<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.21.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مجرم_بری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%ac%d8%b1%d9%85_%d8%a8%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 09:37:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>مجرم_بری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کا ملزم سات سال بعد بری کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 09:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آر_تاخیر]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_فاروق_حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید_بری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[قتل_مقدمہ]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[مجرم_بری]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اشرف]]></category>
		<category><![CDATA[منڈی_بہاوالدین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر اور گواہوں کا قیامِ موقع ثابت نہ ہونے پر محمد اشرف کی اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو سات سال کے طویل عرصے کے بعد تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم عدالتی فیصلے کا تحریری متن جاری کر دیا گیا ہے جس میں مقدمے سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں اور شواہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ منڈی بہاوالدین کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعہ کا مقدمہ دو ہزار انیس میں مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد دو ہزار اکیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزم کے وکلا نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور سزا کو چیلنج کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم محمد اشرف پر سکندر فردوس نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف استغاثہ نے عدالت میں گواہ پیش کیے تھے۔ تاہم دفاعی وکلا نے مقدمے کی ابتدائی کارروائی اور دستاویزات میں موجود خامیوں کو عدالت کے سامنے نمایاں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ اس بات کا کوئی بھی ٹھوس اور قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ مقدمہ درج کرنے میں ساڈھے چار گھنٹے کی تاخیر کیوں ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندراج میں تاخیر کے اسباب غیر واضح رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں مزید اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی کافی تاخیر سے کیا گیا جو استغاثہ کے پورے مؤقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالتی کارروائی کے لیے تیار کردہ بنیادی دستاویزات کی تیاری میں بھی تاخیر برتی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے وقوعے کے مقام اور مدعیہ کے بیان میں موجود تضادات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد کا قانونی معیار پر پرکھا۔ مقدمے کی مدعیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ واقعہ کے روز اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بیٹی کے گھر جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے باہر انہیں موٹر سائیکل روکنے کا اشارہ کیا اور بیٹے کو زبردستی گھر کے اندر لے جا کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ عدالت نے اس موقع پر وقوعے کے جغرافیائی محل وقوع اور راستے کا خصوصی طور پر جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اہم نکتے کو اجاگر کیا کہ وقوعہ والے گاؤں میں مدعیہ کی بیٹی کا گھر پہلے آتا ہے جبکہ ملزم کا گھر اس کے بعد آتا ہے۔ فیصلے میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ مدعیہ اپنی بیٹی کا گھر پیچھے چھوڑ کر آگے ملزم کے گھر کی طرف کیوں گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے موقع پر گواہوں کی موجودگی کے دعوے کو بھی انتہائی مشکوک قرار دیا کیونکہ استغاثہ وقوعے کے وقت گواہوں کی وہاں موجودگی کو قانونی طور پر ثابت نہیں کرا سکا۔ ان تمام قانونی نقائص، ابہام اور شواہد کی کمزوری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے ملزم کے خلاف سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو منظور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مدعیہ کی جانب سے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے اس فیصلے سے منڈی بہاوالدین کے اس پرانے قتل کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں سات سال تک قانونی لڑائی جاری رہی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں تفتیش کے معیار اور تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونے کے قانونی اثرات کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کے دوران استغاثہ کا اپنے مؤقف کو بغیر کسی شک کے ثابت کرنا اور بروقت کارروائی عمل میں لانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس فیصلے میں بھی انہی بنیادی قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
