<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مہلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%db%81%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 09:57:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>مہلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور میں ایل پی جی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ، ڈسٹری بیوٹرز کی ہڑتال کی دھمکی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 09:57:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تاجر_احتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈسٹری_بیوٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راوی_روڈ]]></category>
		<category><![CDATA[سیلاب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_سپلائی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[مریم_نواز]]></category>
		<category><![CDATA[مہلت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے انتظامی کارروائیوں کے خلاف حکومت کو ہفتے تک کی مہلت دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی سپلائی کا نظام شدید خطرات کی زد میں آ گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے خلاف ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے ہڑتال کرنے کی سخت دھمکی دے دی ہے۔ اس حوالے سے شہر کے اہم مقام راوی روڈ پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تاجروں اور دکانداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانا اور آئندہ کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا تھا تاکہ کاروباری طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کی کارروائی کے دوران ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ کے رویے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دکانداروں کا کاروبار کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمد اجمل کے علاوہ دیگر نمایاں رہنماؤں عبداللہ خان، تحصیل خان اور زرداد خان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو کاروبار مزید جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاجر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کے اہلکار بلاجواز طور پر ایل پی جی کی دکانوں کا رخ کر رہے ہیں اور تاجروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے عملے کی جانب سے نہ صرف دکانوں کو بلاجواز سیل کیا جا رہا ہے بلکہ دکانوں میں موجود گیس کے سلنڈرز اور دیگر ضروری سامان بھی زبردستی ضبط کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ دکانداروں کو بلاوجہ کے قوانین کی آڑ میں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں اپنے کاروبار سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض سرکاری اہلکار مبینہ طور پر دکانداروں سے رشوت اور بھتہ طلب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دکاندار مبینہ طور پر ان کے مطالبات پورے کرنے سے انکار کرتے ہیں یا بھتہ دینے سے گریز کرتے ہیں، انہیں جان بوجھ کر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے غریب اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے دکانداروں کا جینا محال ہو چکا ہے اور وہ ذہنی کوفت کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ڈیلرز اور تاجروں کی جانب سے اجلاس کے دوران ایک بہت بڑا دعویٰ سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ اب تک کی جانے والی مختلف کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر چودہ کروڑ روپے مالیت کا سامان ضائع اور تباہ کیا جا چکا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس بھاری مالی نقصان کی وجہ سے کئی چھوٹے دکاندار مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے بھی ذرائع باقی نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے کا سامان تباہ کرنے سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں حکومت کو ایک واضح انتباہ جاری کیا گیا اور ہفتے تک کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کی طرف سے دکانوں کے خلاف کی جانے والی تمام چھاپہ مار کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر دی گئی مدت کے اندر یہ کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے کاروبار کو معطل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلان کے مطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے پر شہر بھر میں ایل پی جی کی دکانیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی سخت احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور کاروبار کی بندش سے پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ وہ تاجروں کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے زبردستی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی دائرہ کار کو ضرورت پڑنے پر مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل تیار کیا جس کے تحت حکومتِ پنجاب سے پُر زور اپیل کی گئی کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے۔ تاجروں نے بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں ذاتی دلچسپی لیں اور ضلعی انتظامیہ کے ان اقدامات کو رکوانے کے لیے احکامات صادر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے وہ تاجر برادری کے مشکلات کا ازالہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت سے اپنے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے ایل پی جی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ گیس کے اس کاروبار کو چلانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح اور قابلِ عمل ایس او پیز یعنی معیاری طریقہ ہائے کار تشکیل دے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے انتظامیہ اپنی مرضی تشریح کرتی ہے اور دکانداروں کو بلاوجہ تنگ کرتی ہے۔ تاجروں کا اصرار تھا کہ اگر ایک بار تحریری اور شفاف اصول طے ہو جائیں تو اس طرح کے تنازعات سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مسائل کے مستقل حل کے لیے ایسوسی ایشن نے ایک اور اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دکانداروں کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کرے اور اس کے بعد باضابطہ لائسنس جاری کیے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والے عناصر کا دفاع ہرگز نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر دکاندار قانونی طریقے سے اپنا کاروبار چلائے۔ تربیت اور لائسنس کے اجراء سے نہ صرف حکومت کی رٹ قائم ہوگی بلکہ تاجر بھی سکون کے ساتھ اپنا روزگار کما سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے جذبے کا اعادہ کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاست اور اداروں کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت شہر میں غیر قانونی دکانوں کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے تو تاجر خود انتظامیہ کی رہنمائی کریں گے تاکہ ایسے عناصر کو سامنے لایا جا سکے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس پیشکش کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ تاجر برادری قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے لیکن وہ بلاجواز ظلم اور انتقامی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حفاظتی اقدامات اور ایس او پیز کے نفاذ کے حوالے سے بھی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ذمے داری کا احساس دلایا اور کہا کہ گیس سلنڈرز کی ہینڈلنگ میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دکاندار اپنے کاروبار کے دوران تمام تر حفاظتی اصولوں کو اپنانے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں حکومتی سطح پر ایک سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر حکومت انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کر دے تو وہ خود بخود ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں تمام تاجروں اور ڈسٹری بیوٹرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہفتے کے اندر انتظامیہ کی طرف سے مثبت جواب نہ ملا تو وہ اپنے اعلان کے مطابق عملی قدم اٹھائیں گے۔ تاجر برادری نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ حکام ہوش سے کام لیتے ہوئے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچائیں گے اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی پرامن اور منصفانہ حل نکالا جائے گا تاکہ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے جو اس تمام صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
