<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>غذائیت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>غذائیت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ، طبی ماہرین متحرک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1945/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1945/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:16:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شامونڈا_وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فرانس میں ایک مریض میں شامونڈا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو اب تک صرف مویشیوں میں پایا جاتا تھا، ماہرین نے تحقیقات شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں صحت کے حکام نے شامونڈا وائرس (Shamonda virus) کا پہلا انسانی کیس رپورٹ کیا ہے، جس نے طبی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ وائرس ماضی میں صرف کیڑوں کے ذریعے مویشیوں اور فارم کے جانوروں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کا شکار ہونے والا مریض لیون شہر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھا جہاں وہ اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث طبی امداد حاصل کر رہا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں انتقال کرنے والے اس مریض کی علامات نے ماہرین کو چونکا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی طبی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مریض کی موت سے قبل سامنے آنے والی شدید دماغی پیچیدگیاں اسی وائرس کے سبب تھیں۔ طبی ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت کیسے حاصل کر گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شامونڈا وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ پہلی بار 1960 کی دہائی میں نائیجیریا میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ وائرس افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کے ریوڑوں میں وقتاً فوقتاً پایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ یہ وائرس شْمَالینبرگ (Schmallenberg) وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مویشیوں میں یہ بیماری بخار، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسہال اور بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا باعث بنتی ہے جو کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موسم گرما کے دوران یورپ کے کئی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، کسی انسان میں اس کی منتقلی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس نے یورپی صحت کے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور نئی تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زرعی اور صحت کے حکام نے عوام کو تسلی دی ہے کہ عام شہریوں کے لیے اس وائرس سے فی الحال کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے ہی جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکام اب یورپ بھر میں جانوروں اور مڈجز (چھوٹے کیڑوں) پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کے رویے اور اس کی منتقلی کے ذرائع کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت طبی سائنس کے لیے ایک اہم چیلنج ہے کیونکہ اب تک اس وائرس کو صرف جانوروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی اس کیس کے بعد یورپ میں وائرس کی جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے زور دیا ہے کہ فارم کے جانوروں کے قریب کام کرنے والے افراد کو حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ جانوروں میں کسی بھی غیر معمولی علامت کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری حکام کو مطلع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکومت نے اس معاملے پر مزید تحقیق کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا یہ وائرس انسانوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1945/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایسی غذائیں جو فریج کے بغیر بھی برسوں تک خراب نہیں ہوتیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1372/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1372/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:58:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزمرہ_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_تندرستی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[غذائی ماہرین کے مطابق کچھ اشیاء کو مناسب طریقے سے محفوظ کر کے طویل عرصے تک قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر قسم کی خوراک ایک مخصوص مدت کے بعد خراب ہو جاتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کئی غذائی اشیاء موجود ہیں جو مناسب حالات میں برسوں بلکہ غیر معینہ مدت تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ غذائیت کے مطابق ان اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے درجہ حرارت، نمی اور روشنی سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ان بنیادی اصولوں کا خیال رکھا جائے تو گھر میں موجود کئی اشیاء کو طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہد ان غذاؤں میں سرفہرست ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اگر خالص شہد کو ہوا بند برتن میں نمی سے بچا کر رکھا جائے تو یہ برسوں تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا جم جانا یا رنگت کا گہرا ہونا خرابی کی علامت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفید چاول بھی طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ اگر انہیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر ہوا بند ڈبے میں رکھا جائے تو یہ کئی دہائیوں تک قابلِ استعمال رہتے ہیں۔ تاہم بھورے چاولوں میں موجود قدرتی تیل انہیں جلد خراب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نمک اور چینی کو بھی طویل المیعاد ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ نمک کو نمی سے بچانا ضروری ہے، جبکہ چینی کو کیڑوں اور پانی سے دور رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کارن اسٹارچ بھی مناسب طریقے سے محفوظ کرنے پر کئی برسوں تک خراب نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکہ اپنی تیزابی خصوصیات کی بدولت طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے خراب ہونے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے رنگ میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن یہ کھانے کے لیے بالکل محفوظ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خشک لوبیا بھی ایک ایسی غذا ہے جسے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کئی برس گزرنے کے بعد اس کا ذائقہ یا پکنے کی صلاحیت کچھ متاثر ہو سکتی ہے، لیکن مناسب حالات میں یہ طویل مدت تک استعمال کے قابل رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے علاوہ سویا ساس، خشک پھل، پاپ کارن کے خشک دانے، انسٹنٹ کافی، خالص ونیلا ایکسٹریکٹ اور ملک پاؤڈر بھی نسبتاً طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی اشیاء ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ میپل سیرپ، کینولا آئل، ناریل کا تیل اور پروٹین پاؤڈر جیسی اشیاء کی ایک محدود شیلف لائف ہوتی ہے اور انہیں طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو چاہیے کہ وہ ڈبے میں بند اشیاء کے استعمال سے پہلے پیکنگ کا بغور جائزہ لیں۔ اگر ڈبہ پھولا ہوا ہو، اس سے کچھ رس رہا ہو یا وہ شدید زنگ آلود ہو تو ایسی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے کی کسی بھی چیز میں بدبو، غیر معمولی رنگت یا ذائقے میں واضح تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ غذا اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ ایسی صورت میں صحت کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1372/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
