<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>قانونی_کارروائی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c_%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 20 Oct 2026 09:38:04 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>قانونی_کارروائی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا، 8 کروڑ ہرجانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:38:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیفیمیشن_ٹربیونل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عظمی_بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%86%db%92-%db%81%d8%aa%da%a9-%d8%b9%d8%b2%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81-%d8%ac%db%8c%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کے ایک اہم قانونی مقدمے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں عدالت نے مدعا علیہ کو بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی صوبائی وزیر کی جانب سے عائد کردہ بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے خلاف عمل میں لائی گئی تھی، جسے عدالت نے غلط ثابت کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے اس مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کو ہدایت دی ہے کہ وہ عظمیٰ بخاری کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کریں۔ ٹربیونل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مقدمے کا تفصیلی اور مکمل فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب معین ریاض قریشی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران صوبائی وزیر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے موقع پر عظمیٰ بخاری کی جانب سے معاوضہ یافتہ افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن لیڈر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ مذکورہ موقع پر سوالات کرنے والے صحافی بھی صوبائی وزیر کے تنخواہ دار ملازمین تھے۔ ان بیانات کو سیاسی حلقوں میں کافی شہرت ملی اور اس سے صوبائی وزیر کی شخصیت پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی سیاسی و شخصی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے قانون کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور ڈیفیمیشن ایکٹ کے تحت عدالت سے رجوع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں اس مقدمے کی پیروی نامور وکیل علی بخاری نے کی، جنہوں نے مدعی کی طرف سے مدلل دلائل پیش کیے۔ سماعت کے دوران عدالت میں فریقین کے بیانات اور موقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیفیمیشن ٹربیونل کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ معین ریاض قریشی نے ٹی وی پروگرام کے دوران مذکورہ بیانات دینے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم وہ اور ان کے قانونی مشیر عدالت کے سامنے اپنے الزامات کے حق میں کوئی بھی مستند ثبوت، دستاویزی شواہد یا ثاقب دلیل پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ مدعا علیہ کے وکلاء کارروائی کے دوران عظمیٰ بخاری کے ہتکِ عزت کے دعوے کو غلط، کمزور یا بے بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا قانوناً جرم ہے جس کی کڑی سزا بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدم ثبوت اور الزامات کے غلط ثابت ہونے پر عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے معین ریاض قریشی کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی کثیر رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر کسی بھی شخص پر بغیر تصدیق کے الزام لگانے کے رجحان میں کمی آئے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عدلیہ سیاسی شخصیات کی عزتِ نفس اور شخصی وقار کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری کے حامیوں اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے حق کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفت میں جھوٹے الزامات لگانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معین ریاض قریشی اور ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے تاحال تفصیلی فیصلے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے سیاسی منظر نامے میں اس فیصلے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات بازی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عدالتوں کی جانب سے ہتکِ عزت کے مقدمات میں اس قسم کے سخت فیصلے سیاستدانوں کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1565/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کا ملزم سات سال بعد بری کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 09:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آر_تاخیر]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_فاروق_حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید_بری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[قتل_مقدمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر اور گواہوں کا قیامِ موقع ثابت نہ ہونے پر محمد اشرف کی اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو سات سال کے طویل عرصے کے بعد تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم عدالتی فیصلے کا تحریری متن جاری کر دیا گیا ہے جس میں مقدمے سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں اور شواہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ منڈی بہاوالدین کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعہ کا مقدمہ دو ہزار انیس میں مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد دو ہزار اکیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزم کے وکلا نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور سزا کو چیلنج کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم محمد اشرف پر سکندر فردوس نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف استغاثہ نے عدالت میں گواہ پیش کیے تھے۔ تاہم دفاعی وکلا نے مقدمے کی ابتدائی کارروائی اور دستاویزات میں موجود خامیوں کو عدالت کے سامنے نمایاں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ اس بات کا کوئی بھی ٹھوس اور قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ مقدمہ درج کرنے میں ساڈھے چار گھنٹے کی تاخیر کیوں ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندراج میں تاخیر کے اسباب غیر واضح رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں مزید اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی کافی تاخیر سے کیا گیا جو استغاثہ کے پورے مؤقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالتی کارروائی کے لیے تیار کردہ بنیادی دستاویزات کی تیاری میں بھی تاخیر برتی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے وقوعے کے مقام اور مدعیہ کے بیان میں موجود تضادات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد کا قانونی معیار پر پرکھا۔ مقدمے کی مدعیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ واقعہ کے روز اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بیٹی کے گھر جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے باہر انہیں موٹر سائیکل روکنے کا اشارہ کیا اور بیٹے کو زبردستی گھر کے اندر لے جا کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ عدالت نے اس موقع پر وقوعے کے جغرافیائی محل وقوع اور راستے کا خصوصی طور پر جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اہم نکتے کو اجاگر کیا کہ وقوعہ والے گاؤں میں مدعیہ کی بیٹی کا گھر پہلے آتا ہے جبکہ ملزم کا گھر اس کے بعد آتا ہے۔ فیصلے میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ مدعیہ اپنی بیٹی کا گھر پیچھے چھوڑ کر آگے ملزم کے گھر کی طرف کیوں گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے موقع پر گواہوں کی موجودگی کے دعوے کو بھی انتہائی مشکوک قرار دیا کیونکہ استغاثہ وقوعے کے وقت گواہوں کی وہاں موجودگی کو قانونی طور پر ثابت نہیں کرا سکا۔ ان تمام قانونی نقائص، ابہام اور شواہد کی کمزوری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے ملزم کے خلاف سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو منظور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مدعیہ کی جانب سے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے اس فیصلے سے منڈی بہاوالدین کے اس پرانے قتل کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں سات سال تک قانونی لڑائی جاری رہی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں تفتیش کے معیار اور تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونے کے قانونی اثرات کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کے دوران استغاثہ کا اپنے مؤقف کو بغیر کسی شک کے ثابت کرنا اور بروقت کارروائی عمل میں لانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس فیصلے میں بھی انہی بنیادی قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسٹیج پر نازیبا جملوں کا معاملہ، بھارتی گلوکار ہنی سنگھ کو سائبر سیل کی آخری وارننگ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/723/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/723/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:17:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_گلوکار]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیل]]></category>
		<category><![CDATA[شوبز_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[کنسرٹ_تنازع]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7-%d8%ac%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی گلوکار ہنی سنگھ کو تفتیش میں شامل نہ ہونے پر پولیس کی جانب سے سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشہور بھارتی گلوکار ہنی سنگھ ایک بار پھر قانونی مشکلات میں گھر گئے ہیں، جہاں انہیں ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے معاملے پر سائبر سیل کی جانب سے آخری وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع دہلی میں منعقدہ ایک میوزیکل کنسرٹ کے دوران پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو کلپ میں گلوکار کو غیر اخلاقی جملے ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد ہنی سنگھ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کے سائبر سیل نے تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیل کے حکام نے گلوکار کو تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تین مرتبہ نوٹس جاری کیے، تاہم ہنی سنگھ ہر بار بیرونِ ملک ہونے کا عذر پیش کر کے پیش ہونے سے گریز کرتے رہے، جس پر حکام نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گلوکار کو اب آخری وارننگ دی گئی ہے کہ اگر وہ تفتیش میں تعاون نہیں کرتے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازع بڑھنے پر ہنی سنگھ نے اپنے ایک بیان میں معذرت کرتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ نوجوان نسل کے اندازِ گفتگو کو بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوکار نے مزید کہا کہ انہیں اب احساس ہوا ہے کہ اسٹیج پر ان کا طریقہ کار مناسب نہیں تھا اور وہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمندہ ہیں۔ تاہم، یہ وضاحت انہیں قانونی شکنجے سے بچانے میں تاحال ناکام رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہنی سنگھ ماضی میں بھی اپنے گانوں کے بول اور مواد کے حوالے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ان کے گانوں پر اکثر فحاشی پھیلانے اور خواتین کی تذلیل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال اپریل میں دہلی ہائی کورٹ نے ان کے ایک متنازع گانے کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے انتہائی فحش قرار دیا تھا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اس گانے کے تمام لنکس انٹرنیٹ سے ہٹائے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ فنکارانہ آزادی کے نام پر فحاشی کو فروغ دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس عدالتی حکم کے بعد ہنی سنگھ کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیل کی جانب سے تازہ وارننگ نے گلوکار کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر ہنی سنگھ نے تفتیش میں تعاون نہ کیا تو انہیں گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ لوگ گلوکار کے خلاف سخت کارروائی کے حامی ہیں، وہیں کچھ مداح ان کی حمایت میں بھی بیانات دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال ہنی سنگھ کی جانب سے سائبر سیل کی اس آخری وارننگ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/723/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
