<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عوامی_مسائل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c_%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عوامی_مسائل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>جماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1673/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1673/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 06:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_لانگ_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_لیوی]]></category>
		<category><![CDATA[جماعت_اسلامی]]></category>
		<category><![CDATA[حافظ_نعیم_الرحمن]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-23-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، احتجاج جاری رہے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے جاری کردہ احتجاجی لائحہ عمل کے تحت اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 23 اکتوبر سے ملک گیر احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے دی گئی کال کے مطابق 23 اکتوبر بروز جمعہ کو ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہے اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال نے تجویز دی تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی کی ملاقات سے قبل دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیاں آپس میں مل کر تجاویز کو حتمی شکل دیں۔ تاہم تاحال حکومتی کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے نام پر بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے حقیقی ریلیف مل سکے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا ماننا ہے کہ حکومتی سطح پر سنجیدگی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے معاملات تعطل کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں مہنگائی اور عوام پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور حکومتی پالیسیوں میں بہتری نہیں آتی، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف ایک طویل احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کے پہلے دو مراحل میں بھی ملک بھر میں دھرنے اور مظاہرے کیے گئے تھے جنہیں عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوانے پر یقین رکھتی ہے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کا حق استعمال کر رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 اکتوبر کے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی کا یہ اقدام حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مذاکراتی عمل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کے مطابق ان کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ان کے مطالبات کی فہرست میں سرفہرست ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاج کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ کارکنوں کو پرامن رہنے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت ملک کے موجودہ معاشی حالات پر گہری تشویش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، محض وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں جبکہ عوام کی نظریں بھی اس احتجاجی تحریک کے نتائج پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1673/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سسٹم ری بوٹ ہو چکا ہے، جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، فیصل واوڈا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 00:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_و_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_کارکردگی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سسٹم_ری_بوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹر_فیصل_واوڈا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%db%81%d9%88-%da%86%da%a9%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%da%a9%d9%88-%d9%85%d8%b6%d8%a8%d9%88%d8%b7/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس ماہ قبل کی گئی ان کی پیش گوئیوں میں سے تین درست ثابت ہو چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی نظام اب &#039;ری بوٹ&#039; ہو چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مستحکم بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نہ تو مارشل لا کے حامی ہیں اور نہ ہی صدارتی نظام کے خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کا ری بوٹ ہونا دراصل اس نظام کو درست سمت میں لانے اور اسے عوامی مفاد کے مطابق چلانے کا ایک عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں یکساں ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف ایک صوبے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے پورے ملک میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ عوام کو سیاسی نعروں، پریس کانفرنسوں اور ڈنڈے جھنڈے کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عوام کی بنیادی ترجیحات میں آٹا، چینی، دودھ، تعلیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں جو انہیں سستے اور معیاری انداز میں درکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت عوام کے لیے عملی طور پر کام کرے گی تو عوام انہیں عزت دیں گے، بصورت دیگر سیاسی قیادت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اب کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جن لوگوں نے غریب عوام کی خدمت کے دعوے کیے، وہ آج خود ارب پتی بن چکے ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو اپنی توجہ سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے۔ عملی اقدامات ہی وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے ملک میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ملک میں آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق نظام کا چلنا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیاسی استحکام آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنا ہوگا۔ عوام اب وعدوں کے بجائے عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، اور یہی وہ معیار ہے جس پر اب ہر سیاسی جماعت کو پرکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک میں جاری سیاسی عمل کا مقصد عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، سیاسی نظام پر عوامی تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسے بڑے صوبوں میں بھی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور وہاں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے شہری شدید مشکلات کا شکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:37:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/</guid>

					<description><![CDATA[شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر گیا، عوام پریشان۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی طویل بندش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے متعدد گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا دورانیہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں لائنز ایریا، نیو کراچی، موسیٰ کالونی اور لیاری شامل ہیں۔ ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی کی فراہمی اور دیگر گھریلو کاموں میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملیر، لانڈھی اور کورنگی کے رہائشیوں نے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات کی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی اور بزرگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور قائد آباد کے مکین بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی اور ہاکس بے کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان علاقوں کے مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے صورتحال پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے یا جہاں صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کا نظام ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے جہاں نقصانات کی شرح زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی مکمل وصولی ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بلوں کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھی طویل لوڈشیڈنگ کی سزا دینا کسی طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں بجلی کے بحران کے باعث صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر بھی بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے عوام امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں گے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے بڑے تجارتی مرکز میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے جسے یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
