<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.17.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>موبائل_ٹاور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%84_%d9%b9%d8%a7%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 26 Oct 2026 16:58:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>موبائل_ٹاور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-100-%d9%81%d9%b9/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-100-%d9%81%d9%b9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 16:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اتر_پردیش]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بہریچ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پسند_کی_شادی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عجیب_واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_ٹاور]]></category>
		<category><![CDATA[نکاح]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیو_کال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-100-%d9%81%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[اتر پردیش میں خاندان کی مخالفت پر لڑکی نے ٹاور پر چڑھ کر ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بہریچ میں پسند کی شادی کے حصول کے لیے ایک انوکھا اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک 19 سالہ لڑکی نے اپنے محبوب سے نکاح کے لیے 100 فٹ بلند موبائل ٹاور کا سہارا لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مٹی پور کے علاقے کے گاؤں عشرینہ میں پیش آیا۔ مہک نامی لڑکی کا 21 سالہ نورالدین کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ سے تعلق قائم تھا، جسے دونوں خاندانوں کی جانب سے برادری کے فرق کی بنا پر مخالفت کا سامنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شادی کے معاملے پر اپنی والدہ کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد مہک نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے صبح چھ بجے موبائل ٹاور پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔ لڑکی نے ٹاور کی بلندی پر پہنچ کر دھمکی دی کہ اگر اسے زبردستی نیچے اتارنے کی کوشش کی گئی تو وہ چھلانگ لگا دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس اہلکاروں نے تقریباً چار گھنٹے تک لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی تاکہ وہ بحفاظت نیچے اتر آئے، تاہم مہک اپنے مطالبے پر ڈٹی رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق لڑکا نورالدین روزگار کے سلسلے میں دو ماہ قبل ممبئی منتقل ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے معاملے کو حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ پولیس نے دونوں خاندانوں کے بزرگوں کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا اور انہیں شادی پر راضی کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانوں کی رضامندی کے بعد ایک مقامی قاضی کو موقع پر طلب کیا گیا۔ نکاح کے لیے ممبئی میں موجود نورالدین سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا نکاح ٹاور پر ہی آن لائن پڑھا دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نکاح کے بعد نکاح نامے پر دستخط کی کارروائی بھی مکمل کی گئی۔ اس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ لڑکی کو ٹاور سے نیچے اتارا، جس کے بعد کئی گھنٹوں سے جاری کشیدہ صورتحال بحفاظت اختتام پذیر ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے مقامی سطح پر ایک بڑی ہلچل پیدا کر دی تھی، کیونکہ لڑکی کی جانب سے ٹاور پر چڑھنے کے بعد سے ہی علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں ٹاور کے نیچے جمع ہو گئے تھے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم انتہائی خطرناک تھا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی بہتر طریقہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں کے مطابق مہک اور نورالدین کافی عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور دونوں ہی شادی کے لیے سنجیدہ تھے۔ تاہم برادری کے مسائل اور روایتی رکاوٹوں نے اس رشتے کو قانونی شکل دینے میں کافی مشکلات پیدا کر رکھی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث رہا، جہاں صارفین نے اس غیر معمولی طریقے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ لوگوں نے اسے جذباتی اقدام قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے شادی کے لیے ایک انوکھا راستہ بتایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے تصدیق کی ہے کہ نکاح کے بعد دونوں خاندانوں نے باہمی رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد لڑکی کو اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔ اب دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض اوقات خاندانی دباؤ اور سماجی رکاوٹیں نوجوانوں کو انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بہریچ پولیس نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے بعد کیس کو بند کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-100-%d9%81%d9%b9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
