<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.7.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مذاکرات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>مذاکرات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ مسترد، بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس کا اظہارِ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر_عباس]]></category>
		<category><![CDATA[نیشنل_ایکشن_پلان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/173/</guid>

					<description><![CDATA[اپوزیشن رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو متاثر کرنے والے آپریشنز کی حمایت سے انکار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری کشمکش نے ملکی معیشت اور عام زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک تمام سیاسی فریقین بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بحرانوں پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ اپوزیشن کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، جہاں کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ایسے اہم اور حساس صوبے میں کسی بھی قسم کے غیر معمولی انتظامی فیصلوں کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے کے نوجوانوں کو ایسے فیصلوں سے کیا پیغام جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے اس تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے پی میں ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لیا جائے، بیرسٹر گوہر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 13:18:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصافه]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_خودمختاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/159/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی بصیرت اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیاسیحلقوں میں اس وقت وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اہم اور غیرمعمولی حکومتی فیصلے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک بھر کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ان تمام حالات کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے صوبے میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو کلی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی اس تنازع کو سلجھانے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت چاہے تو چند روز کے اندر اپنے اس فیصلے کو واپس لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی انا کو پس پشت ڈال دے اور ملک کے اندر موجود زمینی حقائق کا درست ادراک کرے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں اس طرح کے اقدامات اٹھانا ایک غیرضروری اور غیرمناسب عمل ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ صوبے کے اندر ایمرجنسی کا نفاذ ایک انتہائی تشویشناک امر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی غلطی بھی شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے خلاف اٹھائے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی بھرپور مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس نوعیت کے اقدامات مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات آنے والے دنوں میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر نے اس نکتہ پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا ایک مسلّم آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی خود مختاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبائی خود مختاری کمزور ہوتی ہے جو کہ ملکی وفاقیت کے لیے بھی نیک شگون نہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر ہی تمام امور کو چلانا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مابین جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے سے ملک میں کسی قسم کا سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خاتمے پر پوری قوم میں کوئی اختلاف رائے پایا نہیں جاتا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی ایک جماعت یا ادارے کی تنہا حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ موثر نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبوں اور مرکز کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں صوبوں کو کمزور کر کے ایک مضبوط اور مستحکم وفاق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ وفاق کی اصل طاقت اس کے تمام اکائیوں کے باہمی اتحاد اور مضبوط روابط میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے حل کے لیے انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ تمام تر مسائل کا حل کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال یا تصادم میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔ حقیقی حل صرف سیاسی بصیرت اور بامعنی مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس پورے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے روزمرہ امور کو چلانے کے لیے گورنر کو خصوصی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
