<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عمران_لوہانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86_%d9%84%d9%88%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 01:19:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عمران_لوہانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا نام ایک ہزار سال پرانے وائیکنگ بادشاہ سے منسوب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:19:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انوکھی_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[بلوٹوتھ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جیلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[حیرت_انگیز]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈنمارک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_ورثہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدیم_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ہیرالڈ_بلوٹوتھ]]></category>
		<category><![CDATA[وائرلیس_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[وائیکنگ_بادشاہ]]></category>
		<category><![CDATA[یونیسکو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/64/</guid>

					<description><![CDATA[جدید دور کی وائرلیس ٹیکنالوجی کا نام ڈنمارک کے قدیم بادشاہ ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاروں اور تاریخ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آج کے جدید دور میں جب ہم اپنے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور ہیڈ فونز کو بغیر کسی تار کے آپس میں منسلک کرتے ہیں تو &#039;بلوٹوتھ&#039; کا نام ہمارے سامنے آتا ہے۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ جدید ٹیکنالوجی ایک ایسے وائیکنگ بادشاہ کے نام سے منسوب ہے جو ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ قبل دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قدیم بادشاہ کا نام ہیرالڈ گورمسن تھا، جنہیں تاریخ میں &#039;بلوٹوتھ&#039; کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ قدیم نورس زبان میں اس لقب کو &#039;بلاتون&#039; (Blátǫnn) کہا جاتا تھا، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان کے کسی نیلے یا گلے سڑے ہوئے دانت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ ان کی حکمرانی دسویں صدی عیسوی میں ڈنمارک پر محیط تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔ جیلنگ میں نصب دو قدیم پتھر اس بادشاہ کے دورِ حکومت کی کہانی سناتے ہیں، جو آج بھی تاریخ دانوں کے لیے تحقیق کا مرکز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پتھروں میں سے بڑے پتھر پر کندہ تحریر کے مطابق ہیرالڈ نے پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کیا اور ڈنمارک کے لوگوں کو عیسائی بنایا۔ اس دور میں شمالی یورپ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، تاہم ہیرالڈ نے مسیحیت کو اپنا کر اور ایک متحد ریاست قائم کر کے خطے کی تاریخ بدل دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیلنگ کو ڈنمارک کی &#039;جائے پیدائش&#039; بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود پتھروں پر پہلی بار ملک کا نام تحریری شکل میں درج کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہیرالڈ کا دور ایک پرانے نظام سے نئے اور منظم سیاسی نظام کی طرف منتقلی کا اہم سنگ میل ثابت ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقام پر موجود دو تدفینی ٹیلے، ایک قدیم چرچ اور دیگر آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جیلنگ کبھی اقتدار کا مرکز تھا۔ 1994 میں یونیسکو نے جیلنگ کے ان تاریخی آثار، رون پتھروں اور چرچ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا مشہور لوگو بھی اسی بادشاہ کے نام سے جڑا ہے۔ یہ نشان قدیم نورس رسم الخط کے حروف &#039;ایچ&#039; اور &#039;بی&#039; کو ملا کر تشکیل دیا گیا ہے، جو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب 2023 میں اس ٹیکنالوجی کی 25 ویں سالگرہ منائی گئی تو اس کے بانیوں نے جیلنگ کا دورہ کیا اور ہیرالڈ کا نام اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی۔ میوزیم انتظامیہ نے یہ معذرت قبول کرتے ہوئے انہیں اگلے ایک ہزار برس تک یہ نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایڈم باک، جو کونگیرنس جیلنگ میوزیم کے نگران ہیں، کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ اپنی کامیابیوں پر بہت فخر محسوس کرتے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آج ہیرالڈ زندہ ہوتے تو یہ جان کر بے حد خوش ہوتے کہ دنیا بھر میں اربوں لوگ روزانہ ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کا جیلنگ قصبہ اپنی قدیم تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی کے اس انوکھے ملاپ کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں موجود انٹرایکٹو نمائشیں وائیکنگ عقائد سے عیسائیت تک کے سفر کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہیرالڈ کے والد گورم نے بھی جیلنگ میں اپنی اہلیہ تھیرا کی یاد میں ایک پتھر نصب کروایا تھا، جسے ڈنمارک کا پیدائشی سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقامات صرف جنگجوؤں کی کہانیاں نہیں بلکہ ایک قوم کے ارتقاء اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کی کامیابی نے نہ صرف مواصلاتی نظام کو آسان بنایا بلکہ تاریخ کے ایک گمشدہ باب کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ آج یہ نام صرف ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک قدیم بادشاہ کی میراث کا حصہ بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح ایک ہزار سال پرانی تاریخ اور جدید سائنسی ایجادات کا یہ حسین امتزاج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کے کردار کس طرح آج کی جدید دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ جیلنگ کے یہ پتھر آج بھی تاریخ کے اس راز کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/64/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/63/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/63/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_ڈیٹا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/63/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ پر ووٹ ڈیٹا بیس میں متنازع تبدیلیوں اور دیگر ارکان کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں حالیہ دنوں کے دوران الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف احتجاجی لہر میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک مقامی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ نے ووٹ ڈیٹا بیس میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر کمیشن کے دیگر اراکین کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق کمیشن کے اندرونی اراکین نے ڈیٹا بیس میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان خدشات کو بار بار رد کر دیا گیا جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں غیر قانونی ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن نے کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سیاست میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اس ادارے کی ساکھ کو چیلنج کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس میں ردوبدل کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس معاملے پر عدالتی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی سنگین ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو ان الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے مزید احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اٹھانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں، تاہم ڈیٹا بیس میں تبدیلی کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے زیادہ تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/63/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>موبائل سگنل نہ ہونے کے باوجود کال کیسے ممکن ہے؟ وائی فائی کالنگ کی ٹیکنالوجی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[VoLTE]]></category>
		<category><![CDATA[VoWiFi]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کمیونیکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_فون]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_نیٹ_ورک]]></category>
		<category><![CDATA[وائی_فائی_کالنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/62/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق وائی فائی کالنگ کے ذریعے صارفین کمزور سگنلز والے علاقوں میں بھی اپنے نمبر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موبائل فون سگنلز کی عدم موجودگی میں بھی فون کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت اب پاکستان میں عام ہو رہی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوامی آگاہی مہم کے ذریعے &#039;وائی فائی کالنگ&#039; یا &#039;وائس اوور وائی فائی&#039; (VoWiFi) ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکثر اوقات تہہ خانوں، بند عمارتوں یا دور دراز علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کے سگنل کمزور ہو جاتے ہیں، جس سے اہم رابطے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وائی فائی کالنگ ایک بہترین متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے جو صارف کو اپنے ہی موبائل نمبر سے کال کرنے کی سہولت دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی سی ٹی کے ماہر پرویز افتخار کے مطابق روایتی فون کال میں موبائل فون قریبی ٹاور سے رابطہ کرتا ہے، جو کال کو کمپنی کے نیٹ ورک تک پہنچاتا ہے۔ تاہم وائی فائی کالنگ میں یہ عمل مختلف ہوتا ہے اور کال کا ابتدائی سفر موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے طے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی میں صارف کی آواز کو انٹرنیٹ ڈیٹا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو محفوظ راستے سے موبائل کمپنی کے سسٹم تک پہنچتا ہے۔ وہاں سے کمپنی اس کال کو عام کال کی طرح مطلوبہ نمبر تک پہنچا دیتی ہے، جس سے وصول کنندہ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کال وائی فائی کے ذریعے کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائی فائی کالنگ اور واٹس ایپ یا دیگر ایپس کے ذریعے کی جانے والی کالز میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وائی فائی کالنگ موبائل آپریٹر کی اپنی وائس سروس کا حصہ ہے۔ اس کے لیے وصول کنندہ کے پاس کسی مخصوص ایپ یا انٹرنیٹ کا ہونا ضروری نہیں ہے، وہ عام لینڈ لائن پر بھی کال وصول کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سہولت کو استعمال کرنے کے لیے چند تکنیکی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ صارف کے پاس ایسا موبائل فون ہونا چاہیے جو VoWiFi اور VoLTE کو سپورٹ کرتا ہو۔ اس کے علاوہ فون میں فور جی (4G/LTE) سم کا ہونا اور وائس کال یا ایس ایم ایس کا پیکج فعال ہونا بھی لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موبائل آپریٹرز کے مطابق جدید اسمارٹ فونز، جن میں سام سنگ، ایپل، ہواوے، شاؤمی، اوپو اور ویوو کے مختلف ماڈلز شامل ہیں، یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ صارفین اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر کنیکشنز یا سم سیٹنگز کے ذریعے اس فیچر کو فعال کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی فون صارفین سیلولر یا موبائل سروس کے آپشن میں جا کر وائی فائی کالنگ کو آن کر سکتے ہیں۔ اگر کسی صارف کو سیٹنگز میں یہ آپشن نظر نہ آئے تو وہ اپنے متعلقہ موبائل آپریٹر سے رابطہ کر کے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائی فائی کالنگ کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ اس پر وہی نرخ لاگو ہوتے ہیں جو عام کال یا ایس ایم ایس کے لیے طے شدہ ہوتے ہیں۔ یہ سہولت دراصل روایتی موبائل سروس کا ہی ایک جدید تسلسل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی یہ پیشرفت صارفین کے لیے مواصلاتی رابطوں کو مزید آسان بنا رہی ہے۔ اب سگنلز کی کمی کسی بھی اہم گفتگو میں رکاوٹ نہیں بنے گی، بشرطیکہ صارف کے پاس وائی فائی کی سہولت موجود ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں اپنے صارفین کو اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے لیے مسلسل آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔ ویب سائٹس پر موجود ہدایات کے مطابق، اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے فور جی ایل ٹی ای ٹیکنالوجی کا ہونا بنیادی شرط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">VoLTE یعنی &#039;وائس اوور ایل ٹی ای&#039; سے مراد کال کو فور جی نیٹ ورک پر برقرار رکھنا ہے۔ ماضی میں کال کے دوران فون تھری جی یا ٹو جی پر منتقل ہو جاتے تھے، لیکن اب VoLTE کی بدولت آواز کا معیار پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور واضح ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختصراً، وائی فائی کالنگ ایک ایسی جدید سہولت ہے جس نے موبائل نیٹ ورک کی حدود کو ختم کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف گھروں اور دفاتر میں رابطوں کو یقینی بناتی ہے بلکہ ہنگامی صورتحال میں بھی ایک کارآمد ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/62/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہری پور: پانچ سالہ آیت نور قتل کیس میں تین ملزمان کی ضمانت منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:57:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آیت_نور_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[ہری_پور]]></category>
		<category><![CDATA[ہری_پور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے پولیس کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں تینوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے ہری پور میں پانچ سالہ بچی آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ حتمی تفتیشی رپورٹ میں ان ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والی پانچ سالہ آیت نور 10 اگست کو گھر کے قریب کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ بچی کے والد محمد شفیق نے گمشدگی کے بعد شدید صدمے کی حالت میں ابتدائی طور پر ان تینوں لڑکوں کو نامزد کیا تھا، جنہیں بعد ازاں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے 15 روز بعد 24 اگست کو ایک اور کم عمر مرکزی ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش شہر کے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔ مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اقبال کر لیا تھا اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیش کی گئی اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، جدید سائنسی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ ان تینوں ملزمان کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ان کے خلاف کوئی تحریری یا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ بچی کے والد محمد شفیق نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے شدید صدمے اور پریشانی کے باعث غلطی سے ان لڑکوں کو نامزد کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اب انہیں پولیس کی تفتیش پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ضمانت کی منظوری پر مطمئن ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کے وکیل عاطف علی جدون ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکلوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں زبردستی اعترافی بیانات دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے لڑکوں نے ڈی پی او ہری پور کو اس حوالے سے درخواست بھی دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق، مرکزی ملزم کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی تھی۔ اس فوٹیج میں ملزم کو بچی کو ورغلا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے بچی کے والد کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ صرف ایک دس، بارہ سال کے کم عمر لڑکے نے تن تنہا یہ گھناؤنا جرم کیا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس واقعے کی مزید گہرائی سے تفتیش کرے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں مرکزی ملزم کا ٹرائل جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ نے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہری پور پولیس کے ترجمان اور متعلقہ افسران سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پولیس کا اصرار ہے کہ تفتیش میرٹ پر کی گئی ہے اور اصل ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد ہری پور میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور شہریوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج بھی کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد اب کیس کا رخ مکمل طور پر مرکزی ملزم کے ٹرائل پر مرکوز ہو گیا ہے۔ قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نابالغ ملزمان کے کیسز میں سائنسی شواہد اور فرانزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس کیس میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والدین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا مکمل انصاف کیا جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کرنے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کلاسک فلم &#8216;پاکیزہ&#8217; کی ڈیجیٹل بحالی، لندن میں خصوصی نمائش کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/60/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/60/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکیزہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکیزہ_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سنیما]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم_ہیریٹیج]]></category>
		<category><![CDATA[فلمی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ٹیم]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کلاسک_سنیما]]></category>
		<category><![CDATA[کلاسک_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[کمال_امروہی]]></category>
		<category><![CDATA[لندن_فلم_فیسٹیول]]></category>
		<category><![CDATA[مینا_کماری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/60/</guid>

					<description><![CDATA[ہدایت کار کمال امروہی کی شاہکار فلم 'پاکیزہ' کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دوبارہ بڑی سکرین پر پیش کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ہندی سنیما کی تاریخ کی یادگار فلم &#039;پاکیزہ&#039; ایک بار پھر شائقین کے لیے بڑی سکرین پر جلوہ گر ہونے کو تیار ہے۔ اس کلاسک فلم کو جدید ڈیجیٹل معیار یعنی فور کے (4K) ریسٹوریشن کے ساتھ دوبارہ بحال کیا گیا ہے، جس کے بعد اسے لندن کے بی ایف آئی آئی میکس سنیما میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی اس خصوصی نمائش کا انعقاد 18 اکتوبر 2026 کو طے پایا ہے۔ فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نمائش کے تمام ٹکٹ ایک ماہ قبل ہی فروخت ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلیز کے 54 برس بعد بھی اس فلم کا سحر برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاہکار فلم کو فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے امروہی خاندان کے تعاون سے محفوظ اور ڈیجیٹل طریقے سے بحال کیا ہے۔ یہ نیا ورژن سب سے پہلے فرانس کے شہر لیون میں ہونے والے فیسٹیول لومیئر میں دکھایا جائے گا، جس کے بعد اسے بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدایت کار کمال امروہی کے اس خوابوں کے منصوبے کی تکمیل میں 15 برس کا طویل عرصہ لگا تھا۔ فلم کا آغاز 1957 میں ہوا تھا اور اس کے دوران کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ کمال امروہی نے اسے ایک شاہکار بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اس کے لیے ہالی وڈ سے خصوصی سنیما سکوپ لینز بھی منگوائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی تیاری کے دوران کمال امروہی کی باریک بینی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ہالی وڈ کی لیبارٹری سے تصدیق کروائی کہ کیمرے کے فوکس میں ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے کا فرق بھی موجود ہے۔ ان کی اس لگن کے باعث ایم جی ایم سٹوڈیوز نے لینز کا کرایہ بھی معاف کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کے &#039;بازارِ حسن&#039; والے سیٹ کی تعمیر پر 10 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت آئی تھی۔ چار منزلہ اس سیٹ کی تعمیر پر 600 افراد نے آٹھ ماہ تک دن رات کام کیا تھا۔ حقیقت سے قریب تر دکھانے کے لیے ملک بھر سے دکانیں لا کر اس سیٹ کا حصہ بنائی گئی تھیں جو ایک سال سے زائد عرصے تک وہاں موجود رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی شوٹنگ کے دوران کمال امروہی اور مینا کماری کے نجی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے باعث فلم کی تکمیل کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔ مارچ 1964 میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی، جس کے بعد مینا کماری کی صحت بھی متاثر ہونے لگی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، کمال امروہی نے ہمت نہ ہاری اور 25 اگست 1968 کو مینا کماری کو ایک جذباتی خط لکھا جس میں انہوں نے فلم کی تکمیل کے لیے ان کی مدد مانگی۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ یہ فلم ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کی مانند ہے جسے صرف مینا کماری ہی کنارے تک پہنچا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اپیل کے بعد دونوں کے درمیان مفاہمت ہوئی اور 16 مارچ 1969 کو مینا کماری نے دوبارہ فلم کی شوٹنگ شروع کی۔ اس وقت تک ہندی سنیما کا مزاج بدل چکا تھا اور راجیش کھنہ جیسے نئے اداکار مقبولیت حاصل کر چکے تھے، لیکن مینا کماری کی واپسی نے فلم میں نئی روح پھونک دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی موسیقی موسیقار غلام محمد نے ترتیب دی تھی، جن کے گیت &#039;انہی لوگوں نے&#039;، &#039;ٹھاڑے رہیو&#039; اور &#039;چلتے چلتے&#039; آج بھی مقبول ہیں۔ بدقسمتی سے غلام محمد فلم کی کامیابی دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے اور 1968 میں انتقال کر گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی شوٹنگ دسمبر 1971 میں مکمل ہوئی، تاہم اس وقت تک مینا کماری کی صحت انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی۔ چار فروری 1972 کو جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس سے ایک روز قبل ممبئی کے مراٹھا مندر سنیما میں اس کا شاندار پریمیئر منعقد کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینا کماری کی وفات کے بعد اس فلم کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور سنیما گھروں میں شائقین کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ لوگ صرف فلم دیکھنے نہیں بلکہ اپنی پسندیدہ اداکارہ کو آخری بار سکرین پر دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سنیما گھروں کا رخ کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج بھی &#039;پاکیزہ&#039; کو ہندی سنیما کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی ڈیجیٹل بحالی نئی نسل کو اس کلاسک شاہکار سے روشناس کرانے کا ایک بہترین موقع ہے، جو کمال امروہی کی محنت اور مینا کماری کی لازوال اداکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/60/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/59/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/59/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دھروو_راٹھی]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سونم_وانگچک]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاکروچ_جنتا_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_دہلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/59/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، میٹرو اور ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، جسے پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس اور کئی ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے دوران پولیس نے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں طلبہ رہنما، وکلا اور صحافی بھی شامل ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ منتظمین نے اجازت کے لیے مقررہ وقت پر درخواست نہیں دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی چاہے طاقت استعمال کر لے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ پرامن احتجاج یا بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبول یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دھروو راٹھی نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو میں دہلی میں کیے گئے لاک ڈاؤن اور میٹرو اسٹیشنز کی بندش پر کڑی تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ تاہم، کچھ صحافیوں کو بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتن نوین نے اس احتجاج کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے تاحال کسی بڑے تصادم یا تشدد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکام نے عوام سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمشنر کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے لیے منتظمین نے جنتر منتر کا انتخاب کیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/59/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: ویزا فراڈ کا شکار طالبہ کی خودکشی، وزیراعظم کا نوٹس، مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:38:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_اسلامک_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خودکشی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ویزا_فراڈ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پولیس کو طالبہ کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں ملی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، 24 سالہ لائبہ اعجاز کا تعلق سرگودھا سے تھا اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کی خواہش مند تھیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ایک ایسے شخص کے رابطے میں آئیں جس نے خود کو سپریم کورٹ کا ملازم ظاہر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کے مطابق، ملزم نے لائبہ کو امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ اور سکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دیا۔ ملزم نے اپنی باتوں سے خاندان کا اعتماد جیتا اور مختلف حیلے بہانوں سے ان سے لاکھوں روپے بٹورنا شروع کر دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے بہنوئی زید بن افضال نے بتایا کہ ملزم نے ویزا اور داخلے کے نام پر خاندان سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزم نے انہیں جعلی داخلہ لیٹرز، سکالرشپ دستاویزات اور فیس کی رسیدیں بھی فراہم کیں تاکہ خاندان کو دھوکے میں رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان نے بتایا کہ ملزم بار بار ویزا انٹرویو کی تاریخیں دیتا رہا، لیکن ہر بار عین وقت پر انٹرویو کینسل ہونے کا بہانہ بنا دیتا تھا۔ جب لائبہ کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا ہے اور اسے دیے گئے تمام کاغذات جعلی ہیں، تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے روز لائبہ گھر سے نکلی اور اپنے بہنوئی کو فون کر کے کہا کہ ان کے والد کو فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد لائبہ کا موبائل فون بند ہو گیا اور اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے اہل خانہ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی لوکیشن ٹریس کی جو جی ٹین کے ہفتہ وار بازار کے قریب ظاہر ہوئی۔ وہاں پہنچنے پر انہیں لائبہ کی لاش ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور لاش کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے اس المناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کی رقوم کی واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے لائبہ کے بھائی کو نوکری دلوانے کے نام پر بھی رقم لی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس معاملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف پی پی سی کی دفعات 419، 420، 109 اور امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے نے ملزم کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے تاکہ فراڈ میں ملوث دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق، ابتدائی طور پر ورثا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے تھے تاہم بعد ازاں قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ لائبہ کی تدفین کے بعد اب پولیس اور ایف آئی اے مشترکہ طور پر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/58/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن_بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[گیانیش_کمار]]></category>
		<category><![CDATA[لانگ_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_لسٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</guid>

					<description><![CDATA[مختلف ممالک میں تعلیمی مسائل، انتخابی فہرستوں میں ترمیمی عمل اور سیاسی مطالبات پر جاری احتجاج نے ریاست اور شہریوں کے تعلق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے مختلف ممالک میں بنیادی حقوق، تعلیمی اصلاحات اور انتخابی شفافیت کے لیے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے باعث ریاستی ترجیحات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عالمی سطح پر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکول کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور کلاس رومز میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں جاری طلبہ کے اس احتجاج نے چھ اکتوبر کو اس وقت شدید پرتشدد نوعیت اختیار کر لی جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کا نشانہ بن کر ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ طلبہ کے مطالبات اور خدشات کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں طلبہ کے اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی عدم مساوات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف بہترین سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے موجود ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کے انتظار میں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی اور شدید کشمکش کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی اپوزیشن اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے اس عمل کو روکا جائے، تاکہ مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام دوبارہ بحال ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک کے دوران سات اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کو درست اور شفاف بنانا ہے، اور تمام اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کے باوجود جمہوری حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام میں ووٹرز کے اعتماد کی بحالی ہی انتخابات کی شفافیت کی اصل ضامن ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول قائم ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنا سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی اور قانون دان ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ قانون شکنی اور عمومی املاک کی توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ایک طاقتور اور جدید جمہوری ریاست کا وقار صرف بلند و بالا عمارتوں اور پولیس فورس کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن اس کے اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی میں نظر آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیرس: بچوں کے آن لائن استحصال کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث بھارتی شہری کو 20 سال قید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/56/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/56/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:17:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_استحصال]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روہن_رانے]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[سزا]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/56/</guid>

					<description><![CDATA[فرانسیسی عدالت نے معصوم بچوں کو بلیک میل کرنے اور پرتشدد مواد پھیلانے میں ملوث بھارتی شہری روہن رانے کو بیس سال قید کی سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ایک سیشن عدالت نے کم عمر بچوں کے جنسی استحصال اور آن لائن بلیک میلنگ کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث انتیس سالہ بھارتی شہری روہن سندیپ رانے کو بیس برس قید کی سخت سزا سنا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ذرائع کے مطابق مجرم روہن رانے کو فرانسیسی تحقیقاتی اداروں نے سال دو ہزار اکیس میں ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف طویل قانونی کارروائی جاری رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی شہری پر بچوں کی غیر قانونی تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر، سنگین نوعیت کی بھتہ خوری اور نادان بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہوئے، جس پر عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی گروہ کے کارندے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کے ذریعے معصوم اور کم عمر بچوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ خطرناک نیٹ ورک بنیادی طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک کے بچوں کو ہدف بناتا تھا اور انہیں بلیک میل کر کے زبردستی غیر قانونی و پرتشدد مواد بنانے پر مجبور کرتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ ورک میں شامل عناصر معصوم بچوں کی مجبوریوں اور نادانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرتے تھے اور بعد ازاں ان کے ذریعے مواد تیار کر کے پھیلاتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عالمی گروہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ تحقیقاتی کارروائی کی تھی، جس کے دوران مختلف ممالک کے سائبر کرائم سیلز نے ڈیٹا کا تبادلہ کر کے گینگ کا سراغ لگایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیرس کی عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ بھارتی شہری اس نیٹ ورک کے کلیدی کارندوں میں شامل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس مجرمانہ گروہ کے ایک اور اہم رکن کیلب کرسٹوفر میرٹ کو اس سے قبل امریکہ میں قانون کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے، جہاں اسے بچوں کے خلاف جرائم پر پچاس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی قوانین کے تحت کم عمر بچوں کی حفاظت اور ان کے خلاف ہونے والے آن لائن جرائم کے سدباب کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں، اور اس فیصلے کو معصوموں کے تحفظ میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر معصوم بچوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے نشانہ بنانے والے انٹرنیشنل گروہوں کی فعال سرگرمیوں پر انسانی حقوق اور بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر سخت سیکیورٹی فلٹرز کی عدم موجودگی اور نگرانی میں غفلت کے باعث ایسے مجرمانہ عناصر کو معصوم بچوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی عدالت کے اس فیصلے کو آن لائن دنیا میں بچوں کا استحصال کرنے والے عالمی نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ سائبر سپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/56/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی کمپنی کا بغیر کھڑکیوں والا جدید طیارہ بنانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:57:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بلینڈڈ_ونگ_باڈی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_طیارہ]]></category>
		<category><![CDATA[جیٹ_زیرو]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زیڈ_4]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_اور_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_ایجادات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</guid>

					<description><![CDATA[جیٹ زیرو نامی اسٹارٹ اپ کمپنی کا تیار کردہ زیڈ 4 طیارہ اپنی منفرد ساخت اور بلینڈڈ ونگ باڈی ڈیزائن کی بدولت فضائی سفر میں انقلاب لائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی جیٹ زیرو نے ایک انتہائی جدید اور منفرد مسافر طیارے کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو اپنی ساخت میں روایتی جہازوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس طیارے کا ڈیزائن فضائی صنعت میں ایک نئی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلیفورنیا میں قائم اس کمپنی نے اپنے اس پروجیکٹ کو زیڈ 4 کا نام دیا ہے۔ اس طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ’بلینڈڈ ونگ باڈی‘ ڈیزائن ہے، جس میں طیارے کے مرکزی حصے اور پروں کو ایک ہموار ساخت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے مطابق اس طیارے کی ظاہری شکل سمندری مخلوق ’اسٹنگ رے‘ مچھلی سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ یہ ڈیزائن روایتی طیاروں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی اور کم اونچائی والی ساخت فراہم کرتا ہے جو اسے ہوا میں زیادہ مستحکم بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید طیارے میں 250 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہوگی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ ایک بار ایندھن بھرنے کے بعد پانچ ہزار میل تک کا طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، جو اسے بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طیارے کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت اس میں روایتی کھڑکیوں کا نہ ہونا ہے۔ کھڑکیوں کے بغیر یہ ڈیزائن طیارے کے وزن کو کم کرنے اور اس کی ایروڈائنامک کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طیارے کے اندرونی حصے کو انتہائی کشادہ بنایا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران زیادہ آرام دہ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ نشستوں کی ترتیب اور کیبن کا ڈیزائن مسافروں کو ایک جدید اور پرسکون ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کا یہ منصوبہ بوئنگ جیسے بڑے طیارہ ساز اداروں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا مقصد روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر ایک ایسا طیارہ متعارف کرانا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور کارکردگی کا بہترین امتزاج ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے سال 2027 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت انجینئرز اور ماہرین طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ اسے فضائی سفر کے معیارات کے مطابق بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائی صنعت کے ماہرین اس منصوبے کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، طیارے کی اصل کارکردگی اور اس کی عملی صلاحیتوں کا حتمی اندازہ آزمائشی مراحل مکمل ہونے اور کامیاب پرواز کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے کی کامیابی سے مستقبل میں ہوائی سفر کے انداز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگر یہ طیارہ اپنی آزمائشوں میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ایوی ایشن کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے جس میں کارکردگی کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کی جانب سے اس جدید طیارے کی تیاری پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ طیارہ اپنی منفرد ساخت اور خصوصیات کے ساتھ مسافروں کی توقعات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس طیارے کے ذریعے فضائی سفر کو نہ صرف تیز تر بلکہ زیادہ کفایت شعار بنانا چاہتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیارے کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے برسوں میں اس طیارے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ فی الحال، جیٹ زیرو اپنی تمام تر توجہ 2027 میں ہونے والی پہلی پرواز کی تیاریوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
