<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ماہرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:30:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ماہرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/2527/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/2527/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:57:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈبلیو_ڈبلیو_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈولفنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ساحلی_ماحولیات]]></category>
		<category><![CDATA[سمندر]]></category>
		<category><![CDATA[سمندری_حيات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدرتی_مناظر]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%ad%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-500-%d8%b3%db%92-%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[ویسٹ بے کے ساحلی پانیوں میں پانچ سو سے زائد ڈولفنز کی موجودگی نے ماہی گیروں کو حیران کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات سے متعلق ایک خوشگوار واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ویسٹ بے کے نیلے پانیوں میں پانچ سو سے زائد ڈولفنز کا ایک بہت بڑا اور غیر معمولی اجتماع دیکھا گیا ہے۔ اس دلکش منظر نے وہاں موجود افراد بالخصوص ماہی گیروں کی توجہ حاصل کر لی اور اس قدر بڑی تعداد میں ڈولفنز کی موجودگی کو انتہائی حیرت انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے حوالے سے مقامی ماہی گیر امیر داد خان نے بتایا کہ وہ اپنی کشتی پر موجود تھے جب انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں ڈولفنز کو اپنی کشتی کے اردگرد پانی سے باہر اچھلتے کودتے دیکھا۔ ان سمندری مخلوقات کی کھیل کود اور موج مستی کے مناظر نے ماہی گیر کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں ڈولفنز کا ایک ساتھ ظاہر ہونا روز کا معمول نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ ماحولیات اور عالمی تنظیم برائے تحفظِ فطرت ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بہت مثبت علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ڈولفنز کا بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ سمندری علاقے کا ایکو سسٹم تاحال صحت مند حالت میں کام کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ساحلی پانیوں میں بالخصوص انڈو پیسیفک بوتل نوز ڈولفنز پائی جاتی ہیں جو اپنی ذہانت اور خوبصورتی کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ یہ آبی مخلوقات اکثر ساحلی علاقوں کے قریب دکھائی دیتی ہیں لیکن پانچ سو سے زائد کی تعداد میں ایک ساتھ نظر آنا ایک غیر معمولی اور یادگار واقعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام کے مطابق تنظیم نے اب تک پاکستانی ساحلی اور سمندری حدود میں سیٹیشینز کی چھبیس مختلف اقسام کو ریکارڈ کیا ہے۔ ان سمندری حیات میں مختلف اقسام کی ڈولفنز اور وہیل مچھلیاں بھی شامل ہیں جو ملکی سمندری وسائل کا ایک اہم اور قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے اس واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈولفنز کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی کو انتہائی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ سمندری حیاتیاتی تنوع برقرار ہے اور سمندر کی غذائی زنجیر بھی بہترین انداز میں فعال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ڈولفنز اور وہیلز سمیت دیگر نایاب سمندری حیات کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔ ان قوانین کے موثر نفاذ اور عمل درآمد میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کردار ہمیشہ سے نمایاں اور کلیدی رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مقامی ماہی گیروں اور دیگر فریقوں کے تعاون سے ان آبی جانداروں کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات جاری ہیں۔ ماہی گیروں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ وہ جال میں پھنس جانے والی نایاب مچھلیوں یا ڈولفنز کو بحفاظت واپس پانی میں چھوڑ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ اگر ماہی گیروں کا تعاون اسی طرح حاصل رہا تو پاکستان کے سمندروں میں نایاب مخلوقات کی نسل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ غیر قانونی اور نقصان دہ شکار کے طریقوں کے خلاف بھی وقتاً فوقتاً کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کا ساحل اپنی متنوع سمندری حیات کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں وقتاً فوقتاً ایسی دلچسپ اور خوبصورت خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ویسٹ بے کا یہ حالیہ واقعہ نہ صرف سیاحت اور ماحولیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم ہے بلکہ محققین کے لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ سمندریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے ساحلوں کا صاف ستھرا رہنا اور آلودگی سے پاک ہونا ان ڈولفنز اور دیگر آبی جانوروں کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ شہرِ قائد کے ساحلوں پر اس قسم کے قدرتی مناظر کا ظہور اس امر کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے سمندری ماحول کی حفاظت پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/2527/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جیف بیزوس کی اے آئی کے حوالے سے حیرت انگیز پیشگوئی سامنے آگئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/290/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/290/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 11:38:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ایمازون]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیشگوئی]]></category>
		<category><![CDATA[جیف_بیزوس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ac%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c%d8%b2%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[ایمازون کے بانی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مستقبل میں لوگوں کو کم کام کرنا پڑے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بارے میں ایک دلچسپ اور حیرت انگیز پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسانی زندگی اور کاروباری انداز یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی کے فروغ کے بعد لوگوں کو روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے اور بہترین زندگی گزارنے کے لیے طویل گھنٹے کام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس کا ماننا ہے کہ معیشت کے زیادہ مؤثر ہونے کے نتیجے میں کچھ افراد کے لیے ہفتے میں صرف 3 دن کام کرنا بھی ممکن ہو جائے گا اور وہ اس کم وقت میں اپنے پورے خاندان کی کفالت کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس معاشی تبدیلی کے بعد گھر کے اخراجات چلانے کے لیے میاں اور بیوی دونوں کو بیک وقت ملازمتیں کرنے کی مجبوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایک فرد کی کمائی بھی کافی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے اس منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی مرضی کے مطابق اپنے کام کے اوقات میں کمی کر سکیں گے اور حتیٰ کہ ضرورت نہ پڑنے پر ملازمت چھوڑنے کا انتخاب بھی کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمازون کے بانی کے مطابق ایسی ممکنہ صورتِ حال میں کاروباری اداروں اور کمپنیوں کے لیے نئے ملازمین کو بھرتی کرنا ایک مشکل چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر افراد کو اضافی ملازمتوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے انکشاف کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودگی کی وجہ سے کاروباری ادارے کم تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بھی پہلے سے کہیں زیادہ مقدار میں سامان اور مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس نے روایتی خدشات کے برعکس یہ مؤقف اپنایا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی اس ٹیکنالوجی کو ملازمتوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ یا نقصان دہ تصور نہیں کرتے بلکہ اسے خوش آئند قرار دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے نزدیک اس ٹیکنالوجی کی بدولت عام انسان کا معیارِ زندگی کافی بہتر ہو جائے گا جبکہ محنت اور کام کا دورانیہ بھی پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے معاشرے میں بیروزگاری بڑھنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس مستقبل میں کمپنیوں کو اپنی افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ لوگ اپنی مرضی اور پسند کے تحت طویل کے بجائے کم کام کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنی زندگی کے دیگر امور پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم جیف بیزوس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ضروری نہیں ہے کہ ہفتے میں محض 3 دن کام کرنے سے متعلق یہ پیشگوئی بہت جلد یا فوری طور پر حقیقت کا روپ دھار لے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس پیشگوئی کا مکمل انحصار مناسب معاوضے، کام کے دورانیے کے تعین اور گھریلو آمدنی کے ذرائع پر ہوگا جنہیں طے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/290/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
