<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 03:17:46 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا: تحریک انصاف کے 10 اراکین اسمبلی کی مبینہ گمشدگی پر تشویش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/79/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/79/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 03:17:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسمبلی_اراکین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/79/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی حکومت نے اراکین کی گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آئی جی پولیس سے مفصل رپورٹ طلب کر لی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور صوبائی وزراء کی مبینہ گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد اب تک متاثرہ اراکین کی مجموعی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔ ان اراکین میں سات صوبائی اور تین قومی اسمبلی کے نمائندے شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق، ان اراکین کو نامعلوم نقاب پوش افراد نے مختلف مقامات سے حراست میں لیا ہے۔ حالیہ واقعے میں صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کو ان کے گھر سے لے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ اراکین میں صوبائی وزراء فضل شکور خان اور امجد علی کے علاوہ عبدالسلام آفریدی، محمد ریاض، سلطان روم، یامین خان اور فتح الملک ناصر شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے اراکین میں فضل محمد خان، زبیر خان اور داور خان کنڈی کے نام سامنے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت نے ان کارروائیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر ان واقعات پر فوری اور مفصل رپورٹ طلب کی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طارق سعید کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کا اس طرح اٹھایا جانا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور یہ عمل صوبے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق سپیکر کی اجازت کے بغیر کسی رکن اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مسلح افراد کو گھروں میں داخل ہوتے اور اراکین کو ساتھ لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کئی واقعات کے خلاف متعلقہ تھانوں میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے بھی ان 10 اراکین کے اٹھائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنے اراکین کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ سمیت تمام قانونی فورمز پر آواز اٹھا رہی ہے اور جدوجہد جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھی ان واقعات پر طویل بحث و مباحثہ ہو چکا ہے اور سپیکر اسمبلی نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں کسی قانونی جواز کے بغیر کی جا رہی ہیں جو کہ جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹیو اپنے اراکین کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے تو یہ انتظامی معاملات پر کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں عوامی نمائندوں کی اس طرح کی گمشدگیوں سے سیاسی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس معاملے کو قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے تاحال ان واقعات پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ آئی جی پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو عوامی سطح پر بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ اراکین کے اہل خانہ نے بھی حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ان کے پیاروں کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعات تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلانات کے بعد سے شروع ہوئے تھے، جس کے بعد سے صوبے کے مختلف علاقوں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/79/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لائبہ اعجاز کیس: 93 لاکھ روپے فراڈ کا انکشاف، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/71/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/71/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 02:16:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسکالرشپ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[لائبہ_اعجاز]]></category>
		<category><![CDATA[ویزا_فراڈ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/71/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت، ایف آئی اے نے ویزا اور اسکالرشپ کے نام پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے افسوسناک واقعے میں تحقیقات کے دوران ایک نیا اور اہم رخ سامنے آیا ہے۔ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، لائبہ اعجاز سے امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم بٹوری گئی تھیں۔ ایف آئی اے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمان نے طالبہ سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم ہتھیا لی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کے مطابق، اس رقم میں سے 29 لاکھ روپے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کیے گئے، جبکہ باقی ماندہ رقم نقد وصول کی گئی۔ ملزمان نے طالبہ کو جعلی اسکالرشپ لیٹرز اور یونیورسٹی کے فرضی آفر لیٹرز دکھا کر دھوکہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فراڈ کیس میں محمد نعمان اور فاطمہ سرور نامی افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے نے اس کیس کی تفتیش کے لیے سب انسپکٹر زبیر کمال کو تفتیشی افسر مقرر کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اس فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے لائبہ اعجاز کی موت کے واقعے پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 22 سالہ طالبہ کی لاش پھندا لگی حالت میں ملی تھی، جس کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے درج کردہ مقدمے میں دفعات 322 اور 34 کو شامل کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں بھی ایک مرد اور ایک خاتون کو نامزد کیا گیا ہے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد سے متعلقہ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا دھوکہ دہی میں ملوث عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طالبہ کے اہل خانہ اور دیگر حلقوں کی جانب سے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اور پولیس دونوں ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس نے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بیرون ملک اسکالرشپ کے نام پر ہونے والے فراڈ سے بھی خبردار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی اسکالرشپ یا ویزا کے لیے صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع پر ہی انحصار کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کی ٹیمیں جدید ٹیکنالوجی اور بینکنگ ریکارڈز کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ ملزمان کسی بڑے گروہ کا حصہ تو نہیں جو طلبہ کو نشانہ بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ کوششوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے تمام پہلو جلد واضح ہو جائیں گے۔ متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا عمل جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ مزید پیش رفت ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/71/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: طالبہ سے فراڈ کرنے والا ملزم گرفتار، لائبہ کی موت کا مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/66/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/66/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:38:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[لائبہ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/66/</guid>

					<description><![CDATA[بیرون ملک تعلیم کے نام پر 70 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے والے ملزم نے جعلی دستاویزات فراہم کی تھیں جس کے بعد طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں 22 سالہ ہونہار طالبہ لائبہ کی پراسرار موت کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے فراڈ میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان کو اسلام آباد کے ایک علاقے سے حراست میں لیا گیا جہاں وہ کرائے کے مکان میں روپوش تھا۔ ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فون سے خواتین کو بلیک میل کرنے اور آن لائن فراڈ کے متعدد شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ماضی میں کوئٹہ میں محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازمت کرتا تھا، تاہم بدعنوانی اور دیگر الزامات کے باعث اسے ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اسلام آباد کی ایک نجی کمپنی میں بھی کام کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے میڈیا کو بتایا کہ لائبہ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی۔ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے کی خواہشمند تھی اور اسی سلسلے میں ملزم سے رابطہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے خود کو تعلیمی کنسلٹنٹ ظاہر کر کے طالبہ کے اہلخانہ سے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ لائبہ کے والد، جو موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں، نے اپنی جمع پونجی اور پلاٹ بیچ کر رقم کا انتظام کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان نے بتایا کہ والدہ نے اپنے زیورات بینک میں گروی رکھ کر باقی رقم کا بندوبست کیا تاکہ بیٹی کا مستقبل سنور سکے۔ یہ تمام رقم ملزم کو نقد ادا کی گئی تھی تاکہ وہ داخلے کا عمل مکمل کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم جب لائبہ نے ملزم کی جانب سے فراہم کردہ داخلے کی دستاویزات کی تصدیق کروائی تو انکشاف ہوا کہ وہ تمام کاغذات مکمل طور پر جعلی تھے۔ یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد طالبہ شدید ذہنی صدمے اور دباؤ کا شکار ہو گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے سے قبل لائبہ نے اپنے ماموں کو ایک آخری پیغام بھیجا جس میں اس نے اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔ پیغام میں اس نے درخواست کی کہ اس کے والد کو اس فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے نہ صرف لائبہ بلکہ دیگر افراد کو بھی اسی طرح کے فراڈ کا نشانہ بنایا ہے۔ ملزم کے خلاف درج مقدمے میں فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے اہلخانہ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ کسی اور گھر کا چراغ اس طرح نہ بجھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے نیٹ ورک کے دیگر ارکان کا سراغ لگانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملزم کے فون سے ملنے والے ڈیٹا کا فرانزک معائنہ بھی کروایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے نے تعلیمی کنسلٹنسی کے نام پر جاری فراڈ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے قبل تصدیق لازمی کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کی موت کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی تعلیمی کنسلٹنٹس کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/66/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہری پور: پانچ سالہ آیت نور قتل کیس میں تین ملزمان کی ضمانت منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:57:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آیت_نور_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[ہری_پور]]></category>
		<category><![CDATA[ہری_پور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے پولیس کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں تینوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے ہری پور میں پانچ سالہ بچی آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ حتمی تفتیشی رپورٹ میں ان ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والی پانچ سالہ آیت نور 10 اگست کو گھر کے قریب کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ بچی کے والد محمد شفیق نے گمشدگی کے بعد شدید صدمے کی حالت میں ابتدائی طور پر ان تینوں لڑکوں کو نامزد کیا تھا، جنہیں بعد ازاں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے 15 روز بعد 24 اگست کو ایک اور کم عمر مرکزی ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش شہر کے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔ مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اقبال کر لیا تھا اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیش کی گئی اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، جدید سائنسی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ ان تینوں ملزمان کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ان کے خلاف کوئی تحریری یا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ بچی کے والد محمد شفیق نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے شدید صدمے اور پریشانی کے باعث غلطی سے ان لڑکوں کو نامزد کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اب انہیں پولیس کی تفتیش پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ضمانت کی منظوری پر مطمئن ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کے وکیل عاطف علی جدون ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکلوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں زبردستی اعترافی بیانات دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے لڑکوں نے ڈی پی او ہری پور کو اس حوالے سے درخواست بھی دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق، مرکزی ملزم کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی تھی۔ اس فوٹیج میں ملزم کو بچی کو ورغلا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے بچی کے والد کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ صرف ایک دس، بارہ سال کے کم عمر لڑکے نے تن تنہا یہ گھناؤنا جرم کیا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس واقعے کی مزید گہرائی سے تفتیش کرے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں مرکزی ملزم کا ٹرائل جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ نے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہری پور پولیس کے ترجمان اور متعلقہ افسران سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پولیس کا اصرار ہے کہ تفتیش میرٹ پر کی گئی ہے اور اصل ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد ہری پور میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور شہریوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج بھی کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد اب کیس کا رخ مکمل طور پر مرکزی ملزم کے ٹرائل پر مرکوز ہو گیا ہے۔ قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نابالغ ملزمان کے کیسز میں سائنسی شواہد اور فرانزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس کیس میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والدین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا مکمل انصاف کیا جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کرنے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
