<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ولودیمیر_زیلنسکی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%88%d9%84%d9%88%d8%af%db%8c%d9%85%db%8c%d8%b1_%d8%b2%db%8c%d9%84%d9%86%d8%b3%da%a9%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 23:37:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ولودیمیر_زیلنسکی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[میزائل_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[ولودیمیر_زیلنسکی]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے توانائی مراکز پر حملے جاری رہنے کے بعد کیف اب جوابی کارروائیاں روکنے کا پابند نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جس کے تازہ ترین واقعے میں یوکرین نے روس کے ریازان ریجن میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ادارے مصروفِ عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریازان کے گورنر پاول مالکوف نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے سے تنصیب کو نقصان پہنچا ہے اور حکام کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ ریفائنری روس کی سرکاری تیل کمپنی روسنیفٹ کی ملکیت ہے اور ملک کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین نے ماضی میں کچھ عرصے کے لیے روسی ریفائنریوں پر حملے معطل کیے تھے، تاہم روس کی جانب سے مسلسل جارحیت کے بعد اب یہ سلسلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کے بجلی گھروں اور توانائی کے اہم مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس سے لاکھوں افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر روس اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا تو یوکرین بھی اپنے دفاعی حق کا استعمال جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی حکام کے مطابق، روس کی جانب سے رواں ہفتے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں ہی یہ کارروائی کی گئی ہے۔ یوکرین کی سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز نے بھی تصدیق کی ہے کہ پولتاوا میں گیس نکالنے کی ایک تنصیب کو نقصان پہنچنے کے بعد وہاں کام معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، کریملن نے یوکرین کے اس اقدام کو امریکی امن کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے حوالے سے ابھی مذاکرات جاری تھے اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ روس نے یوکرین کے وسطی علاقے کیرووہراد میں بھی حملے کیے جن میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن اور کیف کے درمیان بھی اس معاملے پر تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم زیلنسکی نے شرط رکھی ہے کہ اگر امریکا انہیں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے مزید انٹرسیپٹرز فراہم کرے تو وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تنازع میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ایک اہم پہلو بن کر ابھرا ہے۔ یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں میں اسٹارلنک کے استعمال پر پابندیوں اور حدود کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے فوجی استعمال کے فیصلے امریکی حکومت اور فوج کی زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مطابق، ڈرونز پر نصب اسٹارلنک آلات کی کارکردگی میں کچھ مشکلات پیش آئی تھیں، تاہم اب یہ آلات حرکت کے دوران بھی کام کر رہے ہیں۔ البتہ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، یوکرینی بحریہ نے ایک اور اہم دعویٰ کیا ہے کہ روس کے وورونژ ریجن میں واقع بوریسوگلیبسک ایئر فیلڈ پر ایک رات کے حملے کے دوران روس کے چھ ایس یو 34 ایم فوجی طیارے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ بحریہ کے مطابق اس کارروائی میں نیپچون ساحلی میزائل نظام کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ &#039;توانائی جنگ&#039; نہ صرف خطے کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے مابین جاری اس کشیدہ صورتحال نے سفارتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں، وہیں زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریقین اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکا اور یوکرین کے درمیان پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فراہمی پر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں۔ اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی ہی مستقبل میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے تسلسل کا تعین کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
