<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.8.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>معاہدے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%92/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 20:58:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>معاہدے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سعودی عرب میں ریاض میٹرو کی توسیع، اربوں ریال کی نئی ٹرینوں کا معاہدہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b6-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%b3%db%8c%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b6-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%b3%db%8c%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 20:58:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اب్రహیم_بن_محمد_السلطان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[الستوم]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_ٹرانسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانسپورٹ_سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روڈ_پروجیکٹس]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض_میٹرو]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفر_کی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[سیمنز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مڈل_است]]></category>
		<category><![CDATA[معاہدے]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b6-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%b3%db%8c%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ریاض میٹرو کے فلیٹ میں اضافے کے لیے ساڑھے پانچ ارب ریال کی لاگت سے 94 نئی ٹرینیں خریدی جائیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عوام کو سفر کی جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے تحت دارالحکومت کے اندر سفری ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن فار ریاض سٹی کی جانب سے اس سلسلے میں ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے جس کے تحت میٹرو کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور مسافروں کو سفری سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں تقریباً ساڑھے پانچ ارب سعودی ریال کی مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں جن کے ذریعے ریاض میٹرو کے فلیٹ میں نئی ٹرینیں شامل کی جائیں گی۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد میٹرو ٹرینوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کا نظام مزید فعال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن کے اس فیصلے کے تحت میٹرو فلیٹ میں موجودہ ٹرینوں کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے جو اب ایک سو تریاسی سے بڑھ کر دو سو ستتر ہو جائے گی۔ اس اضافے کے لیے کل چورانوے نئی ٹرینیں خریدی جا رہی ہیں جو تمام روٹس پر مسافروں کا دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان نئی ٹرینوں کی مرحلہ وار ترسیل کا آغاز دو ہزار اٹھائیس سے متوقع ہے جس کے بعد یہ بتدریج اپنے مقررہ روٹس پر چلائی جائیں گی۔ اس حوالے سے رائل کمیشن کے حکام نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے سی ای او ابراہیم بن محمد السلطان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابراہیم بن محمد السلطان نے مزید کہا کہ یہ توسیعی منصوبہ شہر میں بڑھتی ہوئی پبلک ٹرانسپورٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے شہریوں کو سفر کے دوران بہترین سہولیات میسر آئیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق ریاض شہر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رہائشی، تجارتی اور تفریحی مراکز میٹرو پر مسافروں کی تعداد میں اضافے کا اہم سبب بن رہے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے سفری دباؤ کو کم کرنے کے لیے اس فلیٹ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نئی ٹرینیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں جنہیں عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کے ذریعے بنایا جا رہا ہے۔ ان ٹرینوں کی تیاری میں جدید انجینئرنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مسافروں کو پائیدار اور محفوظ سفر کی سہولت مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن انجینئرنگ کمپنی سیمنز اور فرانسیسی ریل ساز ادارے الستوم کی تیار کردہ ان نئی ٹرینوں کو ریاض میٹرو کے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ یہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ریل گاڑیوں کی تیاری میں جانی جاتی ہیں جو دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان نئی ٹرینوں کو ریاض میٹرو کی تمام چھ لائنوں پر مسافروں کی موجودہ اور متوقع طلب کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اس تقسیم کا مقصد ہر روٹ پر مسافروں کے تناسب کو بہتر بنانا اور کسی بھی ایک لائن پر رش کو کم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت ٹرینوں کی تعداد بڑھنے سے مختلف لائنوں کی مسافر برداری کی صلاحیت میں شاندار اضافہ متوقع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریڈ لائن پر مسافروں کی گنجائش میں ایک سو بیالیس فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح یلو لائن پر ایک سو سولہ فیصد اور بلیو لائن پر ساٹھ فیصد اضافے کی توقع کی جارہی ہے جو کہ اس منصوبے کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ اورنج لائن اور پرپل لائن پر بھی مسافروں کی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بلیو لائن کی یومیہ مسافر برداری کی صلاحیت تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار ہے جو بڑھ کر پانچ لاکھ تتیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔ دوسری جانب ریڈ لائن کی صلاحیت ایک لاکھ چون ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ ستر ہزار مسافروں تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاض شہر میں صرف میٹرو کا نظام ہی نہیں بلکہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسیع کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکام کی جانب سے ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مین اینڈ رنگ روڈ ایکسسز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت تقریباً سات سو کلومیٹر طویل سڑکوں اور تین سو سے زائد بڑے چوراہوں پر کام جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت سڑکوں کے نیٹ ورک کو جدید بنایا جا رہا ہے تا کہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سڑکوں کے ترقیاتی پروگرام میں تین سو سے زائد پلوں اور اسی سرنگوں کی تعمیر بھی شامل ہے جو شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں ملائیں گی۔ یہ تمام اقدامات دارالحکومت میں ٹریفک کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن کی رپورٹس کے مطابق طائف روڈ کو قدیہ سے ملانے والے منصوبے پر تعمیراتی کام کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے پر اب تک اکیاسی فیصد کام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جا چکا ہے جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ سیکنڈ سدرن رنگ روڈ پر پینتالیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ریاض کے سسپنشن برج کے متوازی تعمیر کیے جانے والے دو پلوں پر بیالیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہ تمام ترقیاتی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب اپنے دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b6-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%b3%db%8c%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
