<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>لاہور_ہائیکورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1_%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 16:28:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>لاہور_ہائیکورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد کے جیل ٹرائل کی سماعت ملتوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/4972/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/4972/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 13:43:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_تیمور_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جیل_حکام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_یاسمین_راشد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شاہ_محمود_قریشی]]></category>
		<category><![CDATA[شوکت_خانم_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوٹ_لکھپت_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[نورین_نیازی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/lahore/4972/</guid>

					<description><![CDATA[کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کی، جس کے دوران مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کے مقدمے میں ایک گواہ پر جرح مکمل کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تھانہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمہ نمبر 366/23 کی سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی، جبکہ دیگر دو مقدمات میں کارروائی 25 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی کی جیل میں طبیعت ناساز ہونے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران اسماعیل نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپیل کی کہ وہ کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کریں اور قید رہنماؤں کے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی اس سے قبل جیل میں چہل قدمی کے دوران گر کر زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد ان کے طبی معائنے کے لیے نمونے بھی بھجوائے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کے مقدمات میں شاہ محمود قریشی کے علاوہ عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید بھی زیر حراست ملزمان میں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اور قانونی نکات پر بحث کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیل حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت ٹرائل کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے جیل ٹرائل پر قانونی ماہرین کی جانب سے بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/4972/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/4776/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/4776/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 23:59:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_عبہر_گل__خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_عظمی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_مدثر]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[علیمہ_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوٹ_لکھپت_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[نورین_نیازی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/lahore/4776/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ڈی سی لاہور کو چار نومبر کو رپورٹ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کی ان کی بیٹیوں سے ایک گھنٹے کی ملاقات کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ احکامات لاہور میں ایک عدالتی سماعت کے دوران صادر کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران خان کی بہنوں کے وکیل رانا مدثر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے کیس میں کل ملاقات کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل رانا مدثر کے مطابق عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو چار نومبر کو اپنی رپورٹ کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں بھی طلب کر رکھا ہے۔ یہ سماعت جسٹس عبہر گل خان کی عدالت میں شاہ ریز خان اور سکینہ بی بی کی درخواستوں پر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے بھی عدالت سے ایک غریب اور غیر سیاسی ڈرائیور کی نظر بندی کے معاملے پر رعایت کی استدعا کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ دونوں کیسز کی رپورٹس طلب کی گئی ہیں جن کا جائزہ پہلے لیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ڈرائیور کا معاملہ الگ تھا تو اس کی علیحدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیسز کی سماعت چار نومبر تک ملتوی کر دی۔ دوسری جانب وکیل رانا مدثر کی جانب سے علیمہ خان کا کیس بھی اسی روز مقرر کرنے کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ستمبر کے مہینے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت پی ٹی آئی اسلام آباد میں ایک احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی جب یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت بند کیا گیا تھا جس کی مدت میں بعد ازاں توسیع کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی طور پر ان کی نظر بندی 30 دن کے لیے منظور کی گئی تھی، تاہم سات اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گذشتہ ماہ 26 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے تینوں بہنوں کی رہائی کی درخواست نمٹا دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی نظر بندی کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گذشتہ ماہ نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انہیں لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل رانا مدثر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا تھا کہ 70 سالہ نورین نیازی کی صحت اچانک بگڑ گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان اور پی ٹی آئی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس منتقلی کی اطلاع اہلِ خانہ کو نہیں دی گئی تھی۔ جماعت کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا کہ حکام کی جانب سے صحت سے متعلق معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران خان کے بھتیجے شیر شاہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بتایا کہ خاندان کو ہسپتال میں نورین نیازی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے وارڈ کے باہر ڈیوٹی دے کر اہلِ خانہ کو اندر جانے سے روکے رکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیر شاہ خان نے سوال اٹھایا کہ ایک بیمار خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے پیاروں کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب سے اس معاملے پر حکام یا ہسپتال انتظامیہ کا فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ نورین نیازی کی طبی حالت کی شفاف تفصیلات فراہم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی اور خاندان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بیمار خواتین کو جیل میں رکھنا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ عدالت اب اس تمام صورتحال میں منگل کے روز مزید کارروائی کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/4776/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نواز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2549/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2549/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 10:56:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[لیپ_ٹاپ_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[مریم_نواز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے والوں کو اب معاف نہیں کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">منڈی بہاء الدین کی یونیورسٹی آف رسول میں ہونہار سکالر شپ کے چیکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی طاقتور شخص عام شہریوں پر ہاتھ اٹھائے گا تو قانون سخت کارروائی کرے گا اور جرم کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے والے عناصر جرم کی دنیا کو فوری طور پر خیرباد کہہ دیں بصورت دیگر انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتوں سے ملنے والی ضمانتوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجرم عدالت سے فوری ضمانت لے کر باہر آ جاتے ہیں جس پر وہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجرموں کو کم از کم اتنی سزا ملنی چاہیے کہ وہ باہر نکلیں تو معاشرے میں شرمندگی محسوس کریں اور قانون کا خوف برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرول پمپ پر پیش آنے والے تشدد کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ اس واقعے کے ملزم کو اگلے ہی روز عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں شفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ لیپ ٹاپ یا سکالر شپ کی تقسیم میں میرٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہو کیونکہ صوبے کا نظام سو فیصد میرٹ پر چل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مجرم ان کی اپنی سیاسی جماعت سے بھی تعلق رکھتا ہو تب بھی اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب صوبے کا نظام مظلوم کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے جس سے معاشرے میں انصاف کی امید جاگ اٹھی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث خواتین اور بچیوں کے اندر تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے اور ان کا حوصلہ بھی بلند ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں یتیم بچے کو کار سے روندنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ المناک منظر اب تک ان کی آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائیک سوار خاتون پر تشدد کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ بچی کو کہا تھا کہ جتنا تشدد اس پر کیا گیا ہے وہ بدلہ لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ و طالبات کے لیے فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، کروم بکس، الیکٹرک بسیں اور تعلیمی وظائف فراہم کرتی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے طلبا سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ بچوں کو چاند اور ستارے لا کر دیں لیکن اس کے بدلے انہیں صرف پاکستان سے وفادار رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منڈی بہاء الدین پہنچنے پر مقامی شہریوں اور طلبا کی جانب سے وزیراعلیٰ کا پرجوش استقبال کیا گیا اور ان کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران یونیورسٹی آف رسول کے طلبا و طالبات میں ہونہار سکالر شپ کے چیکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جس پر نوجوانوں میں شدید خوشی کی لہر دوڑ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2549/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا، 8 کروڑ ہرجانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:38:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیفیمیشن_ٹربیونل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عظمی_بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%86%db%92-%db%81%d8%aa%da%a9-%d8%b9%d8%b2%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81-%d8%ac%db%8c%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کے ایک اہم قانونی مقدمے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں عدالت نے مدعا علیہ کو بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی صوبائی وزیر کی جانب سے عائد کردہ بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے خلاف عمل میں لائی گئی تھی، جسے عدالت نے غلط ثابت کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے اس مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کو ہدایت دی ہے کہ وہ عظمیٰ بخاری کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کریں۔ ٹربیونل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مقدمے کا تفصیلی اور مکمل فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب معین ریاض قریشی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران صوبائی وزیر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے موقع پر عظمیٰ بخاری کی جانب سے معاوضہ یافتہ افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن لیڈر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ مذکورہ موقع پر سوالات کرنے والے صحافی بھی صوبائی وزیر کے تنخواہ دار ملازمین تھے۔ ان بیانات کو سیاسی حلقوں میں کافی شہرت ملی اور اس سے صوبائی وزیر کی شخصیت پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی سیاسی و شخصی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے قانون کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور ڈیفیمیشن ایکٹ کے تحت عدالت سے رجوع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں اس مقدمے کی پیروی نامور وکیل علی بخاری نے کی، جنہوں نے مدعی کی طرف سے مدلل دلائل پیش کیے۔ سماعت کے دوران عدالت میں فریقین کے بیانات اور موقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیفیمیشن ٹربیونل کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ معین ریاض قریشی نے ٹی وی پروگرام کے دوران مذکورہ بیانات دینے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم وہ اور ان کے قانونی مشیر عدالت کے سامنے اپنے الزامات کے حق میں کوئی بھی مستند ثبوت، دستاویزی شواہد یا ثاقب دلیل پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ مدعا علیہ کے وکلاء کارروائی کے دوران عظمیٰ بخاری کے ہتکِ عزت کے دعوے کو غلط، کمزور یا بے بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا قانوناً جرم ہے جس کی کڑی سزا بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدم ثبوت اور الزامات کے غلط ثابت ہونے پر عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے معین ریاض قریشی کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی کثیر رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر کسی بھی شخص پر بغیر تصدیق کے الزام لگانے کے رجحان میں کمی آئے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عدلیہ سیاسی شخصیات کی عزتِ نفس اور شخصی وقار کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری کے حامیوں اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے حق کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفت میں جھوٹے الزامات لگانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معین ریاض قریشی اور ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے تاحال تفصیلی فیصلے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے سیاسی منظر نامے میں اس فیصلے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات بازی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عدالتوں کی جانب سے ہتکِ عزت کے مقدمات میں اس قسم کے سخت فیصلے سیاستدانوں کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ: ڈاکٹر عظمیٰ خان کو جیل میں دل کی ادویات دینے کی ہدایت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/284/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/284/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 10:58:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بانی_پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_عظمی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_پی_ஓ_لاهور]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c%d9%84-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر اہم درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس دوران عدالت عالیہ نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس عبہر گل نے اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈوکیٹ رانا مدثر عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نظر بند خواتین کسی بھی قسم کی غیرمعمولی مراعات کی طالب نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زیر حراست خواتین کی جانب سے جیل میں کسی خاص سہولت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی اور قانونی ضروریات کی فراہمی کی خواستگار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نورین نیازی کو روزمرہ استعمال کے لیے کپڑے، ضروری ادویات اور نظر کی عینک فوری طور پر مہیا کرنے کے احکام جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ان کی اہل خانہ اور قانونی مشیر سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی پرزور مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان روسٹرم پر آئے اور جج صاحب کو بتایا کہ ان کی اہلیہ پہلے ہی دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تین اہم ادویات دینا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احد خان نے عدالت سے پرزور استدعا کی کہ ان کی اہلیہ کی ادویات وقت پر روزانہ جیل کے اندر پہنچانے کی باضابطہ اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کو مزید لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے یہ استدعا بھی کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ ایس پی کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان افسران کو طلب کیا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ زیر بحث نظر بندی کے نوٹیفکیشن سے متعلق عدالت میں آ کر وضاحت پیش کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام فریقین کے دلائل غور سے سننے کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات فوری اور باقاعدگی سے فراہم کرنے کے احکام جاری کر دیے۔ تاہم، ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر حراست افراد اور سیاسی شخصیات کی بنیادی سہولیات اور طبی امداد کے حوالے سے درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتیں عام طور پر قیدیوں کی صحت اور علاج معالجے کے معاملات پر خاص توجہ دیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ جیل انتظامیہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی صحت کے حوالے سے عدالتی احکام پر فوری عملدرآمد کرے گی۔ عدالت کی طرف سے محفوظ کیے گئے فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ متعلقہ اعلیٰ افسران کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا جاتا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے عدالتی نظام میں بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے دائر ہونے والی رٹ پٹیشنز پر باقاعدگی سے سماعت کی جاتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے زیر حراست افراد کی طبی ضروریات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی اس درخواست میں مزید قانونی کارروائی کا انحصار اس فیصلے پر ہوگا جو عدالت نے افسران کی طلبی کے حوالے سے محفوظ کیا ہے۔ اس فیصلے کے آنے کے بعد کیس کی اگلی سمت کا تعین کیا جائے گا اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید احکام صادر کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے اس نوعیت کے احکام کا مقصد قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حراست میں موجود تمام افراد کو ان کے بنیادی حقوق بلا امتیاز حاصل ہوں۔ جیل حکام کی جانب سے اس حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی آئندہ کی کارروائی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/284/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
