<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 11:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکہ: سزائے موت سے بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک کا مسلسل تکلیف میں مبتلا ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:17:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹینیسی]]></category>
		<category><![CDATA[جیل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک نے پہلی بار عوامی بیان جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش سے زندہ بچ جانے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے واقعے کے بعد اپنا پہلا عوامی بیان جاری کیا ہے۔ کرسٹا پائیک نے اپنے وکلاء کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ستمبر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سے مسلسل شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ اس رات کے بعد سے ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا جب انہیں درد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بازو، ہاتھ اور گلا شدید تکلیف میں ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ 30 ستمبر کو ٹینیسی کی جیل میں کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یہ عمل ناکام رہا۔ حکام کے مطابق پینٹوباربیٹل نامی دوا ان کے خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں میں جمع ہوگئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک کو کئی دن ہسپتال میں گزارنا پڑے جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں رہی تھیں۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں واپس اسی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں گزشتہ 30 برس سے قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کو 18 سال کی عمر میں کولین سلیم نامی لڑکی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس جرم میں ان کے ساتھ ان کا اس وقت کا دوست بھی شامل تھا، تاہم نابالغ ہونے کے باعث اسے سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں تمام سزائے موت پر عملدرآمد رواں سال کے باقی عرصے کے لیے روک دیا ہے اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی کی والدہ مے مارٹنیز، جو اس دن پھانسی کے عمل کو دیکھنے کے لیے موجود تھیں، نے اس واقعے کو ایک &#039;بدانتظامی&#039; قرار دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انصاف کی متلاشی تھیں لیکن یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کے وکلاء نے وفاقی جج سے درخواست کی ہے کہ انہیں تنہائی سے نکال کر دیگر قیدیوں کے ساتھ ملنے کی اجازت دی جائے۔ وکلاء کا موقف ہے کہ ناکام پھانسی کے بعد تنہائی میں رکھنے سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر بل لی نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا امکان رکھتے ہیں کہ کرسٹا پائیک کی سزا وہی رہے گی جو پہلے تھی، جب تک کہ عدالتیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں، تاہم مکمل صحت یابی ابھی دور ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اب بھی اس واقعے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ 2026 میں ٹینیسی میں یہ دوسرا موقع تھا جب سزائے موت پر عملدرآمد کا عمل ناکام ہوا۔ اس سے قبل مئی میں ٹونی کیروتھرز کی پھانسی بھی اس وقت ملتوی کر دی گئی تھی جب حکام ان کے جسم میں انجیکشن لگانے کے لیے رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک تاریخ کی واحد قیدی سمجھی جاتی ہیں جو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت کی کوشش سے زندہ بچی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی دوست اور &#039;چائلڈ ارائز ٹینیسی&#039; کی بانی بیتھنی مان نے کہا کہ وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے سزائے موت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی بجائے اسے جاری رکھنے کے ارادے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 09:14:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقابلہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہین_فورس]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ماڈل کرمنل کورٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے واقعے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک اہلکار کو سزائے موت اور دو کو عمر قید کی سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے جعلی پولیس مقابلے کے ایک انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں ملوث دیگر دو شریک ملزمان، ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کے مطابق تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو بطور ہرجانہ پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جس کے بعد تھانہ شاہراہ فیصل میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں واقعے کے تمام شواہد پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے گلشن اقبال کے علاقے میں عامر نامی نوجوان کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ نوجوان کے نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکار پیچھا کرتے ہوئے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے نوجوان عامر پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں نے اسے ایک پولیس مقابلہ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ مقابلہ جعلی تھا اور نوجوان کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور گواہان کے بیانات سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے جج نے قرار دیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور شہریوں کی جان کی حفاظت پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے لواحقین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پولیس فورس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عدالتوں کا سخت موقف عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وردی کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ٹھوس شواہد اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے ملزمان کا جرم ثابت کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جس کی سزا ملنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرموں کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی تفصیلات عدالتی آرڈر میں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے واقعات پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ ایک مثال بنے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی کی جان نہ لے سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پولیس فورس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنا۔ قانون کی بالادستی ہی معاشرے میں امن و امان کا واحد ذریعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d8%af%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%da%86%db%81-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d8%af%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%da%86%db%81-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 09:15:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچے_کا_قتل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_پی_او_لکی_مروت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d8%af%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%da%86%db%81-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[وانڈہ شہاب خیل میں دو سالہ سہیل خان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لکی مروت کے علاقے وانڈہ شہاب خیل میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو سالہ معصوم بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی بوری بند لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ مقتول بچے کی شناخت سہیل خان کے نام سے ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق بچہ منگل کے روز اپنے گھر کے باہر گلی میں کھیلنے کے لیے نکلا تھا، تاہم کافی دیر گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں لوٹا۔ اہلخانہ نے اسے ہر ممکن جگہ تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں بچے کی بوری بند لاش ملی جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لاش کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ ڈڈیوالا میں اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس نے مختلف زاویوں سے قانونی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ خاندان کی علاقے میں کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی پی او سجاد احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کو شفاف اور تیز بنایا جائے گا تاکہ ملوث افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d8%af%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%da%86%db%81-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی میں موچکو پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%da%86%da%a9%d9%88-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%da%86%da%a9%d9%88-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 10:37:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الصوبائی_نیٹ_ورک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[حب_بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%da%86%da%a9%d9%88-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس نے حب سے آنے والے رکشے سے بیش قیمت ویڈ برآمد کر کے دو خواتین سمیت چار ملزمان کو دبوچ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے ضلع کیماڑی کی موچکو پولیس نے منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی سطح پر سرگرم سپلائی نیٹ ورک کے چار اہم کارندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی جس کے دوران منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں جن سے بھاری مقدار میں مہنگی نوعیت کی منشیات برآمد ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بیس عدد ڈبے یا باکس برآمد کیے گئے جن کا مجموعی وزن چون سو گرام بنتا ہے۔ یہ تمام ڈبے خطرناک اور مہنگی سمجھی جانے والی نشسیات ویڈ سے بھرے ہوئے تھے جنہیں انتہائی چالاکی کے ساتھ منتقل کیا جا رہا تھا۔ برآمد کی جانے والی اس ویڈ نامی منشیات کی مارکیٹ میں قیمت انتہائی زیادہ ہے اور یہ شہر کے پوش علاقوں میں ہونی والی مختلف پارٹیوں میں سپلائی کی جانی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے ملزمان حب بلوچستان کے راستے یہ ممنوعہ سامان کراچی اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ملزمان نے منشیات کی ترسیل کے لیے ایک رکشے کا استعمال کیا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔ تاہم موچکو چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے رکشے کو روک لیا اور تلاشی کے دوران اس میں موجود نشہ آور مواد برآمد کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے جن چار افراد کو گرفتار کیا ان کی شناخت رضوان، محمد صدیق، مریم اور سائرہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ گرفتار شدگان میں شامل ملزم رضوان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے جو اس سے قبل بھی دو مختلف مقدمات میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ دیگر ملزمان کے حوالے سے بھی مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موچکو پولیس اسٹیشن میں تمام گرفتار ملزمان کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیموں نے اس سلسلے میں مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس بین الصوبائی نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور سرغنہ کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس کارروائی کو منشیات کے خلاف جاری مہم میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جس سے شہر میں منشیات کی سپلائی لائن کو شدید دھکا لگا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پولیس کے مطابق شہر بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائے ہیں تاکہ اس قبیح فعل میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ مزید تفتیش کے دوران اس نیٹ ورک کے دیگر روابط اور کارندوں کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات کی خرید و فروخت کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں اور آئے روز ایسی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ موچکو کے مقام پر کی جانے والی اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ صوبائی سرحدوں سے ہونے والی اس نوعیت کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار ملزمان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے انکشافات کی روشنی میں مزید چھاپے مارے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ منشیات کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور اس مکروہ دھندے میں ملوث ہر چھوٹے بڑے کردار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شہریوں نے بھی پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سے معاشرے میں پھیلی اس برائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد میں منشیات کے اس ناسور نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی روک تھام کے لیے تمام اداروں کو مل کر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ محکمہ پولیس تنہا اس جنگ کو جیتنے کے لیے کوشاں ہے لیکن عوامی تعاون کے بغیر اس مہم کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ وہ ایسے عناصر کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ ویڈ جیسی مہنگی منشیات عام طور پر اونچے طبقے کی محافل میں استعمال کی جاتی ہیں جہاں اس کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل انٹیلی جنس معلومات پر کام کر رہے ہیں۔ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس نے منشیات فروشوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیش کار اب اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ ممنوعہ مواد حب بلوچستان سے کن کن راستوں سے ہوتا ہوا کراچی کے داخلی راستوں تک پہنچا۔ اس حوالے سے رکشہ ڈرائیور اور دیگر ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث دیگر سہولت کاروں کے نام بھی سامنے لائے جا سکیں۔ پولیس کا یہ عزم ہے کہ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید بتایا کہ موچکو پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والے مقدمے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ عدالت سے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ منشیات فروشی جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کے خلاف عدالتوں میں بھی سخت مقدمات چلائے جاتے ہیں تاکہ معاشرے میں اس کا قلع قمع کیا جا سکے۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کے آپریشنز کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%da%86%da%a9%d9%88-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 09:17:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پلازا_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جیو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[نیوز_اپڈیٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[نگانہ چوک پر پیش آنے والے اس حادثے کے وقت پلازا پر 10 سے 15 مزدور کام کر رہے تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے مصروف علاقے نگانہ چوک میں ایک زیر تعمیر کمرشل پلازا کی چھت کا بڑا حصہ اچانک گر پڑا جس کے نتیجے میں کئی مزدوروں کے ملبے تلے دب جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دی گئیں تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب پلازا کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اس دوران عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ناگہانی طور پر ہونے والے اس سانحے کے بعد علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور فورا مدد کے لیے پکار شروع کر دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کے وقت پلازا کی عمارت پر اندازاً دس سے پندرہ مزدور کام میں مصروف تھے۔ چھت گرنے کے باعث یہ تمام محنت کش ملبے تلے دب گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ہیوی مشینری اور ریسکیو کا عملہ استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے واقعے کے فورا بعد ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے نگانہ چوک جیسے تجارتی مرکز میں اس نوعیت کے حادثے نے تعمیراتی کاموں کے دوران حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سیاسی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں جاری ایسی تعمیراتی عمارتوں کے حفاظتی اقدامات کا سخت جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نگانہ چوک کا شمار ملتان کے انتہائی اہم اور تجارتی لحاظ سے مصروف ترین مقامات میں ہوتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں اور شہریوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے پر ہجوم مقام پر زیر تعمیر عمارت کا اچانک گر جانا انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے کیونکہ عمارتوں کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدہ میکانزم موجود ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی جگہ پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آواز اتنی زیادہ خوفناک تھی کہ قریبی دکانوں اور دفاتر میں بیٹھے لوگ خوفزدہ ہو کر باہر نکل آئے۔ گرد و غبار کا ایک طوفان اٹھ گیا جس کی وجہ سے ابتدائی چند منٹ تک کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے اندھیرے میں ہی آگے بڑھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے موقع پر پہنچ کر حادثے کی جگہ کے گرد حفاظتی ہجوم کو ہٹانے کے لیے رسی لگا دی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی مصروف شاہراہ پر ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت بلا تعطل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کے حوالے سے بھی ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ تعمیراتی کام کے دوران سرکاری قوانین اور بلڈنگ بائی لاز کی پاسداری کی جا رہی تھی یا نہیں۔ اگر غفلت کا عنصر پایا گیا تو ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے ہسپتالوں میں بھی اس ناگہانی حادثے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کو مسلسل ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر کے فلاحی اداروں اور رضاکار تنظیموں کے کارکنان بھی نگانہ چوک پہنچ چکے ہیں جو ریسکیو اہلکاروں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے اور مزدوروں کی تلاش میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد بھی امدادی کارروائیاں دیکھنے کے لیے موقع پر جمع ہے جسے پولیس بار بار پیچھے ہٹا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں تاکہ قیمتی جانوں کو بچانے کا یہ مشکل آپریشن جلد از جلد اور احسن طریقے سے اپنے انجام کو پہنچ سکے۔ حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز بھی جلد متوقع ہے جو اس سانحے کی اصل وجوہات کو بے نقاب کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 19:57:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_چکلالہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جنت_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[نیوز_اپڈیٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[تھانہ چکلالہ کی حدود میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ خاتون کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے علاقے شاہ خالد کالونی فضل آباد میں ایک شادی شدہ خاتون پر سسرالیوں کی جانب سے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سسرال والوں نے نہ صرف ان پر جسمانی تشدد کیا بلکہ ان کے بال بھی کاٹ دیے اور ان کے زیورات سمیت نقدی بھی چھین لی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاتون، جن کی شناخت جنت بی بی کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنی پریشانی کے عالم میں ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے چچا سے مدد کی اپیل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کی جانب سے دیے گئے دو لاکھ روپے بھی سسرالیوں نے زبردستی لے لیے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے ان کی تذلیل کی اور ان کا جینا حرام کر رکھا ہے، جس کے بعد وہ اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں اس معاملے کی کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم ویڈیو اور خبر سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ چکلالہ کے حکام کے مطابق پولیس کی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس کا عزم ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران سسرالیوں پر تشدد یا قانون شکنی کا کوئی بھی ثبوت ملا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ متاثرہ خاتون کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر بھی سماجی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے اس مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ متاثرہ خاتون کو انصاف مل سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے شکار افراد کو فوری طبی اور قانونی مدد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، تفتیش کا عمل جاری ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ ایک بار پھر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے معاشرتی بیداری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ قانون کی بالادستی اور متاثرین کی بروقت داد رسی ہی ایسے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%a2%da%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%a2%da%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:17:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقدمہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جوہر_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[خوشاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_نیوز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%a2%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مجرم اعجاز حسین کی اپیل خارج کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے قتل کے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے نتیجے میں مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اپیل پر سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ میں جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر شامل تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اعجاز حسین کی بیوی نورین اختر کے میکے جانے پر تلخ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ ملزم نے طیش میں آ کر اپنی بیوی نورین اختر اور چچی پروین اختر پر آگ لگا دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہولناک واقعے کے نتیجے میں پروین اختر شدید جھلس کر جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ نورین اختر زخمی ہونے میں کامیاب رہی تھیں لیکن وہ شدید متاثر ہوئیں۔ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ خوشاب کے تھانہ جوہر آباد میں درج کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ جوہر آباد میں یہ مقدمہ 14 مئی 2020ء کو قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس سنگین معاملے کی تفتیش مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کیا تھا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی اور سماعت کے دوران زخمی ہونے والی بیوی نورین اختر کی گواہی مجرم کے خلاف انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ اس کے علاوہ کیس کے دیگر چشم دید گواہوں کے بیانات بھی مجرم کے خلاف مضبوط ثبوت کے طور پر سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مجرم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں مجرم پر جرم ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%a2%da%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں کمیٹی کے پیسوں کے تنازع پر ہمسایوں کا تشدد، حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 07:38:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_پورہ]]></category>
		<category><![CDATA[بچہ_جاں_بحق]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[حاملہ_خاتون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام پورہ میں کمیٹی کی رقم کے تنازع پر ہمسایوں کے مبینہ تشدد سے آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحق ہو گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے گنجان آباد علاقے اسلام پورہ میں مالی لین دین اور کمیٹی کی رقم کے تنازع پر ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھریلو معاملات پر شروع ہونے والی تلخ کلامی نے ایک معصوم جان کا نقصان کر ڈالا۔ اطلاعات کے مطابق ہمسایوں کے درمیان ہونے والے اس پرتشدد واقعے کی زد میں آٹھ ماہ کی ایک حاملہ خاتون آئیں جن پر مبینہ طور پر سفاکانہ تشدد کیا گیا اور بعد ازاں ان کے ہاں ہونے والے نومولود بچے کی موت واقع ہو گئی جس پر پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شہری نے اس گھناؤنے فعل اور ظلم کے خلاف فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے تھانہ اسلام پورہ میں باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے جس میں ملزمان کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور اس پورے معاملے کی تمام زاویوں سے غیر جانبدارانہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات اور پولیس کو دی جانے والی درخواست کے مطابق متاثرہ شہری اپنی گھر کی کمیٹی کی مقررہ رقم وصول کرنے کے لیے اپنے ہمسایوں کے گھر گیا تھا تاکہ جائز حق حاصل کر سکے۔ تاہم وہاں پہنچنے پر ملزمان نے رقم کی ادائیگی کرنے اور معاملہ احسن طریقے سے سلجھانے کے بجائے درخواست گزار کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے اور پرتشدد جھگڑے کی شکل اختیار کر لی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب جھگڑے کے دوران گھر کے دیگر افراد بھی شامل ہو گئے اور انہوں نے طیش میں آ کر نہ صرف سائل کو بلکہ اس کی معصوم حاملہ بیوی کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ متاثرہ شہری کا الزام ہے کہ ہمسایوں نے کسی قسم کے رحم کا مظاہرہ نہیں کیا اور تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کرتے ہوئے وحشیانہ طور پر میاں بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شوہر نے پولیس کو دائر کردہ درخواست میں انتہائی ہولناک الزام عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دورانِ تکرار ملزمان نے اس کی آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی کے پیٹ پر جان بوجھ کر ٹانگیں ماریں۔ اس بہیمانہ تشدد اور پیٹ پر براہ راست ضرب لگنے کے باعث خاتون کی حالت موقع پر ہی غیر معمولی طور پر بگڑ گئی اور وہ شدید تکلیف کے عالم میں زمین پر گر پڑیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کی نازک ترین حالت کو دیکھ کر اہل خانہ کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے اپنی اہلیہ کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ متاثرہ خاتون کو ہنگامی بنیادوں پر لاہور کے معروف سرکاری ہسپتال گنگا رام ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی بگڑتی ہوئی حالت کا فوری طور پر نوٹس لیا اور ہنگامی بنیادوں پر طبی اقدامات کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گنگا رام ہسپتال کے شعبہ حادثات اور گائنی وارڈ کے ڈاکٹروں نے خاتون کی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ماں کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر آپریشن کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ طبی ٹیم نے تمام تر خطرات کے باوجود ہنگامی حالت میں آپریشن کا عمل شروع کیا تاکہ خاتون کی زندگی کو کسی طرح محفوظ بنایا جا سکے اور مزید کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی بروقت سرجیکل مداخلت سے ماں کی جان تو خطرے سے باہر نکال لی گئی تاہم حمل کا آٹھواں مہینہ ہونے اور دورانِ حمل لگنے والی شدید اندرونی چوٹوں کے باعث پیدا ہونے والا بچہ انتہائی کمزور اور نامساعد حالات کا شکار تھا۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے اس معصوم بچے کو فوری طور پر ہسپتال کے انتہائی نگداشت کے وارڈ یعنی نرسری میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسری میں رکھے جانے کے باوجود شیر خوار بچہ اندرونی چوٹوں اور کمزوری کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکا اور ہسپتال کے اندر ہی دم توڑ گیا، جس کی تصدیق کے بعد والدین پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس المناک سانحے نے نہ صرف متاثرہ خاندان کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ ہسپتال میں موجود دیگر لوگوں اور پورے علاقے کے باسیوں کو بھی افسردہ کر دیا کیونکہ ایک معمولی نوعیت کا مالی تنازع اتنی بڑی انسانی المیے میں تبدیل ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کے مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور شہریوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے ان افراد کے خلاف فوری اور کڑی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اس قسم کے تشدد اور قانون شکنی کے واقعات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی سفاکیت کا مظاہرہ کرنے کی جرات نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ اس پورے تنازع میں ایک معصوم بچے کی موت کا سنگین پہلو بھی شامل ہو چکا ہے اس لیے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطے کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی غرض سے عدالتی احکامات حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ میڈیکل رپورٹس حاصل کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق قانون کے مطابق تمام تر کارروائی مکمل کرنے کے لیے معزز عدالت سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاتون اور جاں بحق ہونے والے بچے کے سلسلے میں باضابطہ طور پر میڈیکل کروانے کے احکامات حاصل کیے جا سکیں۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد میڈیکل بورڈ کی رپورٹس اور ڈاکٹروں کی آراء کو بھی تفتیشی فائل کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ مقدمے کو مضبوطی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس واقعے میں جو بھی عناصر ملوث پائے گئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ ابتدائی درخواست پر قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور جیسے جیسے میڈیکل اور تفتیشی مراحل مکمل ہوں گے، ویسے ویسے مزید دفعات اور اقدامات کو بھی قانونی عمل میں شامل کر لیا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: لیاقت آباد میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، مقتولہ کا دوست گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%a7-2/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%a7-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 23:57:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[خاتون_کا_قتل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قتل]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_پولیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%a7-2/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے موبائل فونز اور آلہ قتل برآمد کر لیا، ملزم نے تلخ کلامی پر قتل کا اعتراف کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آنے والے دو بچوں کی ماں کے قتل کے اندوہناک واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے کیس کو چوبیس گھنٹوں کے اندر حل کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق مقتولہ سویرا کی لاش جمعرات کی شب لیاقت آباد نمبر چھ کی ایک رہائشی عمارت کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔ تیس سالہ خاتون کو تیز دھار آلے کے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں لیاقت آباد تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مدعی مقدمہ نے اپنی بہن کے دوست مبین کو قتل کے شبہ میں نامزد کیا تھا، جو واردات کے فوراً بعد سے ہی روپوش ہو گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے جدید ٹیکنیکل ذرائع، خفیہ معلومات اور مخبروں کی مدد سے ملزم کی تلاش شروع کی تھی۔ کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولیس نے نامزد ملزم مبین کو گرفتار کر لیا، جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم مبین اور مقتولہ کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ملزم نے طیش میں آکر تیز دھار آلے سے خاتون پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا شوہر روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہے۔ ملزم نے قتل کی واردات کے بعد شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی تھی اور اپنے خون آلود کپڑے کچرا اٹھانے والی گاڑی میں پھینک دیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ٹیم نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ مقتولہ اور اس کے بچوں کے موبائل فونز بھی ملزم کے قبضے سے بازیاب کر لیے گئے ہیں، جو تفتیش میں اہم ثبوت ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے محرکات کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ ملزم کو جلد عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت آباد کے رہائشیوں نے پولیس کی جانب سے اتنی تیزی سے کیس حل کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات معاشرتی اقدار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور ملزم کو سخت سزا ملنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کے قتل کے بعد سے مقتولہ کے اہل خانہ شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقتولہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فرانزک ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے تھے جو ملزم کے خلاف عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کی گشت اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%a7-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سہیل آفریدی کے خلاف دہشت گردوں کی معاونت کے شواہد موجود ہیں: بیرسٹر عقیل ملک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 16:56:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عقیل_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر مملکت برائے قانون و انصاف نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور تمام حقائق عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کے ٹھکانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ کسی شاہی مہمان خانے میں موجود ہیں، تاہم وہ کسی عام مہمان خانے میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے حوالے سے مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور سہیل آفریدی کے معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد کی موجودگی کے بعد اب عدالتی عمل ہی اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی کہ آئین میں ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی مخصوص ٹائم فریم مقرر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی معاملات کو قانون کی روشنی میں ہی دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت نے 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس ترمیم پر کوئی باضابطہ کام شروع نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور کسی کو بھی ملک دشمن سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اپنانے کے بعد اب قانونی ماہرین کی نظریں عدالت پر مرکوز ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سامنے آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو ملک کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام تر قانونی کارروائی شفاف طریقے سے ہوگی اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف اور صرف ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
