<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>فراڈ_کیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88_%da%a9%db%8c%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 24 Oct 2026 09:57:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>فراڈ_کیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سندھ ہائی کورٹ: 15 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2111/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2111/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:57:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پونزی_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_جی_نیب_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت_سماعت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ_کیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-15-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d8%af-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے نیب حکام کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے سرمایہ کاری کے نام پر شہریوں سے پندرہ ارب روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کے معاملے پر قومی احتساب بیورو کے حکام کی جانب سے جمع کروائی جانے والی رپورٹ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اس اہم اور سنگین مالیاتی اسکینڈل کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پر تفصیلی اور واضح جواب طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ قانونی کارروائی اور سماعت اس توہین عدالت کی درخواست کے تناظر میں کی جا رہی ہے جو چیئرمین نیب اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس بڑے مالیاتی گھپلے کے دوران ایک ہزار سے زائد معصوم شہریوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران نیب کے حکام نے عدالت کے روبرو اپنی ایک رپورٹ پیش کی جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عام شہریوں کے ساتھ ہونے والا یہ فراڈ کا معاملہ ادارے کے قانونی دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ نیب نمائندگان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مالیاتی مقدمات اور شکایات کی جانچ پڑتال کے لیے دیگر متعلقہ تحقیقاتی ادارے زیادہ مناسب فورم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار اور ان کے وکلا نے نیب کے اس مؤقف پر انتہائی شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ اتنی بڑی مالیت کے جرائم اور گھپلوں کی روک تھام کے لیے قومی احتساب بیورو کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی پونزی اسکیم ہے جس نے سینکڑوں خاندانوں کو مالی طور پر تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز عدالت نے نیب کی جانب سے اس مقدمے کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو منتقل کرنے کے ارادے اور اس حوالے سے دیے جانے والے دلائل پر بھی کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح طور پر کہا کہ بظاہر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ فراڈ ہوا ہے اور ادارے اس طرح اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ایک ہزار سے زائد شہریوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والے اس بڑے دھوکے کے باوجود نیب کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اور تسلی بخش تحقیقات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق متاثرہ افراد مسلسل انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ڈی جی نیب کراچی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عدالت کو مطمئن کریں کہ پندرہ ارب روپے سے زائد کے اس اسکینڈل پر نیب کا دائرہ اختیار کیوں نہیں بنتا۔ عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ متاثرہ شہریوں کی لوٹی گئی جمع پونجی واپس دلانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں اس قسم کی غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں اور پونزی نیٹ ورکس کے خلاف مختلف اعلیٰ عدالتوں میں متعدد مقدمات پہلے ہی زیر سماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سادہ لوح عوام کی کمائی پر ڈاکو ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاتعطل اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو زیادہ منافع کا جھانسہ دے کر لوٹنے کے یہ واقعات معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں جہاں لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان پونزی اسکیموں کی نذر کر دیتے ہیں۔ عدالتیں ایسے معاملات میں اب انتہائی سخت رویہ اختیار کر رہی ہیں تاکہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے.</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائی کورٹ نے اس اہم توہین عدالت کی درخواست اور فنڈز فراڈ کیس کی مزید کارروائی مقررہ تاریخ تک کے لیے ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے حکام کو تمام ریکارڈ بروقت تیار رکھنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ عدالت کے اس سخت فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں بھی اس کیس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شہریوں کے وکیل اور دیگر فریقین کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف بھی مستقل اجاگر کیا گیا ہے کہ نیب حکام اس معاملے میں شروع دن سے ہی ذمہ دارانہ رویہ اپنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی جوڈیشل یا غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی حالیہ رپورٹ کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ عوام کے اربوں روپے کے اس مبینہ فراڈ پر کسی بھی قسم کی قانونی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈی جی نیب کراچی کی طلبی کے بعد آئندہ سماعت پر اس مقدمے میں مزید اہم اور فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی سرمایہ کاری کے اسکینڈلز کے خلاف قانون کا شکنجہ مزید کسا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کی جا سکے اور متاثرہ شہریوں کے حقوق کی بھرپور اور موثر انداز میں نگهبانی کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2111/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ ہائی کورٹ: کروڑوں کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب کراچی 29 اکتوبر کو طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1441/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1441/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:37:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_جی_نیب_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_احکامات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے 2021 کے فراڈ کیس میں احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر ڈی جی نیب کراچی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائی کورٹ نے کروڑوں روپے مالیت کے مبینہ فراڈ اور گھپلے سے متعلق توہین عدالت کی ایک اہم درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب کراچی کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ نیب حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مقدمہ 2019 سے 2021 کے دوران ہاؤسنگ، کار فنانسنگ اور دیگر شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں میں محمد کامران اور علی نقوی سمیت دیگر متاثرین شامل ہیں جنہوں نے جعل سازی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ 302 مختلف جعل ساز کمپنیوں کے ذریعے ان کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا۔ اس مبینہ فراڈ میں نہال خان، شمشاد نیاز خان اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن پر سرمایہ کاروں کو لوٹنے کا الزام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2021 میں اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تاہم، درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نیب کی جانب سے عدالتی احکامات کے مطابق تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اب اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی کو طلب کیا ہے تاکہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بیان کر سکیں۔ توقع ہے کہ آئندہ سماعت پر نیب حکام اپنی کارکردگی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائی کورٹ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے اور جعل سازی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرین نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت کے اس اقدام سے تحقیقات میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جمع پونجی لوٹنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کی جانب سے تاحال اس عدالتی طلبی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، قانونی حلقوں میں اس کیس کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ 29 اکتوبر کی سماعت میں یہ فیصلہ ہوگا کہ نیب حکام نے اب تک اس کیس میں کیا پیش رفت کی ہے۔ عدالت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اب نیب کراچی کے لیے اپنی پوزیشن واضح کرنا لازمی ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس عدالتی مداخلت کے بعد کیس کی تحقیقات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس کیس پر نظریں جمائے ہوئے ہے کیونکہ یہ معاملہ مالیاتی شعبے میں شفافیت اور احتساب کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ احتساب کے عمل کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1441/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
