<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مصری_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 20:57:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>مصری_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا حتمی اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%af%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-2030-%d9%85%db%8c%da%ba-2/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%af%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-2030-%d9%85%db%8c%da%ba-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[صدارتی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عبدالفتاح_السیسی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قاہرہ]]></category>
		<category><![CDATA[لیڈرشپ_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[مصر]]></category>
		<category><![CDATA[مصر_آئین]]></category>
		<category><![CDATA[مصری_سیاست]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%af%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-2030-%d9%85%db%8c%da%ba-2/</guid>

					<description><![CDATA[صدر السیسی نے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے پر عہدہ چھوڑ دیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ صدارتی مدت کے اختتام پر 2030 میں اقتدار سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے آئین میں کسی بھی قسم کی مزید ترمیم نہیں کی جائے گی اور یہ معاملہ اب مکمل طور پر طے شدہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعلان صدر السیسی نے قاہرہ کے قریب نئے انتظامی دارالحکومت میں واقع ایجپشن ملٹری اکیڈمی کی ایک گریجویشن تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ 71 سالہ مصری صدر نے کہا کہ اگر وہ حیات رہے تو 2030 تک کا عرصہ ان کی بطور صدر آخری مدت ہوگی، جس کے بعد وہ ذمہ داریاں نئی نسل کے حوالے کر دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی ان قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ حکومت آئین میں ایک اور ترمیم کے ذریعے انہیں چوتھی بار صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی قیادت کے لیے نئی نسل کو تیار کرنے کے حوالے سے صدر نے ایک خصوصی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے ملٹری اکیڈمی میں 30 ماہ کا ایک جامع لیڈرشپ پروگرام شروع کیا جائے گا، جس میں پی ایچ ڈی ہولڈرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حکومتی امور اور وسائل کی مینجمنٹ کی تربیت دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مصری ریاست کو اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک یہ ملک ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بیٹوں اور بیٹیوں سے بھر نہ جائے۔ اس تربیتی پروگرام کی نگرانی کے لیے پارلیمنٹ کے اسپیکر کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کمیٹی میں دانشور، ماہرین تعلیم، سیاستدان اور وزیر انصاف سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی تاکہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک باصلاحیت قیادت تیار کی جا سکے۔ یہ اقدام مصر کے طویل مدتی سیاسی استحکام اور حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کا موجودہ آئین 2014 میں منظور ہوا تھا، جس میں صدارتی مدت کے لیے دو بار چار سال کی حد مقرر کی گئی تھی۔ تاہم 2019 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی مدت کو چار سے بڑھا کر چھ سال کر دیا گیا تھا، جس کی بدولت صدر السیسی کو تیسری بار انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی نے دسمبر 2023 میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد ان کی موجودہ چھ سالہ مدت کا آغاز ہوا۔ یہ مدت 2030 میں مکمل ہوگی۔ صدر کا کہنا ہے کہ اب وہ اس کے بعد مزید اقتدار میں رہنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ جنرل عبدالفتاح السیسی 2013 میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔ اس کے بعد 2014 میں وہ پہلی بار ملک کے صدر منتخب ہوئے اور تب سے مسلسل مصر کے سیاسی منظرنامے پر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی کا یہ حالیہ بیان ملک کے سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے آئندہ چند برسوں میں مصر کی سیاسی سمت اور انتقالِ اقتدار کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر کا یہ اعلان ایک واضح پیغام ہے کہ مصر اب ایک ایسی سیاسی منتقلی کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ادارہ جاتی تربیت اور نئی قیادت کی تیاری کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سے ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے بھی مثبت اشارے مل رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے شروع کیا جانے والا یہ لیڈرشپ پروگرام نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی جامعات کے فارغ التحصیل افراد کے لیے بھی کھلے گا، جس سے میرٹ کی بنیاد پر قیادت کے انتخاب میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ مصر کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کی موجودہ صورتحال میں صدر السیسی کا یہ فیصلہ ملکی استحکام کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام اور سیاسی مبصرین اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ 2030 تک نئی قیادت کی تیاری کا یہ عمل کس طرح آگے بڑھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%af%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-2030-%d9%85%db%8c%da%ba-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
