<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>لبنانی_فنکار &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c_%d9%81%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 17:17:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>لبنانی_فنکار &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، &#8216;کوسمک بریتھ&#8217; پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 17:17:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اذان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلاموفوبیا]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[جونامی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوسمک_بریتھ]]></category>
		<category><![CDATA[لبنانی_فنکار]]></category>
		<category><![CDATA[لندن]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی_ہم_آہنگی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی نژاد لبنانی آرٹسٹ جونامی نے لندن میں مختلف ممالک کی اذانوں پر مبنی صوتی انسٹالیشن کے ذریعے امن کا پیغام دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانوی دارالحکومت لندن میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور سماجی تعصب کے تناظر میں، امریکی نژاد لبنانی فنکار اور موسیقار جونامی نے ایک منفرد اور پرامن اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے وسطی لندن میں &#039;کوسمک بریتھ&#039; کے نام سے ایک ملٹی چینل ساؤنڈ انسٹالیشن پیش کی ہے، جو دنیا بھر کی مساجد سے لی گئی اذانوں کی ریکارڈنگز پر مشتمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فن پارہ لندن کی مصروف ترین آکسفورڈ اسٹریٹ کے قریب ایک پرسکون مقام پر نصب کیا گیا ہے، جہاں آنے والے افراد مختلف جغرافیائی خطوں کی تاریخی اور عصری اذانوں کو ایک ساتھ سن سکتے ہیں۔ اس انسٹالیشن کا مقصد آواز کی روحانیت اور اس کے انسانی نفسیات پر اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی کے مطابق، یہ پروجیکٹ اس خیال سے متاثر ہے کہ زمین پر ہر لمحہ کہیں نہ کہیں اذان کی آواز گونج رہی ہوتی ہے، جو ایک انتہائی طاقتور اور خوبصورت عمل ہے۔ انہوں نے اس کام کو روحانی سکون کے حصول کے لیے ایک پناہ گاہ قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نمائش میں مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، یروشلم کی مسجد اقصیٰ، سنگاپور کی سلطان مسجد، سوڈان، فلپائن، جاپان اور جارجیا سمیت دنیا بھر سے جمع کی گئی اذانیں شامل ہیں۔ ان میں 19 ویں صدی کے آخر کی قدیم ترین ریکارڈنگز سے لے کر جدید دور کی آوازیں تک شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ لندن کے والتھمسٹو میں کووڈ-19 کے دوران ریکارڈ کی گئی اذان بھی ہے، جو برطانیہ میں عوامی سطح پر دی جانے والی پہلی اذانوں میں سے ایک تھی۔ یہ ریکارڈنگ مقامی مسلم کمیونٹی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی نے بتایا کہ اس کام کا ابتدائی محرک 2020 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔ اس وقت کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران اذان پر پابندی کے خلاف ایک ہندو شہری نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاروں کے ذریعے اذان نشر کرنے کا اہتمام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فنکار کا کہنا ہے کہ لندن میں موجودہ سیاسی ماحول اور بڑھتے ہوئے زینوفوبیا کے پیش نظر، یہ صوتی انسٹالیشن نفرت کے خلاف ایک تریاق کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آواز کی سیاست اور اس سے جڑی روحانیت کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انسٹالیشن پہلی بار 2023 میں جدہ میں ہونے والے اسلامی آرٹس بینالے کے لیے تیار کی گئی تھی، جس کی آرٹسٹک ڈائریکٹر سمیہ ویلی تھیں۔ سمیہ ویلی نے اس پروجیکٹ کی مقامی منظر کشی اور ڈیزائن میں جونامی کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی نے اس بات پر زور دیا کہ جدہ اور لندن کے ثقافتی ماحول میں فرق کے باوجود، اذان کی آواز ہر جگہ یکساں روحانی اثر رکھتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ پروجیکٹ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور تعصبات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹسٹ نے مزید کہا کہ ان کا کام کمیونٹی اور روحانیت کے وسیع تر تصورات کی تلاش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ایمپلیفیکیشن نے اذان جیسی قدیم روایت کو ایک نئی جہت دی ہے، جسے عوامی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لندن میں موجود یہ نمائش نہ صرف ایک فن پارہ ہے بلکہ یہ مختلف ثقافتوں اور عقائد کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ یہاں آنے والے شائقین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے ان آوازوں کو سنیں اور ان کے گہرے مفہوم پر غور کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام کو لندن کے ادبی اور فنی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، جہاں اسے اسلاموفوبیا کے خلاف ایک مثبت اور تخلیقی جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نمائش آنے والے دنوں میں بھی زائرین کے لیے کھلی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی کا کہنا ہے کہ آواز کی سیاست اور روحانیت کا امتزاج انہیں ہمیشہ سے متوجہ کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صوتی تجربات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
