<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>قطر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%82%d8%b7%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 16:27:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>قطر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4861/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4861/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 16:27:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قشم]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[وسط_مدتی_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4861/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کی ثالثی جاری، امریکہ نے ایران کے جزیرے قشم پر فضائی حملے کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر کسی بھی معاہدے تک پہنچنا تاحال فریقین کے لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کوئی حتمی اور قابلِ عمل معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اس ماحول میں خلیجی ریاست قطر نے فریقین کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو مٹانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری ثالثی کا مقصد امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں کسی بھی ممکنہ نئی کشیدگی اور محاذ آرائی کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی سرگرمیوں کے متوازی طور پر گزشتہ شب امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے قشم کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کارروائیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے انہیں دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی ہدف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ میزائل مبینہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں اور تنصیبات کے خلاف استعمال کیے جا رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اور امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر مزید وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ فضائی حملے دائرہ کار میں محدود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ہرگز یہ اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ خطے میں کسی بڑی فوجی یلغار کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن کے قیام کے لیے قطری سفارت کار دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مفاہمت کی ان کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ میں جاری اس محاذ آرائی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جزیرہ قشم پر ہونے والے ان حالیہ حملوں کے بعد فریقین کے مابین تناؤ میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دونوں اطراف سے سفارتی رابطوں کو بھی تاحال مکمل طور پر منقطع نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4861/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/4806/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/4806/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 07:00:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اے_سی_سی_رائزنگ_اسٹارز_ایشیا_کپ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_شاہینز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[حیدر_علی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عبدالصمد]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_حسنین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/4806/</guid>

					<description><![CDATA[عبدالصمد ٹیم کی قیادت کریں گے، ایونٹ 19 سے 29 نومبر تک قطر میں کھیلا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کرکٹ بورڈ نے قطر میں منعقد ہونے والے اے سی سی مینز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026 کے لیے پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 19 سے 29 نومبر تک جاری رہے گا جس میں پاکستان شاہینز اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیم کی قیادت عبدالصمد کریں گے، جنہیں حالیہ ڈومیسٹک کارکردگی کی بنیاد پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کا انتخاب نوجوان ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر موقع فراہم کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیٹنگ لائن اپ میں کپتان عبدالصمد کے ساتھ حیدر علی، حسن نواز، معاذ صداقت، شاہزیب خان، فرحان یوسف اور شمیل حسین شامل ہیں۔ وکٹ کیپنگ کے فرائض روحیل نذیر انجام دیں گے، جو ٹیم کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپن بولنگ کے شعبے میں تین ماہر کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے جن میں دانش عزیز، سعد مسعود اور سفیان مقیم شامل ہیں۔ یہ تینوں کھلاڑی مڈل اوورز میں حریف ٹیموں پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاسٹ بولنگ اٹیک کی قیادت تجربہ کار محمد حسنین کریں گے۔ ان کے ساتھ احمد دانیال، عاکف جاوید اور محمد عمران رندھاوا پیس بیٹری کا حصہ ہوں گے، جن میں سے احمد دانیال ماضی میں سپر اوورز میں اپنی شاندار کارکردگی کے لیے مشہور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان شاہینز کو ٹورنامنٹ کے گروپ بی میں بھارت اے، نیپال اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ گروپ اے میں افغانستان اے، بنگلہ دیش اے، ہانگ کانگ اور سری لنکا اے کی ٹیمیں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیم اپنی مہم کا آغاز 20 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ سے کرے گی۔ یہ میچ یونیورسٹی آف دوحہ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا جو کہ دن کے وقت منعقد ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان شاہینز 22 نومبر کو اپنے روایتی حریف بھارت اے کے خلاف اہم میچ کھیلے گی، جبکہ 24 نومبر کو ان کا مقابلہ نیپال سے ہوگا۔ یہ دونوں میچ ویسٹ اینڈ پارک انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں دن اور رات کے اوقات میں کھیلے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل مقابلے 26 اور 27 نومبر کو شیڈول کیے گئے ہیں۔ ایونٹ کا فائنل میچ 29 نومبر بروز اتوار کو کھیلا جائے گا جس میں فاتح ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان شاہینز نے 2023 میں سری لنکا میں ہونے والا آخری 50 اوورز کا ایڈیشن جیتا تھا، جس میں انہوں نے فائنل میں بھارت اے کو 128 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیم کے کھلاڑیوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دی ہے، جہاں کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کی فٹنس اور حکمت عملی پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی سی بی کے مطابق یہ ٹورنامنٹ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ والے ماحول میں خود کو ثابت کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لیے قومی سینئر ٹیم کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان شاہینز ماضی میں بھی اس ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ 2013 اور 2017 کے ابتدائی دو ایڈیشنز میں پاکستان رنرز اپ رہا تھا، جبکہ 2019 میں ٹیم نے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ ٹی 20 فارمیٹ کے ایڈیشن میں بھی پاکستان شاہینز نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے بنگلہ دیش اے کو سپر اوور میں شکست دے کر ٹرافی جیتی تھی۔ بورڈ حکام کو امید ہے کہ موجودہ اسکواڈ بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عمدہ کھیل پیش کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/4806/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی حکومت کی افغان مہاجرین کو پاکستان بدر کرنے کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4159/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4159/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 10:19:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_مہاجرین]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%81%d8%a7%d8%ac%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ پیر کے روز افغان مہاجرین کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کی پروازیں شروع کر سکتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کو پاکستان اور افغانستان بدر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اس عمل کا آغاز پیر کے روز سے متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے ان افراد کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جو ماضی میں امریکی افواج کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا ذرائع اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ کی جانے والی پروازوں اور ان کی منزل کے حوالے سے حتمی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سے قبل قطر کے کیمپ السیلیہ میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی ہے اور امریکی وزارتِ خارجہ نے ان کے انخلا کی ڈیڈلائن میں کئی بار توسیع کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم &#039;افغان ایواک&#039; نے امریکی انتظامیہ کے اس ممکنہ فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اس عمل کو ایسے وقت میں انجام دینے کی تیاری کر رہی ہے جب امریکی مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنظیم کے مطابق حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ان پروازوں میں سوار افراد کو ان کی منزل پر پہنچنے کے بعد کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اس مجوزہ اقدام کے بعد مہاجرین کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4159/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:36:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%b7%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور درآمدی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا کارگو کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق یہ کارگو اکتوبر کے مہینے کے دوران موصول ہوا ہے جس سے ملک کے گیس سسٹم کو فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی خریداری سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق قطر کے ساتھ طے پانے والے طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت ملنے والی گیس اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدی بلوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ گیس کی سپلائی چین کو بھی مستحکم بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکتوبر کے دوران اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں، جنہیں ملکی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اس طرح کے اقدامات کو معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر طویل مدتی معاہدے پاکستان کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت ملک کو غیر متوقع قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے گیس کی درآمد کے لیے قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توانائی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک کلیدی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان قطر سے گیس کی باقاعدہ سپلائی حاصل کرتا رہا ہے جو ملکی صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عالمی منڈی کے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے گیس سسٹم میں ان کارگوز کی شمولیت سے گیس کے پریشر اور فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے صارفین کو سہولت پہنچانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تعاون سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں بھی حکومت کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی گیس کی بہتر مینجمنٹ پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس سلسلے میں وزارت توانائی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ فعال رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر قطر سے ایل این جی کی یہ تازہ سپلائی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کو بھی مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
