<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>محسن_نقوی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86_%d9%86%d9%82%d9%88%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 00:38:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>محسن_نقوی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد: ویزا فراڈ کا شکار طالبہ کی خودکشی، وزیراعظم کا نوٹس، مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:38:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_اسلامک_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خودکشی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ویزا_فراڈ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پولیس کو طالبہ کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں ملی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، 24 سالہ لائبہ اعجاز کا تعلق سرگودھا سے تھا اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کی خواہش مند تھیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ایک ایسے شخص کے رابطے میں آئیں جس نے خود کو سپریم کورٹ کا ملازم ظاہر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کے مطابق، ملزم نے لائبہ کو امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ اور سکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دیا۔ ملزم نے اپنی باتوں سے خاندان کا اعتماد جیتا اور مختلف حیلے بہانوں سے ان سے لاکھوں روپے بٹورنا شروع کر دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے بہنوئی زید بن افضال نے بتایا کہ ملزم نے ویزا اور داخلے کے نام پر خاندان سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزم نے انہیں جعلی داخلہ لیٹرز، سکالرشپ دستاویزات اور فیس کی رسیدیں بھی فراہم کیں تاکہ خاندان کو دھوکے میں رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان نے بتایا کہ ملزم بار بار ویزا انٹرویو کی تاریخیں دیتا رہا، لیکن ہر بار عین وقت پر انٹرویو کینسل ہونے کا بہانہ بنا دیتا تھا۔ جب لائبہ کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا ہے اور اسے دیے گئے تمام کاغذات جعلی ہیں، تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے روز لائبہ گھر سے نکلی اور اپنے بہنوئی کو فون کر کے کہا کہ ان کے والد کو فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد لائبہ کا موبائل فون بند ہو گیا اور اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے اہل خانہ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی لوکیشن ٹریس کی جو جی ٹین کے ہفتہ وار بازار کے قریب ظاہر ہوئی۔ وہاں پہنچنے پر انہیں لائبہ کی لاش ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور لاش کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے اس المناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کی رقوم کی واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے لائبہ کے بھائی کو نوکری دلوانے کے نام پر بھی رقم لی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس معاملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف پی پی سی کی دفعات 419، 420، 109 اور امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے نے ملزم کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے تاکہ فراڈ میں ملوث دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق، ابتدائی طور پر ورثا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے تھے تاہم بعد ازاں قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ لائبہ کی تدفین کے بعد اب پولیس اور ایف آئی اے مشترکہ طور پر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: سیاسی اتفاق رائے کا فقدان اور جمہوری تقاضے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/columns/26/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/columns/26/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ادارتی تجزیہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/columns/26/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی کوششوں کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس حساس معاملے پر اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے وفاقی حکام کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی حمایت مانگی تھی، تاہم ایمل ولی خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا اور اسے صوبائی حکومت کے لیے غیر مناسب قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو گورنر بنانے کی پیشکش بھی سامنے آئی، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایمل ولی خان کا دو ٹوک موقف یہ رہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس مخالفت نے وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہے جو صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو۔ اس اقدام کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمانی نگرانی کا عمل بھی ناگزیر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔ یہ محاذ آرائی صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر راج کو جمہوری طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسے ایک آئینی آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن سپریم کورٹ ماضی میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز کی صورت میں عدالتی مداخلت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم انتہائی احتیاط اور قانونی مشاورت کے ساتھ اٹھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ دور رس سیاسی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سیاسی مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچیں گے جو جمہوری اقدار کے منافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا مستقبل سیاسی تدبر اور آئینی پاسداری سے جڑا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرے جس سے صوبے میں امن بھی قائم ہو اور جمہوری عمل بھی متاثر نہ ہو۔ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/columns/26/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر جاری مشاورت ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم سیاسی پیش رفت متوقع ہے جس سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
