<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.7.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ماسکو &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%85%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 08:37:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ماسکو &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>روس سے ڈیزل خریدنے کے ٹرمپ کے منصوبے پر امریکی سینیٹرز کا احتجاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%b3%db%92-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%92-%d9%be%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%b3%db%92-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%92-%d9%be%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:37:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیزل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹ]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_منڈی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ماسکو]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگتن]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر_پیوٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین_جنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%b3%db%92-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%92-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی قانون سازوں نے ماسکو سے ایندھن کی خریداری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 6 سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے روس سے ڈیزل خریدنے کا منصوبہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ جاری رہنے کے دوران ماسکو سے ایندھن کی خریداری روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹرز نے اتوار کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ نے اس متنازع منصوبے کے بارے میں کانگریس سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے جواز سے متعلق بھی مطلوبہ وضاحت پیش نہیں کی گئی جبکہ روس سے توانائی کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی قانون بھی اس معاملے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اپنے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ڈیزل کی فراہمی کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈی کو فراہم کرے گا جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ کے اعلان کے مطابق اس کے بعد اگلے مرحلے میں مزید ڈیزل کی فراہمی عمل میں آئے گی اور بعد کے مرحلے میں مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل بھی مختصر مدت میں فراہم کیا جائے گا۔ ان اعداد و شمار اور منصوبے کی تفصیلات کا حوالہ براہ راست امریکی صدر کے بیان سے دیا گیا ہے جس پر دارالحکومت میں سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے چار ریپبلکن سینیٹرز میں سوزن کولنز، لیزا مرکاؤسکی، تھوم ٹلس اور جان کرٹس شامل ہیں جبکہ دو ڈیموکریٹ سینیٹرز جین شاہین اور رچرڈ بلومینتھل نے بھی اس احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔ ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹلس نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ ڈیزل خریداری کا یہ منصوبہ آگے بڑھاتی ہے تو اس پر یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا صدر قانون کی مکمل پابندی کررہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین میں جارحیت کرنے والا ملک ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو کو تمام زیر قبضہ علاقوں سے اپنی فوجیں باہر نکالنی چاہئیں۔ یہ سفارتی اور سیاسی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے حال ہی میں روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر بھاری محصولات عائد کرنے سے متعلق سخت قانون سازی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی کانگریس کے اس اقدام کا بنیادی مقصد روس کو توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی اس آمدنی کو محدود کرنا بتایا گیا تھا جسے ماسکو یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر جان باراسو نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ملک میں توانائی کی بلند قیمتیں کم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں بعض اوقات نہایت مشکل فیصلے بھی کرنا پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم سینیٹر جان باراسو نے بھی روس سے متعلق عائد پابندیوں کے قانون پر من و عن عمل درآمد کی بھرپور حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں روسی صدر پیوٹن پر سیاسی و معاشی دباؤ ڈالنے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں کے دوران امریکا میں ڈیزل کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا کی قیادت میں جاری کشیدگی نے بھی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگتن کے سیاسی ایوانوں میں اس پیش رفت کے بعد بحث کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اس معاہدے کے قانونی و اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ قانون سازوں کا یہ ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کی اقتصادی نرمی ماسکو کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے جو کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم امریکی اور مغربی اہداف کے بالکل برعکس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ اس ڈیزل فراہمی کے پلان میں مرحلہ وار ترسیل کا ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت عالمی منڈی میں ایندھن کی دستیابی کو بہتر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی پابندیوں کی افادیت کو کمزور کرتے ہیں اور اتحادی ممالک کے درمیان پالیسیوں میں تضاد کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز کا یہ مشترکہ مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ کانگریس میں روس کے ساتھ توانائی کے معاملات پر سخت گیر پالیسی اب بھی مضبوط حمایت رکھتی ہے۔ ارکان کا اصرار ہے کہ خارجہ پالیسی کے ایسے اہم فیصلے ہمیشہ قانون ساز اداروں کی پیشگی منظوری اور مشاورت کے ساتھ ہی طے پانے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو نے دنیا بھر کی معیشتوں کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور امریکی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں صدر ٹرمپ کا یہ قدم ملکی سطح پر تو ایک معاشی اقدام ہو سکتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے تناظر میں توانائی کے ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے الزامات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں میں اس بات پر ہمیشہ زور دیا جاتا رہا ہے کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ کو کسی بھی صورت کم نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مناسب ماحول بن سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی سینیٹرز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ بیان کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اس تنقید کا کیا جواب دیتا ہے اور آیا اس ڈیزل معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انتظامیہ کوئی لچک دکھاتی ہے یا اپنے موقف پر قائم رہتی ہے۔ یہ صورتحال آنے والے دنوں میں واشنگتن کی داخلی سیاست میں ایک اہم موضوع بنی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%b3%db%92-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%92-%d9%be%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%aa%d9%81%d9%82/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%aa%d9%81%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:18:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تروتھ_سوشل]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کیف]]></category>
		<category><![CDATA[ماسکو]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/181/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اہم اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین توانائی سے متعلق جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک حالیہ پوسٹ کے ذریعے تفصیلات شیئر کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان توانائی کی تنصیبات اور شعبے سے جڑی جنگ بندی کا نفاذ کیا جا رہا ہے جو فوری طور پر لاگو ہوگی۔ امریکی صدر نے دونوں ممالک کو ہدایت کی کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کے اس اہم بیان کے بعد روس اور یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تردید یا تائید سامنے نہیں آئی تھی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ روز امریکی صدر نے یوکرین میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا جس پر روس کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریز پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یوکرینی صدر پر کھل کر تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والے افراد کو بھی مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یوکرینی قیادت نے تنازع کے پرامن حل اور جنگ کے خاتمے کے مواقع کو بارہا مسترد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے کئی مواقع موجود تھے لیکن انہیں دانستہ طور پر ٹھکرایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈونلڈ ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اب ایک ایسے نئے صدر کا انتخاب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ایک ایسا نیا لیڈر درکار ہے جو اس طویل اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ معاہدہ کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد روسی حکام کی طرف سے ردعمل ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا تھا کہ یوکرینی صدر کی رخصتی کے حوالے سے امریکی مطالبہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی نوعیت کا بیان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سیاسی مبصرین اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ توانائی جنگ بندی کا یہ معاہدہ زمینی حقائق پر کتنا اثرانداز ہوتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس عارضی یا جزوی سیز فائر سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے باعث پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس نوعیت کی جنگ بندی اگر طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو اس سے عام شہریوں اور معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری کشمکش اور اب اس توانائی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آئندہ کے چند روز انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا تعین ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ توانائی کے شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے مابین اس مبینہ سمجھوتے کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اس سے قبل اس نوعیت کے حملے دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے تھے جن پر اب قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوںممالک اس توانائی جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر کے اقتصادی اور سیاسی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%aa%d9%81%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
