکوں اور ٹریکس کے اطراف حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور ریسکیو حکام کی جانب سے اس سلسلے میں مزید تفتیش کا عمل جاری ہے جبکہ پاکپتن اور ملتان سے تعلق رکھنے والے سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے کے لیے اسپتال پہنچ رہے ہیں جہاں ہر آنکھ اشک بار دکھائی دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2107/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابتدائی_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[امدادی_کارروائیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ریلوے]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحمان_بابا_ایکسپریس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریلوے_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%ad%d8%a7%d8%af%d8%ab/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کی وجہ ٹرین کی کوچ کا پرزہ کراسنگ میں پھنسنا قرار دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے قریب پیش آنے والے رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں حادثے کی وجوہات اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں ڈیڑھ سالہ بچی سمیت 6 مسافر جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ ٹرین کی دوسری کوچ کا ایک پرزہ تھا جو ٹریک کے دوران لٹک رہا تھا۔ یہ پرزہ کراسنگ بلاک سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کوچ نمبر 12430-6 کی فرنٹ ٹرالی کا ٹریس بار ہینگر کراسنگ کی نوز میں پھنس گیا تھا۔ اس رکاوٹ کے باعث پہلے ایک ڈبہ ڈی ریل ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رحمان بابا ایکسپریس کی مزید 13 کوچز بھی پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے وقت ٹرین کا انجن اور لگیج وین کراسنگ سے بحفاظت گزر چکے تھے، تاہم پچھلے حصے میں موجود کوچز اس تکنیکی خرابی کی زد میں آ گئیں۔ ٹرین اس وقت تقریباً 672 ٹن وزنی لوڈ کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کے مقام سے ٹریس بار ہینگر کا باقی ماندہ حصہ بھی مل گیا ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹرین کے پرزے کراسنگ میں پھنسے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کراسنگ کے مقام پر دیگر پرزے بھی پھنسے ہوئے پائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حادثے کے نتیجے میں اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریکس شدید متاثر ہوئے جس سے ریلوے کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور جانے والی ایک اہم ٹرین ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ اس حادثے کے بعد ریلوے حکام نے ٹریک کی بحالی اور واقعے کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کی اموات نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی افراد کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کے اعلیٰ حکام نے حادثے کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ ابتدائی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں تکنیکی ٹیمیں ٹریک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے مسافروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی معیارات پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ حادثے کے بعد ٹرینوں کی بروقت مینٹیننس اور ٹریک کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے حادثے کے مقام پر بروقت پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسز کا استعمال کیا گیا جبکہ مقامی لوگوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
