<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>وزارت_دفاع &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa_%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 15:56:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>وزارت_دفاع &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>منصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 15:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انڈونیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دوحہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی_امن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[مفاہمتی_یادداشت]]></category>
		<category><![CDATA[منصوبہ_بدر]]></category>
		<category><![CDATA[وزارت_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے مابین دفاعی صنعتوں میں اشتراک کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے اور اہم منصوبے &#039;بدر&#039; کی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں جس کا مقصد چاروں برادر اور دوست ممالک کے مابین دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے علاقائی امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور تمام شریک ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والی اس پُر وقار دستخطی تقریب میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع اور متعلقہ اعلیٰ دفاعی حکام نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے دوران دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے کی۔ اس کے علاوہ ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع سمیت دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے بعد اپنے ایک بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس مفاہمتی یادداشت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہمارے مشترکہ پختہ عزم کا واضح مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے خود کفالت کے حصول، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تمام ممکنہ مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اشتراک کا بنیادی مقصد مشترکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیت کی تعمیر میں باہمی تعاون کو وسعت دی جائے گی تاکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی نظام تشکیل دیے جا سکیں۔ یہ اشتراک تمام شریک ممالک کی دفاعی اور تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی وزارت دفاع کی جانب سے اس موقع پر جاری کردہ تفصیلی بیان میں بتایا گیا کہ بدر منصوبے کا اصل ہدف چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار کے شعبے میں طویل المدتی اشتراک قائم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جدید خطوط پر استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کی رو سے دفاعی تربیت کے ساتھ ساتھ تحقیق اور ترقی کے شعبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ اس سے جدید دفاعی تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی اور صنعتی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی جو خطے کے دفاعی ڈھانچے کو مستحکم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبہ بدر کے تحت چاروں ممالک کی انفرادی اور اجتماعی دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا تاکہ دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک اور پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جا سکے، جو کہ ایک مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشترکہ منصوبہ نہ صرف شریک ممالک کی اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ اتحادی اور دوست ممالک کے لیے بھی ایک مضبوط تعاون کا پلیٹ فارم مہیا کرے گا، جس سے تکنیکی شراکت داری کو جلا ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور دیگر برادر ممالک کے مابین اس قسم کے دفاعی معاہدے خطے میں اسٹریٹجک توازن قائم رکھنے اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔ اس سے باہمی اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کا ماننا ہے کہ بدر منصوبہ آنے والے دنوں میں دفاعی پیداوار کے شعبے میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لے گا، کیونکہ اس سے جدید دفاعی آلات کی تیاری میں خود انحصاری کی منزل قریب تر آ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے عملی نفاذ کے لیے جلد ہی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے جو باہمی تعاون کے مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دے کر ان پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
