<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عوامی_مشکلات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c_%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 01:43:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عوامی_مشکلات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا اظہارِ تشویش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/4612/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/4612/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 01:43:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الطاف_شکور]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_غفلت]]></category>
		<category><![CDATA[انفراسٹرکچر]]></category>
		<category><![CDATA[پاسبان_ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[کے_فور]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی_روڈ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%d9%88%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ شہر کے اہم ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت سے تاخیر کا شکار ہیں جس سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے چیئرمین الطاف شکور نے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی انتہائی سست رفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کا ترقیاتی انجن سست روی کا شکار ہے جس کا خمیازہ لاکھوں شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف شکور نے دعویٰ کیا کہ شہر کے اہم ترین منصوبے اپنی مقررہ ڈیڈ لائن سے کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ سے لے کر کے فور (K-IV) تک ہر منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور کام کی رفتار تسلی بخش نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ڈی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام ہر نئے بجٹ اور ہر نئے سنگِ بنیاد کے اعلان کے عادی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے منصوبوں کے افتتاح کی روایتی تقریبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اعلانات کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الطاف شکور نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر سے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ترقیاتی کاموں کا اس قدر سست ہونا انتظامی غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے لیے فنڈز کا اجرا تو ہوتا ہے لیکن ان کی بروقت تکمیل ایک خواب بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں جاری کاموں کی نگرانی کا نظام کمزور ہے۔ ان کے مطابق، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر سے منصوبوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ قومی خزانے پر بوجھ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الطاف شکور نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے طویل عرصے سے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام بالا کو چاہیے کہ وہ ان منصوبوں کی نگرانی خود کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، صرف اعلانات سے شہر کی تقدیر نہیں بدلے گی بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ڈی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام اب مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی معاشی اہمیت کے پیش نظر یہاں کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الطاف شکور نے مزید کہا کہ یونیورسٹی روڈ جیسے اہم راستوں پر جاری کاموں کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اضافی وسائل بروئے کار لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے فور منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے پانی کے مسائل کے حل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی تاخیر سے شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی عوامی مفاد کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/4612/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخوں سے زائد پر فروخت جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1951/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1951/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:37:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشیاء_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[انڈے]]></category>
		<category><![CDATA[پرائس_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ضلعی_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b1%d8%ba%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%da%88%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور شہر میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخ نامے کے برعکس زائد قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد کروانے میں تاحال ناکامی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 577 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم پرچون مارکیٹ میں یہ گوشت 585 سے 590 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں سرکاری ریٹ کے مقابلے میں 10 سے 15 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف مرغی کا گوشت ہی نہیں بلکہ بیف اور مٹن کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں چھوٹا گوشت 2400 سے 2800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح بیف کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو ہے، وہاں قصاب اسے 1000 سے 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فارمی انڈوں کی قیمتوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے، جہاں انتظامیہ نے انڈوں کا سرکاری ریٹ 267 روپے فی درجن مقرر کیا ہے، وہیں مارکیٹ میں یہ 270 سے 275 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ قیمتوں میں اس تفاوت نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہنگائی کے اس دور میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ عام شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں ہول سیل مارکیٹ سے ہی مہنگا مال مل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ سرکاری ریٹ پر فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال میں عام شہری پس کر رہ گیا ہے جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرے اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں مرتب کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں قیمتوں کا فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کچھ دکاندار سرکاری ریٹ کی پاسداری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں اکثریت من مانی قیمتیں وصول کر رہی ہے۔ اس عدم توازن نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لے گی اور مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک زائد قیمتوں کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عام آدمی کے لیے گوشت اور انڈے جیسی بنیادی غذائی اشیاء خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی اس صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1951/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی بندش پر شہریوں کو مشکلات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:37:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[گرین_ٹاؤن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[گرین ٹاؤن کے مکین سوئی گیس کی عدم دستیابی اور مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مسائل وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں، جن سے عام شہریوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالخصوص سوئی گیس جیسی بنیادی ضرورت کی بندش نے گھریلو امور کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے گنجان آباد علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی مسلسل بندش نے مکینوں کا جینا محال کر دیا ہے جہاں لوگ روزمرہ کے امور کے لیے شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ گیس کی اس غیر اعلانیہ بندش کے باعث خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے میں انتہائی دقت کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صبح کے اوقات میں جب گھروں میں ناشتے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے تو گیس کی غائب ہونے کے باعث چولہے بالکل ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کو اسکول اور بڑوں کو دفاتر کے لیے تیار کرنا مکینوں کے لیے ایک روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی اس طویل اور مسلسل بندش سے نجات پانے کے لیے علاقہ مکینوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ متبادل ذرائع کا رخ کریں۔ مجبوراً شہری اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب مہنگی قیمتوں پر ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اضافی اخراجات نے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہیں اور اب ایل پی جی کی خریداری ان کی مالی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کی فراہمی کے بغیر بھی انہیں بھاری بھرکم بلز موصول ہو رہے ہیں جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ ایک طرف گیس ملتی نہیں اور دوسری طرف بلوں کی ادائیگی لازم ہوتی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا دو بھر ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور علاقے میں سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سوئی گیس کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے تو کم از کم حکومت کو اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کرنا چاہیے۔ قیمتوں میں بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ ایسے میں سوئی گیس کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں گراں فروشی کے خلاف مختلف علاقوں میں انتظامی کارروائیاں بھی جاری ہیں جن کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا تقاضا ہے کہ گیس اور توانائی کے شعبے میں بھی ایسے ہی سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام ان کے اس دیرینہ اور اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ گیس کی فراہمی بحال ہونے سے نہ صرف لوگوں کے گھریلو اخراجات معمول پر آئیں گے بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف حصوں میں انتظامی امور اور ٹریفک کے حوالے سے بھی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کو تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عوامی بنیادی مسائل جیسے کہ گیس کی فراہمی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی دیگر انتظامی امور پر دی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ریاست کی طرف سے گیس، پانی اور بجلی جیسی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں تاکہ معاشرے میں توازن برقرار رہے۔ امید کی جاتی ہے کہ متعلقہ ادارے گرین ٹاؤن کے باسیوں کی اس فریاد کو سنیں گے اور جلد از جلد سوئی گیس کی بحالی کا عمل مکمل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت، گیس لوڈ شیڈنگ سے گھریلو صارفین پریشان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1404/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1404/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 07:57:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_اقدامات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گھریلو_صارفین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%aa-%da%af%db%8c%d8%b3-%d9%84%d9%88%da%88/</guid>

					<description><![CDATA[سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی فراہمی میں تعطل اور ایل پی جی کی عدم دستیابی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو کھانا پکانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور عوام متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہروں میں گیس کی قلت کے باعث ایل پی جی کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا ہے، تاہم سپلائی چین متاثر ہونے سے مارکیٹ میں ایل پی جی نایاب ہو گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں گیس کی سپلائی نہیں مل رہی جس کی وجہ سے بحران سنگین ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نے ان کے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جس سے ناشتہ اور رات کا کھانا تیار کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق سردیوں کے موسم میں گیس کی کھپت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے سسٹم پر دباؤ بڑھتا ہے۔ گیس کے ذخائر میں کمی اور درآمدی گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی اس بحران کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ایل پی جی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی سے نچلے طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی دستیابی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے بھی گیس کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ حکومتی سطح پر گیس کے متبادل ذرائع کی فراہمی کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی قلت کا یہ مسئلہ ملک کے کئی حصوں میں درپیش ہے۔ سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی گیس کی طلب میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کمپنیوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کریں تاکہ عوام کو پیشگی اطلاع مل سکے۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے گھریلو خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے گیس کے شعبے میں اصلاحات لانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عوام کو اب بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں گیس کے بلوں کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کی خریداری بھی ایک اضافی بوجھ بن چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں گیس کے بحران سے بچنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف گیس پر انحصار کم ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت بھی حاصل کی جا سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1404/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/123/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/123/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 10:16:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیوریج]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بحران]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/123/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی دارالحکومت میں سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں اتوار کے روز مہنگائی کی ایک نئی لہر نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی معطل ہونے کے باعث عوام ایل پی جی کے حصول کے لیے مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کا دن ہونے کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ناشتے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے گیس کی تلاش میں دکھائی دی۔ گیس کی عدم دستیابی نے خاص طور پر ان گھرانوں کو متاثر کیا ہے جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر سوئی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث قوت خرید ختم ہو چکی ہے، اب گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے ان کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام نظر نہیں آ رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے۔ حسن آباد روڈ پر سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے سڑک پر گندا پانی جمع ہو گیا ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیوریج کا پانی جمع ہونے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے بلکہ علاقے میں تعفن پھیلنے سے شہریوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ مقامی افراد نے حکام سے فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں گیس کی قلت اور انفراسٹرکچر کے مسائل نے اتوار کے دن شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری نرخوں پر لانے کے لیے فوری کارروائی کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ شہریوں کو روزمرہ کے امور میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف بازاروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے۔ دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حسن آباد روڈ پر سیوریج کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ واسا اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شہر کے نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے طویل مدتی منصوبے بنائیں۔ صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر لاہور کے شہری ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کے فقدان نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام ان مسائل کا نوٹس لے کر فوری ریلیف فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/123/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
