<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نیب_ڈی_جی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%86%db%8c%d8%a8_%da%88%db%8c_%d8%ac%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 09:17:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>نیب_ڈی_جی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی تقرری انکوائری بند</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:17:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_حسن_اظہر_رضوی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شہزاد_سلیم]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نیب_انکوائری]]></category>
		<category><![CDATA[نیب_تقرری]]></category>
		<category><![CDATA[نیب_ڈی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_آئینی_عدالت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے نیب کی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے قومی احتساب بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ان کی تقرری سے متعلق جاری انکوائری کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اہم قانونی معاملے پر دو رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا ہے جس میں درخواست گزار کے مؤقف کو مکمل طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی جس کے دوران نیب حکام کی کارکردگی، طریقہ کار اور تاخیر پر انتہائی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں ادارے کی جانب سے اس طویل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران سابق عہدیدار شہزاد سلیم کے وکیل نے عدالت کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے تقرری کے معاملے پر نو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد انکوائری کا آغاز کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہ قانونی امور پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس طویل تاخیر پر سخت استفسار کیا کہ کیا احتساب ادارہ اتنے سال تک غفلت کا شکار سویا رہا تھا اور اتنی طویل مدت گزر جانے کے بعد اس معاملے کو اچانک کیوں یاد رکھا گیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ تقرری کی جانچ پڑتال کا عمل متعلقہ ادارے کو بروقت اور قانون کے مطابق مکمل کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو اس بات کا اعتراف کیا کہ انکوائری کے عمل میں جو تاخیر ہوئی ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری ادارے پر ہی عائد ہوتی ہے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ پر موجود دستاویزات کے مطابق ابتدائی تقرری کے اس عمل میں ضابطے کی خامیاں موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے تھے تو اس وقت ان تمام امور کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف پروموشن کے معاملات نہیں بلکہ اصل تعیناتی کے پورے پراسیس کو بھی دیکھا جانا ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ اعلیٰ عدالت کے حکم کی روشنی میں شہزاد سلیم کی تمام ترقیوں کے عمل کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے تمام دلائل غور سے سننے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے انکوائری ختم کرنے کا حتمی اعلان کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ قانونی کارروائی سابق ڈی جی نیب کی تقرری اور محکمانہ ترقیوں کے تنازع سے جڑی ہوئی تھی جو عدالت میں کافی عرصے سے زیر غور رہی تھی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سابق عہدیدار کے خلاف جاری یہ مخصوص تحقیقاتی عمل اب قانون کے مطابق مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتساب کے اداروں کے امور اور ان کی کارکردگی پر ملک بھر میں قانونی حلقوں کی جانب سے ہمیشہ سے بحث کی جاتی رہی ہے کہ آیا تحقیقات کا عمل بروقت ہوتا ہے یا نہیں۔ اس کیس میں بھی عدالت نے اسی نکتے کو اٹھایا کہ نو سال بعد کارروائی کا آغاز کرنا اداروں کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ اور آئینی عدالتوں کے فیصلوں میں اس بات کو بارہا دہرایا گیا ہے کہ قانون کے تقاضے مقررہ وقت پر پورے ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی شخص کے خلاف غیر ضروری اور طویل قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔ شہزاد سلیم کے وکیل نے بھی اسی نکتے پر زور دیا کہ جب سپریم کورٹ نے تمام معاملات پہلے ہی طے کر دیے تھے تو دوبارہ انکوائری کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ نیب نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے وقت پر کارروائی کیوں نہیں کی تھی۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے تاخیر کا اعتراف کیے جانے کے بعد عدالت کے لیے فیصلہ کرنا مزید واضح ہو گیا کہ اس نوعیت کے تاخیری حربے عدل و انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد سابق ڈی جی نیب کو اس انکوائری کے حوالے سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے جو طویل عرصے سے ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں اپیل منظور کرتے ہوئے کیس کو ختم کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز جج نے سماعت کے دوران جس طرح ریمارکس دیے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدالتیں اب اداروں کی جانب سے بلاجواز تاخیر اور سستی کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تمام متعلقہ قانونی فریقین نے عدالت کے اس فیصلے کو غور سے سنا اور کارروائی اپنے انجام کو پہنچی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
