<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>قانون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 21:50:24 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>قانون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>وزیراعظم کا طالبہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعہ کا نوٹس، ملزم کی گرفتاری کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/30/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/30/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:50:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خودکشی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سخت_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/30/</guid>

					<description><![CDATA[شہباز شریف نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ طالبہ کے ساتھ فراڈ میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ایک نوجوان طالبہ کی جانب سے خودکشی کے اقدام پر وزیراعظم نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کو طلب کر کے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں اور ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبہ کے ساتھ فراڈ کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد متاثرہ لڑکی نے انتہائی قدم اٹھایا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مرحومہ کے ساتھ فراڈ کرنے والے نامزد ملزم کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور اسے جلد قانون کے حوالے کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تفتیشی عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے ملزم کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزم کو جلد از جلد حراست میں لے لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرتی حلقوں اور سول سوسائٹی نے وزیراعظم کے اس فوری نوٹس کا خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اسلام آباد میں خواتین کے تحفظ اور ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ یا ہراسانی کے واقعات پر حکومتی سطح پر سخت موقف اپنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس معاملے کی ذاتی نگرانی سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے بھی انصاف کی اپیل کی ہے اور حکومتی یقین دہانی کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ ملزم کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران سامنے آنے والے تمام شواہد کو کیس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں۔ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی بالادستی کو ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے بھی اس معاملے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور ملزم کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں آن لائن فراڈ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نفسیاتی دباؤ کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگاہی مہمات اور سخت قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کی جانب سے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے عزم نے متاثرین کے لیے انصاف کی امید پیدا کر دی ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/30/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا طریقہ کار: اہم قانونی نکات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_232]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_234]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں ہنگامی صورتحال یا آئینی بحران کے دوران آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات اور پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار واضح ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے آئین میں ملک کی سلامتی، داخلی استحکام اور آئینی مشینری کی فعالیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار موجود ہیں۔ ان میں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں خصوصی اختیارات تفویض کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ، بیرونی جارحیت یا کسی صوبے میں قابو سے باہر داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکیں۔ اگر ایمرجنسی کا نفاذ کسی صوبے میں داخلی انتشار کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ لازم ہے کہ اسے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اعلان کے 30 روز کے اندر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا بھی آئینی تقاضا ہے تاکہ اس اقدام کی توثیق کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات میں وسعت آ جاتی ہے۔ وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی امور کے حوالے سے ہدایات جاری کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت کے بعض یا تمام فرائض اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے یا یہ ذمہ داری گورنر کو تفویض کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوران پارلیمنٹ کو صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی صوبائی قانون وفاقی قانون سے متصادم ہو، تو وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ایمرجنسی کے دوران بھی وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے اختیارات کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کی مطلوبہ منظوری نہ مل سکے تو یہ اعلان دو ماہ کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن یہ توسیع ایمرجنسی کے خاتمے کے 6 ماہ بعد تک برقرار نہیں رہ سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق پر اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت مخصوص بنیادی حقوق، جیسے نقل و حرکت، پرامن اجتماع، اظہار رائے اور جائیداد کے تحفظ کے حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق معطل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ہے۔ جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے، تو گورنر کی رپورٹ پر صدر مملکت صوبے میں خصوصی آئینی اعلان جاری کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ قراردادوں کی منظوری لازمی ہے۔ اس عمل کے تحت صدر صوبائی حکومت کے اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ صدر کی جانب سے ان اختیارات کا استعمال کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیے گئے گورنر راج کی مدت ہر دو ماہ بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا ضروری ہے۔ آئینی شقوں کے مطابق، کسی بھی صوبے میں گورنر راج مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے دوران بھی ہائی کورٹ کے اختیارات کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر یا گورنر ہائی کورٹ کے کسی اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ یہ آئینی انتظام صوبے میں نظم و نسق کی بحالی تک محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت خصوصی اعلان کے لیے الگ طریقہ کار لاگو ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سینیٹ کی منظوری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے تاکہ آئینی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، پاکستان کا آئین ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پارلیمانی نگرانی کے تابع رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی توثیق اور آئینی حدود و قیود کا پاس رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
