<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>قانونی_امور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c_%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 09:37:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>قانونی_امور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات نہ کرانے پر رجسٹرار طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:37:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_قانونسندھ_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹرار_جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_یونین]]></category>
		<category><![CDATA[عثمان_فاروق_ایڈووکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت_عالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[یونین_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ ہائیکورٹ نے 2019 کے قانون پر عمل درآمد نہ کرنے پر جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک اہم معاملے پر سماعت کی گئی ہے جس میں جامعات کے اندر طلبہ یونینز کے انتخابات کے انعقاد کا معاملہ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ یہ درخواست جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات بروقت نہ کرانے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس پر عدالتِ عالیہ نے سخت نوٹس لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر گہرے رنج و اظہارِ تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دو ہزار انیس میں باقاعدہ قانون سازی کے باوجود تاحال جامعات کی سطح پر طلبہ یونین کے انتخابات کیوں نہیں کروائے جا سکے۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ قانون بن جانے کے بعد اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا متعلقہ انتظامیہ کی اولین ذمے داری ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس علی حیدر نے اس آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تاریخِ سماعت پر پیش ہو کر قانون پر عمل نہ کرنے کی وجوہات بیان کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران استفسار کیا کہ جب صوبائی اسمبلی یا متعلقہ اداروں کی طرف سے دو ہزار انیس میں ایکٹ منظور کر لیا گیا تھا تو اس پر اب تک عمل کیوں نہیں ہوا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا مقصد عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر بہتری لانا ہوتا ہے لہذا اس کی خلاف ورزی قابلِ فہم نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار خود بھی قانون کے طالب علم ہیں اور وہ تعلیمی اداروں میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی بحالی کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارمز نوجوان نسل میں جمہوری روایات کو پروان چڑھانے اور ان کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا سب سے موثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونینز کی غیر موجودگی کی وجہ سے طلبہ کی مثبت سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور کیمپس کی سطح پر ایک صحت مند ماحول پروان نہیں چڑھ پاتا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانون کے مطابق فوری طور پر انتخابات کے انعقاد کے احکامات صادر کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل کو تفصیل کے ساتھ سنا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ جامعہ کراچی کے رجسٹرار آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہوں اور وضاحت پیش کریں کہ دو ہزار انیس کے ایکٹ پر عملدرآمد میں کون سی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر مزید کارروائی آئندہ ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعت پر جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی طرف سے اس حوالے سے کوئی حتمی اور قانونی جواب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جاتا رہا ہے۔ طلبا تنظیمیں اور حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ یونینز پر پابندی سے نوجوانوں میں سیاسی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا قدرتی عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن دو ہزار انیس میں سندھ کے اندر قانون سازی کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ جامعات میں پرامن اور جمہوری انداز میں طلبہ کے نمائندے منتخب ہوں گے جو طلبہ کے مسائل کو انتظامیہ کے سامنے مؤثر طریقے سے اٹھا سکیں گے مگر عملی طور پر اس پر پیشرفت سست رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق اس قسم کی عدالتی کارروائیاں اور احکامات تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کو قانون کا پابند بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ جب عدالتیں خود ایسے امور پر نوٹس لیتی ہیں تو اس سے نظام میں بہتری کی امید مزید روشن ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی ملک کے بڑے اور مؤقر تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر یہاں قانون کے مطابق انتخابات کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو یہ پورے صوبے بلکہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تمام نگاہیں آئندہ ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے پر مرکوز ہیں جب جامعہ کراچی کے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے اور عدالت کو دو ہزار انیس کے ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں قانونی وضاحت فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
