<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.7.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عوام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عوام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ مسترد، بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس کا اظہارِ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر_عباس]]></category>
		<category><![CDATA[نیشنل_ایکشن_پلان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/173/</guid>

					<description><![CDATA[اپوزیشن رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو متاثر کرنے والے آپریشنز کی حمایت سے انکار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری کشمکش نے ملکی معیشت اور عام زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک تمام سیاسی فریقین بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بحرانوں پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ اپوزیشن کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، جہاں کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ایسے اہم اور حساس صوبے میں کسی بھی قسم کے غیر معمولی انتظامی فیصلوں کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے کے نوجوانوں کو ایسے فیصلوں سے کیا پیغام جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے اس تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں برائلر گوشت کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d9%84%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-15-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d9%84%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-15-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:17:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اشیاء_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[برائلر_گوشت]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پرائس_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زندہ_دلان_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قیمتوں_میں_اضافہ]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[مارکیٹ_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/113/</guid>

					<description><![CDATA[مارکیٹ کمیٹی نے برائلر گوشت کا نیا سرکاری نرخ 548 روپے مقرر کر دیا، انڈوں کی قیمت برقرار۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور شہر میں برائلر گوشت کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق برائلر گوشت کے سرکاری نرخ میں 15 روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اضافے کے بعد شہر میں برائلر گوشت کی نئی سرکاری قیمت 548 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق برائلر مرغی کے زندہ گوشت کا تھوک ریٹ 364 روپے جبکہ پرچون ریٹ 378 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب شہر کی مختلف مارکیٹوں میں سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دکاندار مبینہ طور پر صافی گوشت کے نام پر صارفین سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور گوشت 650 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کے حکام کا مؤقف ہے کہ وہ قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر فارمی انڈوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور ان کی سرکاری قیمت 264 روپے فی درجن پر برقرار ہے۔ انڈوں کی پیٹی کا تھوک ریٹ 7 ہزار 800 روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں بھی فی الحال کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے، جس کی بنیادی وجہ طلب اور رسد میں فرق بتایا جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے تاکہ اوور چارجنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں دکانداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سرکاری نرخ نامے اپنی دکانوں پر نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ برائلر گوشت کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کے کچن کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پولٹری فارمرز اور مارکیٹ کے درمیان موجود رکاوٹوں کو دور کرے تاکہ قیمتوں میں استحکام آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے پرائس چیکنگ مہم بھی وقتاً فوقتاً چلائی جاتی ہے تاکہ منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ تاہم شہریوں کا ماننا ہے کہ جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، اوور چارجنگ کا سلسلہ نہیں رکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں برائلر گوشت کی قیمتوں کا انحصار مارکیٹ میں سپلائی کی صورتحال پر ہوگا۔ اگر رسد بہتر ہوئی تو قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، بصورت دیگر صارفین کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کڑی نگرانی رکھے تاکہ غریب طبقہ سستے داموں پروٹین حاصل کر سکے۔ مارکیٹ کمیٹی کے مطابق وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے ایک اجلاس طلب کیا ہے تاکہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس اجلاس میں مارکیٹ کمیٹی کے نمائندوں کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کی شکایت متعلقہ حکام کو کریں۔ عوامی آگاہی اور انتظامی کارروائی ہی اس مسئلے کا واحد حل دکھائی دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d9%84%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-15-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں مہنگائی کا راج، اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%8c-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%8c-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:58:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دودھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سبزیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[گوشت]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/</guid>

					<description><![CDATA[شہر میں آٹا، گھی، دالیں، دودھ اور گوشت سمیت دیگر بنیادی اشیائے خورونوش سرکاری نرخ نامے کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہونے لگیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگائی کے طوفان نے شہریوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ شہر بھر میں آٹا، گھی، کوکنگ آئل، دالیں، چاول، سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث دکاندار اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے اپنے گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنا ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دالوں کی قیمتوں پر نظر ڈالی جائے تو دال چنا 250 روپے، دال ماش 440 روپے، دال مسور 240 روپے اور دال مونگ 320 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ سفید اور کالے چنے بھی 240 روپے فی کلو کی سطح پر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے پکانے کے لیے استعمال ہونے والے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ درجہ اول کا کوکنگ آئل اور گھی 615 روپے فی لٹر جبکہ درجہ دوم کا گھی اور آئل 550 روپے فی لٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چاول کی قیمت 300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو مقرر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے ان کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور وہ پریشانی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں روٹی کی قیمت بھی سرکاری نرخ 14 روپے کے برعکس 20 روپے فی عدد وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں یہ 210 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 230 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہریوں کا شکوہ ہے کہ سبزیاں اور ترکاریاں بھی ریٹ لسٹ کے مطابق دستیاب نہیں ہیں جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوشت کی قیمتوں میں فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ بیف کی سرکاری قیمت 800 روپے فی کلو مقرر ہے مگر دکاندار 1500 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں۔ اسی طرح مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے کے باوجود 3000 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور منافع خوری کا رجحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اکثر اوقات چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں تاہم ان کے نتائج تاحال غیر تسلی بخش ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک عملی طور پر قیمتوں کا نفاذ یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک مہنگائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی حالات میں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو نچلے طبقے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مزید ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ کے مطابق لانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%8c-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
