<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>واشنگٹن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%88%d8%a7%d8%b4%d9%86%da%af%d9%b9%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 05:58:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>واشنگٹن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4945/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4945/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 05:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[ایوان_نمائندگان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کیرولائنا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4945/</guid>

					<description><![CDATA[ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابی عمل منگل کے روز مکمل ہوا جس میں لاکھوں امریکی ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انتخابی نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی نہ صرف روایتی حلقوں تک محدود رہی بلکہ انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس اور آئیووا جیسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ماضی میں ڈیموکریٹس کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخابی لہر نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں سے گہرا عدم اطمینان رکھتی ہے۔ ووٹرز کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی حالیہ کارکردگی پر ایک سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کی وسعت اور گہرائی کا حتمی تعین کرنے کے لیے گنتی کا عمل ابھی بھی جاری ہے، تاہم ابتدائی اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس سیاسی تبدیلی کے بعد امریکی قانون سازی کے عمل میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس اب قانون سازی کے ایجنڈے کو اپنے مطابق ترتیب دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن پارٹی کے لیے یہ شکست انتہائی اہم ہے کیونکہ اس نے ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اب ان نتائج کے اسباب پر غور و فکر کا عمل شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ان نتائج کو عوام کی طرف سے تبدیلی کا مینڈیٹ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت اور پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان نتائج پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی باقی ماندہ مدت کے دوران کانگریس کے ساتھ کس طرح کے تعلقات برقرار رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند دنوں میں جب تمام حلقوں کے حتمی نتائج سامنے آئیں گے تو کانگریس میں نشستوں کی تقسیم کی مکمل تصویر واضح ہو جائے گی۔ اس کے بعد ہی نئی قانون سازی کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انتخابی نتائج امریکی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے قبل کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کا غلبہ تھا۔ اب اقتدار کے توازن میں تبدیلی سے ملکی سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پسِ منظر کے طور پر دیکھا جائے تو امریکی کانگریس کے یہ انتخابات صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کے وسط میں منعقد ہوئے ہیں، جنہیں عام طور پر موجودہ انتظامیہ کی مقبولیت کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں کانگریس کے اجلاسوں میں ڈیموکریٹس کی جانب سے مختلف پالیسیوں پر نظرثانی اور نئے قوانین متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4945/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعینات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4917/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4917/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 00:12:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_مانیٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_کی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرمپ_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن_پوسٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4917/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ انصاف نے تاریخ کی سب سے بڑی مانیٹرنگ کا اعلان کرتے ہوئے تمام پچاس ریاستوں میں عملہ بھیج دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی محکمہ انصاف نے ملک بھر میں انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے بڑے پیمانے پر عملہ تعینات کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ منگل کے روز سامنے آنے والے اس فیصلے کے تحت ملک بھر کی تمام پچاس ریاستوں میں مانیٹرز اور مبصرین بھیجے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی یہ تعیناتی ملکی تاریخ میں الیکشن کے دن کی نگرانی کی سب سے بڑی کوشش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انتخابی عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی گڑبڑ کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی بیان میں ان تمام مخصوص دائرہ ہائے اختیار اور علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جہاں یہ الیکشن مانیٹرز اور مبصرین اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ ان مقامات کا انتخاب وفاقی سطح پر طے شدہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کے ذمے دار حکام نے اس حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان تعیناتیوں میں اولین ترجیح ان علاقوں کو دی گئی ہے جہاں ماضی میں ووٹرز کو پولنگ تک رسائی کے حوالے سے مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مقامات کو بھی خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے جہاں انتخابی ریس انتہائی سخت اور مسابقتی نوعیت کی ہے، جس کی وجہ سے ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق اس پوری نگرانی کے عمل کے دوران ان علاقوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جہاں سیاسی سرگرمیاں اور ووٹرز کا رجحان ایک خاص سمت میں ہوتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ریاستوں کے سیاسی ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے الیکشن کے عمل پر نظر رکھنے کے اس نظام کو مزید سخت اور وسیع کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس انتظامیہ کے دور میں انتخابی نگرانی کے دائرہ کار میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیکشن کے روز تعینات کیے جانے والے ان ایک ہزار مبصرین کا بنیادی کام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کے عمل کا مشاہدہ کرنا اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری رپورٹ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے اس اقدام کا مقصد ملک کے طول و عرض میں انتخابی عمل کی غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ہے۔ ان مانیٹرز کی موجودگی سے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں عام طور پر انتخابات کے موقع پر وفاقی اور ریاستی سطح پر سکیورٹی اور نگرانی کے مختلف انتظامات کیے جاتے ہیں تاہم اس بار پچاسوں ریاستوں میں اتنی بڑی تعداد میں عملے کی موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا ماننا ہے کہ سخت مقابلے والے حلقوں میں ووٹرز کو کسی بھی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے اس قسم کے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے واشنگٹن سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کی جانب سے اس عمل کی نگرانی کے لیے تمام ضروری انتظامی امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ الیکشن کے دن یہ عملہ براہ راست فیلڈ میں موجود رہ کر حالات کا جائزہ لے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کی وفاقی مداخلت یا نگرانی کو امریکی سیاست میں ہمیشہ سے ایک اہم موضوع سمجھا جاتا ہے، جہاں ریاستوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کا توازن ایک حساس معاملہ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن میں موجود حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تعیناتیاں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی شہری کے حقِ رائے دہی پر کوئی آنچ نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے قریب آتے ہی امریکی محکمہ انصاف کی یہ سرگرمیاں سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے انتخابی نتائج اور پولنگ کے عمل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام پچاس ریاستوں میں بیک وقت اتنے بڑے پیمانے پر عملے کی موجودگی امریکی انتخابی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔ محکمہ انصاف آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی جاری کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4917/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں برس کے آخر میں اسرائیل کو امداد بند کرنے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4885/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4885/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 20:12:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_امداد]]></category>
		<category><![CDATA[بنجمن_نیتن_یاہو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکنز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گزه_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[مشی_گن]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4885/</guid>

					<description><![CDATA[ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے طے پا گیا ہے کہ سال کے اختتام پر چار ارب ڈالر کی سالانہ امداد روک دی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن رواں برس کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی چار ارب ڈالر کی سالانہ امداد کا سلسلہ بند کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ باہمی مشاورت اور طے شدہ سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اہم اعلان صدر ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مہینوں پہلے معاہدہ طے پا چکا تھا اور اس سال کے ختم ہونے کے بعد اسرائیل کو مالی رقوم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ اسرائیل کو اب اس مالی امداد کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی کسی اور طریقے سے مدد کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے موقف اختیار کیا کہ بعض ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاستدان ریپبلکنز کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے اس مالی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے وہ مزید تنقید برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حوالے سے دونوں رہنماؤں کے دفاتر یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس امداد کی بندش کا عمل کس طریقہ کار کے تحت انجام پائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل دوطرفہ سمجھوتوں کے تحت سالانہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ سنہ دو ہزار بیس میں کانگریس نے اس امداد کی توثیق کی تھی تاہم ہر سال فنڈز کی فراہمی کے لیے کانگریس سے الگ بل منظور کرانا پڑتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں بالخصوص غزہ جنگ کے بعد سے امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈیموکریٹک حلقوں اور ووٹرز کے اندر اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط امداد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست مشی گن کے انتخابی عمل کے دوران بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری رہی ہے۔ امیدواروں کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے فنڈز بیرون ملک بھیجنے کے بجائے اندرونِ ملک عوامی فلاح پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی ماضی میں اشارہ دے چکے ہیں کہ بدلتے ہوئے امریکی سیاسی حالات کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ کے لیے ملنے والی بھاری امداد کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4885/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی سالانہ چار ارب ڈالر امداد بند کر دے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4879/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4879/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 19:57:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بنیامین_نیتن_یاہو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تل_آبیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فاکس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[فوجی_امداد]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4879/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے طے پانے والے معاہدے کے تحت مالی امداد روکی جا رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر کی امداد بند کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ فیصلہ مہینوں پہلے طے پا گیا تھا اور اب اسرائیل کو اس فنڈنگ کی مزید ضرورت نہیں رہی ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان اس امریکی مالی امداد کو ریپبلکنز پر تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے بطور سیاسی حربہ استعمال کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ سال کے اختتام تک اسرائیل کو مزید ادائیگی نہیں کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر ہی آئندہ مدد کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور یورپ اپنی مرضی کے ہتھیار خرید سکتے ہیں کیونکہ امریکا دنیا کے بہترین ہتھیار تیار کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ بھی تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کس مخصوص فنڈنگ کی طرف تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں سال مئی میں ایک انٹرویو کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ ایک دہائی کے اندر اسرائیل کا امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ بعد ازاں جون میں ایک امریکی رکنِ کانگریس کو لکھے گئے خط میں نیتن یاہو نے تحریر کیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل امداد حاصل کرنے والے ملک کے بجائے ایک شراکت دار کا کردار ادا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ امریکا دنیا کا مقبول ترین ملک بن چکا ہے جس کا دنیا بھر میں احترام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی ووٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی عظمت اور کامیابی برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکنز کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4879/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ آج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4875/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4875/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 19:27:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات_2026]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکنز]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[مڈٹرم_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4875/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ووٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ حکومت پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں شہری کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انتخابات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے دو سالوں کی کارکردگی پر عوامی رائے کا احاطہ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف مبصرین اور سروے رپورٹس کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، سینیٹ پر کنٹرول کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کے لیے یہ انتخابی جنگ تقریباً دس انتہائی حریف ریاستوں میں لڑی جا رہی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے خطوں سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عام طور پر امریکی صدر کی اپنی جماعت کو وسطی مدتی انتخابی عمل کے دوران کانگریس میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ بھر کے پولنگ مراکز پر ووٹرز کی کثیر تعداد موجود ہے جو ملکی معیشت، پالیسیوں اور حکومتی امور پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی مہم کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور امیدوار موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں تبدیلی کی خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری ملکی داخلی امور، افراطِ زر، روزگار اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاستی سطح پر سینیٹ کی نشستوں کے نتائج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ پارلیمانی ایوانوں میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی عمل کو شفاف اور پُرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ووٹرز کی بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے صبح سے ہی پولنگ سٹیشنز کے باہر قطاروں میں کھڑی نظر آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حتمی نتائج پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کے مراحل کے ساتھ ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4875/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4861/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4861/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 16:27:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قشم]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[وسط_مدتی_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4861/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کی ثالثی جاری، امریکہ نے ایران کے جزیرے قشم پر فضائی حملے کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر کسی بھی معاہدے تک پہنچنا تاحال فریقین کے لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کوئی حتمی اور قابلِ عمل معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اس ماحول میں خلیجی ریاست قطر نے فریقین کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو مٹانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری ثالثی کا مقصد امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں کسی بھی ممکنہ نئی کشیدگی اور محاذ آرائی کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی سرگرمیوں کے متوازی طور پر گزشتہ شب امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے قشم کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کارروائیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے انہیں دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی ہدف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ میزائل مبینہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں اور تنصیبات کے خلاف استعمال کیے جا رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اور امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر مزید وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ فضائی حملے دائرہ کار میں محدود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ہرگز یہ اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ خطے میں کسی بڑی فوجی یلغار کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن کے قیام کے لیے قطری سفارت کار دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مفاہمت کی ان کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ میں جاری اس محاذ آرائی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جزیرہ قشم پر ہونے والے ان حالیہ حملوں کے بعد فریقین کے مابین تناؤ میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دونوں اطراف سے سفارتی رابطوں کو بھی تاحال مکمل طور پر منقطع نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4861/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4859/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4859/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 15:58:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فائر_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[میلنیا_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی خاتونِ اول جنگ زدہ فریقین کے مابین ملاقات کی میزبانی کریں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کی خاتونِ اول میل نیا ٹرمپ واشنگٹن میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی کے فرائض انجام دیں گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے فریقین کو مدعو کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے یوکرین کے ساتھ نئے امن مذاکرات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ ملاقات فائر بندی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے واشنگٹن میں منعقد کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت کو امریکی تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں جنگ زدہ ممالک کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تقریب کے انعقاد کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شرکاء کے ناموں یا اس اجلاس میں شرکت کرنے والی شخصیات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام اور سفارتی ذرائع کی جانب سے بھی اس سلسلے میں تصدیق سامنے آ چکی ہے کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں اس ملاقات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ماسکو کی طرف سے یوکرین میں مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باوجود سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی خاتونِ اول کو اولیشکی میں ریلیف کے لیے طے پانے والی عارضی فائر بندی کے معاملے پر بھی سراہا گیا ہے۔ اس امدادی فائر بندی کو دونوں فریقین کے مابین کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازع کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس متوقع ملاقات کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران فائر بندی کے نفاذ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے امور پر بات چیت کی توقع ہے۔ ماہرین اور مبصرین اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اس ملاقات کی تیاریوں کے حوالے سے مزید معلومات وقت آنے پر شیئر کی جائیں گی۔ انتظامیہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے پرامید دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے بحران کے حل کے لیے ماضی میں بھی متعدد بین الاقوامی کوششیں کی جا چکی ہیں جن کے دوران مختلف ممالک نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اب واشنگٹن میں ہونے والا یہ اجلاس اس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے امن مذاکرات کی تصدیق کے بعد عالمی منڈی اور سیاسی حلقوں میں اس کے مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندگان اس ملاقات میں اپنے اپنے مؤقف کی ترجمانی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے رابطے کا مقصد فریقین کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس تمام عمل کے دوران سکیورٹی اور دیگر پروٹوکول کے امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے انعقاد سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مختلف محاذوں پر کشیدگی میں کمی بیشی دیکھی گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن کا یہ اقدام امن کی بحالی کی جانب ایک انوکھا اور غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4859/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا کا ایران میں مزید ایک دو اہداف کو نشانہ بنانے کا عندیہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4426/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4426/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 13:13:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عسکری_اہداف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%88-%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7%d9%81/</guid>

					<description><![CDATA[صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے، مذاکرات جاری ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی عسکری طاقت کا بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی ایک یا دو ایسے اہداف باقی ہیں جنہیں نشانہ بنانا باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تاہم انہوں نے فریقِ ثانی کی ساکھ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اس معاملے میں کسی بھی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تہران کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان پر مزید حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔ ایران نے اپنے دفاع کے لیے جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی یہ جنگ تاحال جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4426/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی حکومت کی افغان مہاجرین کو پاکستان بدر کرنے کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4159/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4159/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 10:19:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_مہاجرین]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%81%d8%a7%d8%ac%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ پیر کے روز افغان مہاجرین کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کی پروازیں شروع کر سکتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کو پاکستان اور افغانستان بدر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اس عمل کا آغاز پیر کے روز سے متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے ان افراد کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جو ماضی میں امریکی افواج کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا ذرائع اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ کی جانے والی پروازوں اور ان کی منزل کے حوالے سے حتمی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سے قبل قطر کے کیمپ السیلیہ میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی ہے اور امریکی وزارتِ خارجہ نے ان کے انخلا کی ڈیڈلائن میں کئی بار توسیع کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم &#039;افغان ایواک&#039; نے امریکی انتظامیہ کے اس ممکنہ فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اس عمل کو ایسے وقت میں انجام دینے کی تیاری کر رہی ہے جب امریکی مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنظیم کے مطابق حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ان پروازوں میں سوار افراد کو ان کی منزل پر پہنچنے کے بعد کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اس مجوزہ اقدام کے بعد مہاجرین کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4159/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
