<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>میک_ماسٹر_یونیورسٹی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%db%8c%da%a9_%d9%85%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d8%b1_%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 18:18:01 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>میک_ماسٹر_یونیورسٹی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 18:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[الٹرا_پراسیسڈ_غذائیں]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریوں_سے_بچاؤ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائی_عادات]]></category>
		<category><![CDATA[فالج]]></category>
		<category><![CDATA[متوازن_غذا]]></category>
		<category><![CDATA[میک_ماسٹر_یونیورسٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی اجزاء سے بھرپور غذاؤں کا کثرت سے استعمال دماغی نقصان اور فالج کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جدید دور میں ہماری غذائی عادات میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق نے ان غذاؤں کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میک ماسٹر یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی جانب سے کی گئی یہ تحقیق طبی جریدے &#039;جاما نیٹ ورک اوپن&#039; میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد پراسیس شدہ غذاؤں اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد اپنی روزمرہ خوراک میں الٹرا پراسیسڈ اشیاء کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ میں ایسے نقصانات کی علامات ظاہر ہونے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے جو فالج کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں میں ایسے کیمیائی اجزاء اور مصنوعی مٹھاس شامل ہوتی ہے جو عام طور پر گھروں میں کھانا پکانے کے دوران استعمال نہیں کی جاتی۔ یہ اجزاء طویل مدتی بنیادوں پر جسمانی اور دماغی افعال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان غذاؤں کی فہرست میں سافٹ ڈرنکس، چپس، کوکیز، کریکرز اور ٹافیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈبوں میں بند میکرونی، پنیر، منجمد تیار شدہ کھانے، فوری استعمال کے لیے دستیاب اشیاء اور پراسیس شدہ گوشت بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان اشیاء کا کثرت سے استعمال نہ صرف وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ قلبی اور دماغی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی کے لیے قدرتی غذاؤں کا انتخاب ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں شامل صحت مند افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ غذا میں موجود مصنوعی کیمیکلز اعصابی نظام اور دماغی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ اثرات وقت کے ساتھ ساتھ فالج جیسے جان لیوا مرض کی راہ ہموار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرز زندگی میں سہولت کی تلاش میں ہم غیر صحت بخش غذاؤں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ گھر میں تیار کردہ تازہ اور متوازن غذا کا استعمال ہی ایسی بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق کی اشاعت کے بعد طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی خوراک میں پھلوں، سبزیوں اور قدرتی اجزاء کو شامل کریں۔ پراسیس شدہ اشیاء کے استعمال میں کمی لانا طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات پر دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہماری غذا کا براہ راست تعلق ہماری ذہنی اور جسمانی کارکردگی سے ہے، جسے نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فالج اور دیگر دائمی امراض کے پیچھے ناقص غذائی عادات ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہیں تاکہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کون سے مخصوص اجزاء دماغی نقصان میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال، احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غذائی عادات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ مصنوعی اور پراسیس شدہ غذاؤں سے دوری اختیار کر کے ہم نہ صرف فالج بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
