<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>علاج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 20:26:55 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>علاج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دل کی دھڑکن کی بحالی کا ٹیسٹ: صحت اور طویل عمری کا راز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1970/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1970/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_دھڑکن]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طویل_عمر]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%af%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%da%91%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کے بعد دل کی دھڑکن جتنی تیزی سے معمول پر آئے، قلبی صحت اتنی ہی بہتر ہوتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسانی جسم میں صحت مند طرزِ زندگی اور جسمانی فٹنس کو جانچنے کے لیے متعدد طریقے اور پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں اب ایک ایسا سادہ ٹیسٹ بھی سامنے آیا ہے جو دل کی کارکردگی اور مجموعی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ورزش کے دوران جسم کا ردعمل ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ورزش ختم ہونے کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلدی معمول پر آتی ہے، یہ صحت کا ایک بنیادی اشارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیسٹ کو دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کہا جاتا ہے، جس سے مراد ورزش کے دوران دل کی بلند رفتار اور ورزش روکنے کے ایک منٹ بعد دل کی دھڑکن کے درمیان پایا جانے والا فرق ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ رفتار دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا تعین کرتی ہے اور اس سے بلند فشارِ خون سمیت دل کی دیگر بیماریوں کے خطرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کی بحالی کا یہ عمل صرف قلبی امراض تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج جسم میں موجود دیگر پوشیدہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق اس ٹیسٹ کا غیر تسلی بخش نتیجہ مجموعی طور پر قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافے کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس حوالے سے اہم ترین تحقیق سنہ 1999 میں امریکی ریاست اوہائیو کے کل یو لینڈ کلینک کے ماہرین نے کی تھی۔ اس چھ سالہ طویل تحقیق میں تقریباً چوبیس سو بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تاکہ دل کی دھڑکن اور صحت کے خطرات کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مطالعے کے دوران یہ اہم ترین حقیقت سامنے آئی کہ جن افراد کے دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول کی حالت میں واپس آنے میں زیادہ وقت لیتی تھی، ان میں موت کا خطرہ دیگر عام افراد کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ پایا گیا۔ بعد ازاں دنیا بھر میں ہونے والی دیگر طبی تحقیقات نے بھی ان نتائج کی بھرپور تصدیق کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گھر پر عام اشیا کی مدد سے اس ٹیسٹ کو انجام دینے کا ایک آسان طریقہ موجود ہے، البتہ کوئی بھی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو طبی نگرانی کے بغیر اس نوعیت کا کوئی بھی ٹیسٹ خود کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرنے کے لیے وقت نوٹ کرنے کا کوئی ذریعہ یا موبائل فون کا ٹائمر درکار ہوتا ہے، جبکہ سمارٹ واچ یا فٹنس ٹریکر بھی اس مقصد کے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی عمر کی مدد سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ دل کی دھڑکن کا اندازہ لگایا جاتا ہے، جس کا عام طریقہ یہ ہے کہ دو سو بیس میں سے اپنی عمر کو تفریق کر دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد ایسی جسمانی سرگرمی یا ورزش کی جاتی ہے جس سے دل کی دھڑکن اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ستر سے پچاسی فیصد تک پہنچ جائے۔ اس مقصد کے لیے دوڑنا، سائیکل چلانا یا روئنگ مشین کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کا انحصار فرد کی اپنی جسمانی استعداد پر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش ختم ہوتے ہی جب دل کی رفتار بلند سطح پر ہو تو اپنی نبض چیک کی جاتی ہے، اور اگر سمارٹ واچ نہ ہو تو گردن پر انگلی رکھ کر دس سیکنڈ تک دھڑکنیں گن کر اسے چھ سے ضرب دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک منٹ تک آرام کرنے کے بعد دوبارہ نبض چیک کی جاتی ہے اور پہلی تعداد میں سے دوسری کو تفریق کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اگر ورزش کے پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کم از کم اٹھارہ دھڑکنیں کم ہو جائے تو اسے ایک اچھا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ کمی بارہ دھڑکنوں سے کم ہو تو یہ مستقبل میں صحت کے بعض ممکنہ مسائل یا خطرات کی علامت ہوسکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کے جلد معمول پر آنے اور صحت کے درمیان تعلق کی ایک بڑی وجہ ویگس اعصاب کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب دماغ کو دل، جگر اور آنتوں سمیت جسم کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور دباؤ یا سکون کی حالت کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش کے دوران جسم کا ایک نظام ایکسیلیریٹر کی طرح کام کرتے ہوئے دل کی دھڑکن کو تیز کرتا ہے اور خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے۔ ورزش مکمل ہونے کے بعد جسم کا دوسرا نظام بریک کا کردار ادا کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو دوبارہ آرام دہ اور معمول کی حالت میں لے آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیسے جیسے کسی شخص کی جسمانی فٹنس بہتر ہوتی جاتی ہے، اس کا جسم ان دونوں نظاموں کے درمیان زیادہ مؤثر طریقے سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس صلاحیت کو بلند وی گل ٹون کہا جاتا ہے جو کہ بہتر ذہنی کارکردگی اور طویل صحت مند زندگی سے جڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی شخص کو اپنے دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کے حوالے سے کوئی تشویش ہو تو ماہرین اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کے ذریعے اس رفتار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور صحت کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1970/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ، طبی ماہرین متحرک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1945/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1945/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:16:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شامونڈا_وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فرانس میں ایک مریض میں شامونڈا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو اب تک صرف مویشیوں میں پایا جاتا تھا، ماہرین نے تحقیقات شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں صحت کے حکام نے شامونڈا وائرس (Shamonda virus) کا پہلا انسانی کیس رپورٹ کیا ہے، جس نے طبی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ وائرس ماضی میں صرف کیڑوں کے ذریعے مویشیوں اور فارم کے جانوروں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کا شکار ہونے والا مریض لیون شہر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھا جہاں وہ اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث طبی امداد حاصل کر رہا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں انتقال کرنے والے اس مریض کی علامات نے ماہرین کو چونکا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی طبی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مریض کی موت سے قبل سامنے آنے والی شدید دماغی پیچیدگیاں اسی وائرس کے سبب تھیں۔ طبی ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت کیسے حاصل کر گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شامونڈا وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ پہلی بار 1960 کی دہائی میں نائیجیریا میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ وائرس افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کے ریوڑوں میں وقتاً فوقتاً پایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ یہ وائرس شْمَالینبرگ (Schmallenberg) وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مویشیوں میں یہ بیماری بخار، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسہال اور بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا باعث بنتی ہے جو کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موسم گرما کے دوران یورپ کے کئی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، کسی انسان میں اس کی منتقلی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس نے یورپی صحت کے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور نئی تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زرعی اور صحت کے حکام نے عوام کو تسلی دی ہے کہ عام شہریوں کے لیے اس وائرس سے فی الحال کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے ہی جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکام اب یورپ بھر میں جانوروں اور مڈجز (چھوٹے کیڑوں) پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کے رویے اور اس کی منتقلی کے ذرائع کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت طبی سائنس کے لیے ایک اہم چیلنج ہے کیونکہ اب تک اس وائرس کو صرف جانوروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی اس کیس کے بعد یورپ میں وائرس کی جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے زور دیا ہے کہ فارم کے جانوروں کے قریب کام کرنے والے افراد کو حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ جانوروں میں کسی بھی غیر معمولی علامت کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری حکام کو مطلع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکومت نے اس معاملے پر مزید تحقیق کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا یہ وائرس انسانوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1945/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایسی غذائیں جو فریج کے بغیر بھی برسوں تک خراب نہیں ہوتیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1372/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1372/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:58:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزمرہ_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_تندرستی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[غذائی ماہرین کے مطابق کچھ اشیاء کو مناسب طریقے سے محفوظ کر کے طویل عرصے تک قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر قسم کی خوراک ایک مخصوص مدت کے بعد خراب ہو جاتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کئی غذائی اشیاء موجود ہیں جو مناسب حالات میں برسوں بلکہ غیر معینہ مدت تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ غذائیت کے مطابق ان اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے درجہ حرارت، نمی اور روشنی سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ان بنیادی اصولوں کا خیال رکھا جائے تو گھر میں موجود کئی اشیاء کو طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہد ان غذاؤں میں سرفہرست ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اگر خالص شہد کو ہوا بند برتن میں نمی سے بچا کر رکھا جائے تو یہ برسوں تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا جم جانا یا رنگت کا گہرا ہونا خرابی کی علامت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفید چاول بھی طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ اگر انہیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر ہوا بند ڈبے میں رکھا جائے تو یہ کئی دہائیوں تک قابلِ استعمال رہتے ہیں۔ تاہم بھورے چاولوں میں موجود قدرتی تیل انہیں جلد خراب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نمک اور چینی کو بھی طویل المیعاد ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ نمک کو نمی سے بچانا ضروری ہے، جبکہ چینی کو کیڑوں اور پانی سے دور رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کارن اسٹارچ بھی مناسب طریقے سے محفوظ کرنے پر کئی برسوں تک خراب نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکہ اپنی تیزابی خصوصیات کی بدولت طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے خراب ہونے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے رنگ میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن یہ کھانے کے لیے بالکل محفوظ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خشک لوبیا بھی ایک ایسی غذا ہے جسے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کئی برس گزرنے کے بعد اس کا ذائقہ یا پکنے کی صلاحیت کچھ متاثر ہو سکتی ہے، لیکن مناسب حالات میں یہ طویل مدت تک استعمال کے قابل رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے علاوہ سویا ساس، خشک پھل، پاپ کارن کے خشک دانے، انسٹنٹ کافی، خالص ونیلا ایکسٹریکٹ اور ملک پاؤڈر بھی نسبتاً طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی اشیاء ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ میپل سیرپ، کینولا آئل، ناریل کا تیل اور پروٹین پاؤڈر جیسی اشیاء کی ایک محدود شیلف لائف ہوتی ہے اور انہیں طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو چاہیے کہ وہ ڈبے میں بند اشیاء کے استعمال سے پہلے پیکنگ کا بغور جائزہ لیں۔ اگر ڈبہ پھولا ہوا ہو، اس سے کچھ رس رہا ہو یا وہ شدید زنگ آلود ہو تو ایسی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے کی کسی بھی چیز میں بدبو، غیر معمولی رنگت یا ذائقے میں واضح تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ غذا اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ ایسی صورت میں صحت کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1372/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1328/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1328/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 18:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الٹرا_پراسیسڈ_غذائیں]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریوں_سے_بچاؤ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی اجزاء سے بھرپور غذاؤں کا کثرت سے استعمال دماغی نقصان اور فالج کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جدید دور میں ہماری غذائی عادات میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق نے ان غذاؤں کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میک ماسٹر یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی جانب سے کی گئی یہ تحقیق طبی جریدے &#039;جاما نیٹ ورک اوپن&#039; میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد پراسیس شدہ غذاؤں اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد اپنی روزمرہ خوراک میں الٹرا پراسیسڈ اشیاء کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ میں ایسے نقصانات کی علامات ظاہر ہونے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے جو فالج کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں میں ایسے کیمیائی اجزاء اور مصنوعی مٹھاس شامل ہوتی ہے جو عام طور پر گھروں میں کھانا پکانے کے دوران استعمال نہیں کی جاتی۔ یہ اجزاء طویل مدتی بنیادوں پر جسمانی اور دماغی افعال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان غذاؤں کی فہرست میں سافٹ ڈرنکس، چپس، کوکیز، کریکرز اور ٹافیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈبوں میں بند میکرونی، پنیر، منجمد تیار شدہ کھانے، فوری استعمال کے لیے دستیاب اشیاء اور پراسیس شدہ گوشت بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان اشیاء کا کثرت سے استعمال نہ صرف وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ قلبی اور دماغی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی کے لیے قدرتی غذاؤں کا انتخاب ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں شامل صحت مند افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ غذا میں موجود مصنوعی کیمیکلز اعصابی نظام اور دماغی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ اثرات وقت کے ساتھ ساتھ فالج جیسے جان لیوا مرض کی راہ ہموار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرز زندگی میں سہولت کی تلاش میں ہم غیر صحت بخش غذاؤں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ گھر میں تیار کردہ تازہ اور متوازن غذا کا استعمال ہی ایسی بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق کی اشاعت کے بعد طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی خوراک میں پھلوں، سبزیوں اور قدرتی اجزاء کو شامل کریں۔ پراسیس شدہ اشیاء کے استعمال میں کمی لانا طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات پر دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہماری غذا کا براہ راست تعلق ہماری ذہنی اور جسمانی کارکردگی سے ہے، جسے نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فالج اور دیگر دائمی امراض کے پیچھے ناقص غذائی عادات ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہیں تاکہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کون سے مخصوص اجزاء دماغی نقصان میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال، احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غذائی عادات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ مصنوعی اور پراسیس شدہ غذاؤں سے دوری اختیار کر کے ہم نہ صرف فالج بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1328/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کا پھیلاؤ، ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/879/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/879/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:36:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اموات]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a4/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی ممالک میں مچھروں سے پھیلنے والے وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، صحت کے اداروں نے تشویش کا اظہار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یورپ بھر میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں رواں برس اب تک ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یورپی ادارہ برائے انسداد امراض نے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے اب تک براعظم کے 18 ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق اب تک متاثرہ افراد کی کل تعداد 1855 تک جا پہنچی ہے، جن میں سے 141 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط کیسز سے کہیں زیادہ ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد سے اب تک 769 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ تاحال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا میں کیسز کی مجموعی تعداد 1715 تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار نے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ممالک میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک 748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یونان میں 445 اور فرانس میں 144 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی سائنسی افسر گیوسی امورے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کی سطح ریکارڈ بلندی پر ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں اس کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویسٹ نائل وائرس بنیادی طور پر مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی اداروں نے یورپی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر کھڑے پانی کو ختم کرنا اور مچھر دانی کا استعمال اس وائرس سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے اور آگاہی مہمات کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بخار یا علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین کے ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کے نمونوں کو سمجھ کر بروقت تدارک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یورپ جیسے خطوں میں بھی ایسے وائرس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/879/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
