<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عدلیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%af%d9%84%db%8c%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عدلیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>چیف جسٹس امین الدین خان کا دورہ آذربائیجان، عدالتی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:18:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آذربائیجان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کے دورے کے دوران عدالتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کا سرکاری دورہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کو فروغ دینا اور قانونی شعبے میں باہمی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دورے کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین سے اہم ملاقات کی، جس میں عدالتی نظام کے تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ عدالتی حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدالتی تعاون کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے قانونی ڈھانچے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے آذربائیجان میں منعقدہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے بین الاقوامی عدالتی فورمز پر پاکستان کے نقطہ نظر اور آئینی عدالتوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف نے بھی چیف جسٹس امین الدین خان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس کو آذربائیجان کی آئینی عدالت کا تفصیلی دورہ بھی کرایا گیا، جہاں انہیں وہاں کے عدالتی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات انتہائی گہرے ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں بشمول عدلیہ، تجارت اور ثقافت میں اپنے تعاون کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کو پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی اور عدالتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے ججوں اور قانونی ماہرین کے درمیان تبادلہ پروگراموں کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے اس دورے کے دوران کی گئی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان عدالتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گی، جس سے انصاف کے نظام کو مزید شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان کی جانب سے بھی پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ عدالتی تجربات شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کا مثبت تاثر اجاگر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی روابط کا استحکام نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ خطے میں قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس کا یہ دورہ پاکستان کی عدالتی سفارت کاری کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان دنیا بھر کی آئینی عدالتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے اور عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عدالتی نظام کی بہتری کیلئے حکومت اور عدلیہ مل کر لائحہ عمل بنائیں، سعد رفیق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1923/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1923/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 04:36:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_سعد_رفیق]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے باعث صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک میں عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ کو مل کر ایک ایسا جامع لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے جس سے انصاف کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور عوام کو بروقت فیصلے مل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ ان ملزمان کے شفاف اور فوری عدالتی ٹرائل کے ذریعے انہیں سزا دلوانا عدلیہ کا کام ہے جس میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نظام عدل کے بریک ڈاؤن کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عام آدمی کو انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے اور متاثرہ فریقین کو نہ تو شنوائی مل رہی ہے اور نہ ہی انہیں تحفظ حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر انصاف کی فراہمی کا نظام درست نہ ہوا تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ازخود عدالتی کردار سنبھال لیں گے، جو کہ معاشرتی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے کسی صورت مناسب نہیں اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ عدالتی عمل کے بغیر سزاؤں کا رجحان معمول بنتا جا رہا ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کوئی بھی شخص اس سے محفوظ نہیں رہے گا اور معاشرے میں افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت پھیلنے کا شدید خدشہ پیدا ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ اگر مؤثر نظام عدل قائم نہ کیا گیا تو طاقتور افراد کے ہاتھ میں قانون آ جائے گا اور لوگ گلیوں، چوراہوں اور بازاروں میں اپنی عدالتیں لگانے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے بچنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے، جو کہ ایک مستحکم معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعد رفیق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں جب پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر سزائیں ختم یا تبدیل ہوتی ہیں تو یہ عدالتی کارکردگی اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے، جس کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ انصاف کا بروقت حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہے اور معاشرتی انصاف کا بول بالا ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر عدالتی اصلاحات کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے تاکہ زیر التواء مقدمات کے انبار کو ختم کیا جا سکے اور سائلین کو انصاف کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں عدلیہ اور حکومت کا باہمی تعاون ہی واحد راستہ ہے جس سے نظام انصاف کی ساکھ کو بحال کیا جا سکتا ہے اور عوام کے اندر پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ قوم کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ معیار نہ ہو اور انصاف کے حصول کے لیے کسی کو بھی طویل اور تکلیف دہ انتظار نہ کرنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1923/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جسٹس حسن اظہر رضوی نے وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1429/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1429/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 10:18:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_حسن_اظہر_رضوی]]></category>
		<category><![CDATA[حلف_برداری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d9%88%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی بیرون ملک موجودگی کے باعث جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس تقریب میں عدلیہ کے اہم عہدیداران اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران جسٹس عامر فاروق نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے ان کے نئے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ایک باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں حلف برداری کے عمل کی تصدیق کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس، جسٹس امین الدین خان، اس وقت بیرون ملک دورے پر ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں جسٹس حسن اظہر رضوی قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر عدالت کے انتظامی اور عدالتی امور کی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان کا یہ دورہ بین الاقوامی مصروفیات کے سلسلے میں ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کو بین الاقوامی سطح پر آئینی عدالتوں کی تنظیم کی جانب سے مبصر کا درجہ دیا گیا ہے جو پاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اعزازی حیثیت کے پیش نظر وفاقی آئینی عدالت کو آذربائیجان میں منعقد ہونے والے ایک اہم ورکنگ وزٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ دورہ 19 اکتوبر سے 24 اکتوبر تک جاری رہے گا جس میں شرکت کے لیے چیف جسٹس بیرون ملک روانہ ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس حسن اظہر رضوی کی بطور قائم مقام چیف جسٹس تعیناتی کا مقصد عدالت کے معمول کے کاموں کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے یہ ایک معمول کا انتظامی عمل ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں رائج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کے ترجمان کے مطابق، چیف جسٹس کی واپسی تک جسٹس حسن اظہر رضوی اپنے فرائض کی ادائیگی جاری رکھیں گے۔ اس دوران عدالت کے تمام اہم معاملات اور کیسز کی سماعت کا عمل حسب معمول جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں اس طرح کی تبدیلیاں آئینی تقاضوں کے مطابق کی جاتی ہیں تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کا شمار عدالت کے تجربہ کار ججوں میں ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت کو عالمی سطح پر اپنے تجربات شیئر کرنے اور دیگر ممالک کی آئینی عدالتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ورکنگ وزٹ عدالتی اصلاحات اور آئینی تشریحات کے حوالے سے بین الاقوامی بہترین طریقوں کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ پاکستان کی نمائندگی اس فورم پر عدلیہ کے وقار کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس امین الدین خان کی واپسی کے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ تب تک جسٹس حسن اظہر رضوی عدالت کے انتظامی امور کی نگرانی کریں گے اور عدالتی فیصلوں کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سے یہ ادارہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کوشاں ہے۔ اس طرح کے بین الاقوامی دورے اور مبصر کی حیثیت سے شرکت ادارے کی ساکھ کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کا یہ دورہ پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ اس دوران عدالت میں زیر التواء معاملات پر جسٹس حسن اظہر رضوی کی زیر نگرانی کام جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1429/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوں گے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/506/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/506/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 01:37:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[انگلینڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%a2%d9%81-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%db%8c%d8%ad%db%8c%db%8c%d9%b0-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%ac%db%8c-%d8%af%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اپنے نجی دورے کے بعد 21 اکتوبر کو وطن واپس پہنچیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کل ایک مختصر نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے حوالے سے مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چیف جسٹس اپنی ذاتی مصروفیات کے سلسلے میں بیرون ملک کا سفر کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا یہ دورہ مکمل طور پر نجی نوعیت کا حامل ہے جس کے دوران وہ کچھ دن انگلینڈ میں قیام کریں گے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے دورے کو مکمل کرنے کے بعد 21 اکتوبر کو واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سے عدالتی امور کی انجام دہی میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے تعطیلات کے دوران بھی اپنی ذمہ داریوں کو ترجیح دی اور چھٹیاں کرنے کے بجائے اپنے فرائض کی ادائیگی جاری رکھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی کاموں کو جاری رکھنے کا فیصلہ ان کی پیشہ ورانہ وابستگی اور عدلیہ کے وقار کو بلند رکھنے کے عزم کا عکاس ہے۔ وہ عدالتی نظام میں بہتری لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس کے اس مختصر نجی دورے کے دوران سپریم کورٹ کے معمول کے عدالتی امور حسب معمول جاری رہیں گے۔ عدالتی نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ سائلین کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے عدالتی نظام میں چیف جسٹس کا کردار انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے منصب سنبھالنے کے بعد سے عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی جانب سے تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کے فیصلے کو قانونی حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ ملک میں انصاف کی فراہمی کے لیے کس قدر سنجیدہ اور متحرک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ کا یہ دورہ چیف جسٹس کی ذاتی نوعیت کی مصروفیات کا حصہ ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے فرائض سنبھالیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعتوں کا سلسلہ دوبارہ پوری قوت کے ساتھ شروع ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹانا چیف جسٹس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وہ عدلیہ کے اندر شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں سپریم کورٹ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا یہ دورہ ان کی ذاتی زندگی کا حصہ ہے، جس کے بعد وہ اپنی پوری توجہ عدالتی اصلاحات اور انصاف کی فراہمی پر مرکوز رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے اپنے فرائض کے تئیں دکھائی گئی یہ سنجیدگی عدلیہ کے وقار کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کی واپسی کے بعد عدالتی امور میں مزید تیزی آئے گی اور انصاف کے متلاشی شہریوں کو جلد ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اس دورے کے حوالے سے تمام تر تفصیلات واضح کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جا سکے۔ وہ اپنے شیڈول کے مطابق 21 اکتوبر کو دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/506/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جوڈیشل کمیشن نے احسن بھون کی تعلیمی ڈگری کو اصلی قرار دے دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/487/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/487/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 23:17:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_بھون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بار_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_معاملات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%a8%da%be%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ڈگری کی تصدیق کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے احسن بھون کی تعلیمی ڈگری کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا جائزہ لینے کے بعد اسے مکمل طور پر درست اور اصلی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقدہ کمیشن کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک درخواست پر غور کیا گیا جس میں احسن بھون کی تعلیمی قابلیت، انرولمنٹ اور پروفیشنل کریڈینشلز پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ درخواست گزار نے ان کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، کمیشن کے سیکرٹری نے کیپٹن (ر) صفدر کی شکایت کو متعلقہ فورمز پر بھیجا تھا۔ اس معاملے پر سیکرٹری پاکستان بار کونسل سے بھی رائے طلب کی گئی تھی تاکہ حقائق کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بار کونسل کی جانب سے کمیشن کو فراہم کردہ جواب میں واضح کیا گیا کہ احسن بھون کی ڈگری کی تصدیق بار کونسل کے انتخابات کے عمل کے دوران بھی کی گئی تھی۔ اس عمل میں ریٹرننگ افسر، جو کہ اٹارنی جنرل پاکستان ہوتے ہیں، نے ڈگری کی تصدیق کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ احسن بھون کی ڈگری کی تصدیق کا عمل پہلی بار 2021 میں مکمل کیا گیا تھا، جس کے بعد اب 2026 میں بھی پنجاب یونیورسٹی نے باضابطہ طور پر ان کی تعلیمی اسناد کے اصلی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن نے تمام تر شواہد اور یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح یہ معاملہ اب مکمل طور پر حل ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اسی اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں ایک سال کی توسیع کی منظوری بھی کثرت رائے سے دی گئی تھی۔ کمیشن کے ارکان نے عدالتی امور کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسن بھون پاکستان کے ایک معروف قانون دان ہیں اور ان کی تعلیمی ساکھ پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد یہ فیصلہ ان کی قانونی حیثیت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ قانونی حلقوں نے کمیشن کے اس فیصلے کو شفافیت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں اور ججوں کے احتساب کے حوالے سے ایک بااختیار ادارہ ہے۔ اس ادارے کی جانب سے کسی بھی معاملے پر دی گئی تصدیق کو حتمی اور قانونی طور پر مستند سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تصدیق نامے نے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ اب اس معاملے پر مزید کسی قسم کی قانونی کارروائی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بار کونسل نے بھی اپنے ریکارڈ کے مطابق احسن بھون کی پروفیشنل انرولمنٹ کو درست قرار دیا ہے۔ کونسل کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی انہیں وکالت کا لائسنس جاری کیا گیا تھا جو کہ اب بھی مکمل طور پر فعال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ کمیشن کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی فرد کے خلاف شکایات کا ازالہ میرٹ پر کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/487/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
