<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.8.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نیٹ_فلکس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%86%db%8c%d9%b9_%d9%81%d9%84%da%a9%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 20:17:14 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>نیٹ_فلکس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نیٹ فلکس نے 2030 فٹبال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرلیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%81%d9%84%da%a9%d8%b3-%d9%86%db%92-2030-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%ad%d9%82/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%81%d9%84%da%a9%d8%b3-%d9%86%db%92-2030-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%ad%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 20:17:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسپورٹس]]></category>
		<category><![CDATA[اسپین]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرتگال]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فٹبال]]></category>
		<category><![CDATA[فٹبال_ورلڈ_کپ]]></category>
		<category><![CDATA[فیفا]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ٹیم]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[مراکش]]></category>
		<category><![CDATA[نشریاتی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[نیٹ_فلکس]]></category>
		<category><![CDATA[ورلڈ_کپ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%81%d9%84%da%a9%d8%b3-%d9%86%db%92-2030-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%ad%d9%82/</guid>

					<description><![CDATA[مشہور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپین اور انڈورا کے ناظرین کو ایونٹ کے تمام میچز دکھائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی شہرت یافتہ ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے سنہ دو ہزار تیس کے فٹبال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کر لیے ہیں جو کہ اس ادارے کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز اب روایتی ٹیلی ویژن نشریات کے مقابلے میں کھیلوں کے بڑے میلوں کی براہ راست ترسیل میں بھی نمایاں کردار ادا کرنے لگی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے اس میگا سپورٹس ایونٹ کی میزبانی مشترکہ طور پر مراکش، پرتگال اور اسپین کے سپرد کی گئی ہے جبکہ اس کے تمام ایک سو چار میچز اسپین اور انڈورا کے ناظرین تک اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔ دنیا بھر کے کھیلوں کے تجزیہ کار اس پیش رفت کو نشریاتی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کی رو سے اسپین کے علاقے میں ہر میچ ڈے پر ایک میچ بالکل مفت دیکھنے کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ عام شائقین بھی اس عالمی مقابلے سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس کے علاوہ میچوں کا ایک خصوصی پیکج ملک کے مقامی فری ٹو ایئر ٹی وی چینل پر بھی نشر کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹی وی پیکج میں اسپین کی قومی فٹبال ٹیم جسے شائقین محبت سے لا فیوریا روخا کہتے ہیں کے تمام میچز کو شامل کیا گیا ہے تاکہ مقامی شائقین اپنی پسندیدہ ٹیم کے ایک ایک پل سے جڑے رہیں۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے دونوں سیمی فائنلز اور انتہائی اہم فائنل مقابلہ بھی اس نشریاتی اشتراک کا حصہ ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب برطانیہ جیسے ممالک میں صورتحال کچھ مختلف ہے جہاں اس نوعیت کے اہم ترین کھیلوں کے مقابلوں کو اب بھی حکومت کی جانب سے کراؤن جیول یعنی قومی ورثے اور اہم کھیلوں کی فہرست میں خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ برطانوی قوانین کی رو سے ان اہم ایونٹس کی نشریات صرف اور صرف روایتی اور زمینی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے توسط سے ہی کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافشٹروم نے اس تاریخی معاہدے اور نشریاتی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توسیع شدہ ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس اور دو ہزار تیس دنیا بھر کے فٹبال کے تمام شائقین کے لیے ایک ناقابل فراموش اور یادگار ایونٹ ثابت ہوگا۔ کھیلوں کے منتظمین کو توقع ہے کہ اس طرح کے نئے معاہدوں سے کھیل کی رسائی دنیا کے کونے کونے تک مزید بہتر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل بھی نیٹ فلکس کے پاس خواتین کے فٹبال ورلڈ کپ کے حوالے سے اہم عالمی سطح کے خصوصی نشریات کے حقوق موجود رہے ہیں جو وہ آئندہ برسوں یعنی دو ہزار ستائیس اور دو ہزار اکتیس کے دوران استعمال کرے گا۔ اس تجربے کی بنیاد پر ہی اب اس ادارے نے مردوں کے ورلڈ کپ کے میدان میں بھی قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سے کھیلوں کے روایتی نشریاتی حقوق کی خریداری کا یہ رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور ناظرین کی بڑی تعداد اب کیبل یا ٹی وی کے بجائے انٹرنیٹ اسٹریمنگ کو ترجیح دے رہی ہے۔ فٹبال کے پرستار اس نئی تبدیلی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے وہ اپنے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور سمارٹ سکرینز پر دنیا بھر کے میچز باآسانی دیکھ سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے برسوں میں اسٹریمنگ سروسز اور کھیلوں کی عالمی تنظیموں کے درمیان اس قسم کے مزید معاہدے طے پانے کی توقع کی جا رہی ہے جس سے کھیلوں کی صنعت کو ایک نئی معاشی سمت ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی یہ ترقی آنے والے وقتوں میں کھیلوں کے دیکھنے کے پورے ماحول کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپین اور انڈورا کے ناظرین کے لیے یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی فٹبال ورلڈ کپ کا تمام تر احوال ایک ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروس کے توسط سے ملاحظہ کریں گے۔ نیٹ فلکس کی یہ انتظامی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی روایتی تفریح کے ساتھ ساتھ اب لائیو اسپورٹس براڈکاسٹنگ کی دنیا میں بھی اپنے قدم مضبوطی سے جمانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیفا کی جانب سے بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کھیلوں کی نشریات کو زیادہ سے زیادہ عام فہم اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ناظرین تک پہنچایا جائے۔ اس تمام پس منظر میں دو ہزار تیس کا ورلڈ کپ روایتی میڈیا اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان تعاون کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شائقینِ فٹبال اس بات کے منتظر ہیں کہ مراکش، پرتگال اور اسپین میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ کس طرح میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر نئے ریکارڈ قائم کرتا ہے۔ اس پورے نشریاتی انتظام کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں ٹیلی ویژن چینلز اپنی اہمیت کھو بیٹھیں گے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھیلوں کے عالمی میڈیا اداروں کے مطابق نشریاتی حقوق کی یہ جنگ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گی کیونکہ مختلف ڈیجیٹل نیٹ ورکس بڑی قیمتیں ادا کر کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ فیفا کے حکام کو امید ہے کہ ان فیصلوں سے نہ صرف مالی استحکام آئے گا بلکہ فٹبال کا کھیل دنیا کے ہر کونے میں مزید مقبول ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%81%d9%84%da%a9%d8%b3-%d9%86%db%92-2030-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%ad%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
