<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عالمی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 15:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عالمی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایران کی جانب سے امریکا کو کسی بھی ممکنہ جنگ کے طویل دورانیے کی تنبیہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4423/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4423/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:43:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a8%da%be%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[تہران کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی تنازع کی صورت میں جنگ پچھلی بار سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو یہ پچھلے تنازعات کے مقابلے میں زیادہ طویل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید اہداف کو نشانہ بنانے کے عن دیے کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہران نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی ممکنہ مستقبل کی جنگ کا دورانیہ ماضی کی لڑائیوں سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ انہیں ابھی مزید اہداف کو نمٹانا باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بمباری دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں دیکھی جا رہی ہے جب متعلقہ ممالک میں اہم انتخابات کا عمل بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4423/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیل کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا خدشہ، نیتن یاہو کی کرپٹو کرنسی کے استعمال پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2215/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2215/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:57:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بلاک_چین]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ بینکاری پابندیوں سے نمٹنے کے لیے متبادل مالیاتی نظام اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ملک کو مستقبل میں شدید عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومتی مشیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متبادل مالیاتی راستے تلاش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو کے مطابق، اسرائیل کو ایسی معاشی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی بینکاری نظام پر انحصار کم کر سکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ سمیت دنیا کے 12 ممالک نے مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق بعض مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے بعد اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان پابندیوں کا ہدف بظاہر مخصوص آبادیاں ہیں، تاہم ان کے اثرات اسرائیل کی مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اسرائیل کے لیے معاشی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکا کی جانب سے ملنے والی اربوں ڈالر کی دفاعی امداد ہمیشہ برقرار رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں اس امداد میں کمی کا امکان موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائیر لاپڈ نے حکومت کی موجودہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گول ان نے مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنا ہوگا۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہی معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرپٹو کرنسی کے استعمال کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی ادائیگیوں کے متبادل راستے فراہم کر سکتی ہے، تاہم یہ مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعدد بلاک چین نیٹ ورکس پر ہونے والی لین دین کا سراغ لگانا ممکن ہے، جس کی وجہ سے بینکوں اور ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارمز پر پابندیوں کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔ خود اسرائیلی حکام کے ایک حلقے نے بھی اس تجویز کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اقتصادی عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی جیسے منصوبوں پر عوامی سطح پر بحث کرنے سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اقدام عالمی برادری میں اسرائیل کے اعتماد کو مزید مجروح کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اسرائیل کو خود انحصار بننے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مبصرین اس صورتحال کو اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر عالمی برادری کا دباؤ اسرائیل کے لیے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2215/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2125/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2125/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 11:17:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_ہتھیار]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے فلوریڈا میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کا عزم دہرایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میں ایک پرجوش سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی امور پر کھل کر گفتگو کی اور مختلف ممالک کے حوالے سے اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ان کی انتظامیہ انتہائی سخت موقف رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہران کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ان کا یہ مؤقف اٹل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جیسے ممالک کے پاس عالمی قوانین کی پاسداری کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گی جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر تمام اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطاب کے دوران امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایرانی معاملے کے مکمل حل اور منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد ان کی حکومت کیوبا کے ساتھ بھی معاملات کو طے کرے گی اور اس خطے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کیوبا کے ساتھ تمام بقایا امور کو نمٹانے کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ اس تمام سفارتی عمل کو حتمی شکل دینے اور ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ مارکو روبیو کو خصوصی طور پر روانہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے تحت ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کیوبا کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی طویل مدتی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ امریکی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی ٹیم دنیا بھر میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ لاطینی امریکہ کے امور پر بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ممکنہ بڑی جنگ کو کامیابی کے ساتھ روکا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور بھارت دونوں خطے کی اہم ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازع کے پوری دنیا پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔ امریکی صدر کے مطابق ان کی بروقت مداخلت اور سفارتی کوششوں کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی ایشیا کے اس اہم خطے میں امن و امان کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے اپنی سفارتی کامیابیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پس پردہ بھی اہم کردار ادا کیا تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے مابین جنگ کے خطرات کو ٹالنا ان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ عالمی سطح پر بھی اس سفارتی کوشش کو سراہا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس بحران کے دوران مبینہ طور پر دونوں فریقین کے مجموعی طور پر گیارہ جنگی طیارے گرائے گئے تھے جو اس محاذ آرائی کی شدت اور سنگین نوعیت کا واضح ثبوت تھا۔ طیاروں کے گرنے کے اس واقعے نے دنیا بھر کی توجہ اس تنازع کی طرف مبذول کروائی تھی اور عسکری ماہرین نے بھی اس کی سنگینی کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق اس نوعیت کے واقعات کسی بھی بڑے ایٹمی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے تھے جسے ان کی بروقت مداخلت نے ناکام بنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ عالمی منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں کئی مقامات پر جاری تنازعات اور جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں کل آٹھ بڑی جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے مگر اس سب کے باوجود انہیں اب تک نوبیل امن انعام سے نہیں نوازا گیا۔ ان کا یہ شکوہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل انعام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی امن کی کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں اور انہوں نے عملی طور پر انسانی جانیں بچائی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں رکوانے کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا ہے، اتنا کسی اور امریکی صدر نے نہیں کیا۔ اس کے باوجود انہیں وہ بین الاقوامی پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ امریکی صدر نے اپنے حامیوں کے سامنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ فلوریڈا کی اس ریلی میں موجود افراد نے ان کے اس مؤقف کو بھرپور سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کی موجودہ اور سابقہ خارجہ پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دور حکومت میں دنیا بھر کے تنازعات کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایران ہو یا جنوبی ایشیا کے معاملات، واشنگٹن کا مقصد ہمیشہ خطے میں استحکام لانا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آئندہ بھی عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے اس خطاب سے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف ممالک کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلوریڈا میں ہونے والی اس سیاسی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن کے سامنے امریکی صدر نے اپنے روایتی جارحانہ اور پُرعزم انداز میں خیالات کا اظہار کیا۔ ریلی کے شرکاء نے ان کے بیانات پر تالیوں اور نعروں سے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خطاب ان کی آئندہ کی انتخابی اور سیاسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ووٹرز کو متحرک رکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور میڈیا کی نظریں بھی ان کے ان پالیسی بیانات پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلاصہ کلام کے طور پر امریکی صدر کا یہ خطاب ان کی عالمی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوششوں کا عکاس ہے۔ چاہے وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف ہو، کیوبا کے لیے مارکو روبیو کا تقرر ہو یا پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ، یہ تمام امور عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ واشنگٹن ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح کے بیانات خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2125/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیباف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2061/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2061/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:16:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[باقر_قالیباف]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جیفری_ایپسٹین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ عوامی غصے کو اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اپنے اہم بیان میں مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات اور احتساب کے عمل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے اصل اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ مغرب میں عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے ایک مخصوص اور سوچے سمجھے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طاقتور حلقوں کو احتساب سے بچایا جا سکے اور عوام کو آپس میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سپیکر نے دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین سکینڈل، غزہ کی موجودہ صورتحال، ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور عالمی سطح پر بدعنوانی جیسے معاملات دراصل ایک ہی بااثر گروہ کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جو دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی نظاموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ شناخت کی بنیاد پر پیدا کی جانے والی تقسیم کی کوششوں کا مقابلہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی تحریک کا رخ اصل مسائل سے نہ ہٹے۔ ان کے مطابق عوامی بیداری ہی ان طاقتور حلقوں کے احتساب کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی کی بلند شرح، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی ممالک میں جاری ان مظاہروں میں تعلیمی مسائل اور معاشی عدم مساوات بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا کہنا ہے کہ باقر قالیباف کا یہ پیغام دراصل ان مظاہرین کے لیے ایک اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یورپ میں مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریکیں کسی بھی بیرونی دباؤ یا تقسیم کے بغیر اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اپنے پیغام میں کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عالمی سطح پر موجود سیاسی ڈھانچے پر تنقید کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کا نظام کمزور پڑ چکا ہے اور اس کی بحالی کے لیے عوامی دباؤ ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی حکومتیں فی الحال اپنے ہاں جاری ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ تاہم عوام کی جانب سے مسلسل مطالبات نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور معاشی اصلاحات کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر ایرانی سپیکر کا یہ بیان عالمی سیاست میں جاری کشمکش کا ایک حصہ ہے جس میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ یہ احتجاجی تحریکیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2061/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/196/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/196/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 16:37:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_ریلی]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d9%86%db%81-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سابق امریکی صدر نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جانبدارانہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نوبیل امن انعام کے حالیہ فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ باوقار انعام ملنا چاہیے تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ناروے کی نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انعام اب چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں میں ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صدر نے 2026 کے نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جنہیں عالمی سطح پر زیادہ نہیں جانا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم و نسل کشی کے خلاف احتساب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں متعدد جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، ان کے ان دعوؤں اور تنازعات کے حل میں ان کی حکمت عملی پر عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل کمیٹی کی جانب سے ہر سال امن کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس پر اکثر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اسی سلسلے میں ایک تازہ ترین ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ناوی پلے ماضی میں مختلف بین الاقوامی عدالتوں میں بطور جج بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ کی جانب سے ناروے پر تنقید کا یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ عالمی اداروں کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیراکیوز میں ہونے والی اس ریلی میں ری پبلکن پارٹی کے دیگر امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو اپنی تقریروں کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل امن انعام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اس کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی شخصیات نے کمیٹی کے فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ کا انداز اس معاملے میں کافی جارحانہ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر عالمی سطح پر ناوی پلے کو ملنے والے اس اعزاز کو سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا ہے، جو عالمی انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ناروے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سفارتی حلقے اس بیان کو امریکا اور ناروے کے درمیان تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک انفرادی رائے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/196/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حرمین الشریفین کا دفاع تمام مسلمانوں کا مشترکہ فریضہ ہے، لیاقت بلوچ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/165/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/165/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 13:57:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امت_مسلمہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جماعت_اسلامی]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_الشریفین]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/165/</guid>

					<description><![CDATA[جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حملے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سخت تشویشناک ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس عزم کا بھرپور اظہار کیا ہے کہ حرمین الشریفین کی حفاظت اور سلامتی دنیا بھر کے تمام اہلِ ایمان کا مشترکہ اور اہم ترین فریضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدس مقام کے تحفظ کے لیے ہر کلمہ گو کو اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے بروقت نبردآزما ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر ہونے والے حالیہ حملوں نے عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو انتہائی فکرمندی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے کے امن کو پارہ پارہ کرنے کی ایک گہری سازش ہیں جنہیں ناکام بنانے کے لیے تمام مسلم ممالک کو مل کر سوچنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم ممالک کی باہم یکجہتی اور باہمی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ کشیدہ حالات میں تمام اسلامی ممالک کو انتشار پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف ایک مضبوط اور مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ اختلافِ رائے کو پسِ پشت ڈال کر امتِ واحدہ بننا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا کہ مسلم دنیا کے دفاعی امور اور باہمی تعاون میں مکہ دفاعی اتحاد کو انتہائی اہمیت حاصل ہے جو کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک ناگزیر ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اتحادوں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطی کی موجودہ ابتر اور کشیدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی جاری جنگ اب ایک نہایت خطرناک، پیچیدہ اور نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں مزید انکشاف کیا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ جیسے اہم اور اثرورسوخ رکھنے والے اسلامی ممالک باہمی دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد کے معاملے میں تمام ضروری اور احتیاطی تدابیر انتہائی خلوص سے اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انم تین برادر ممالک کے درمیان تعاون خطے کے استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطی کے امور پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی طاقتوں اور مسلم دنیا کے با اثر رہنماؤں کو خطے میں جاری خون خرابے کو روکنے کے لیے فوری، عملی اور موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارتی سطح پر کوششیں تیز کی جانی چاہئیں تاکہ مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو اس وقت جو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، ان کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے تمام باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک واحد پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کے بغیر مسلمانوں کی بقا اور سلامتی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما نے باور کرایا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین الشریفین کے تقدس اور دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اداروں بالخصوص اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کو بھی اس نازک موڑ پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانی چاہئیں اور مسلم دنیا کو درپیش سلامتی کے خطرات کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کرکے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرمانہ خاموشی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے انہوں نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ تمام فریقین ہوش سے کام لیں اور جنگی جنون کو ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ اس سے صرف انسانی المیے جنم لیتے ہیں اور معیشتیں تباہ ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان کے آخر میں لیاقت بلوچ نے تمام پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ وہ ملک کی داخلی سلامتی اور اتحاد کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کی بیداری کے لیے دعاگو رہیں اور مسلم امہ کی سربلندی کے لیے اپنا مثبت اور تعمیراتی کردار جاری رکھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد حالات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان سمیت تمام اہم ممالک سفارتی سطح پر رابطے بڑھا رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے اور امن کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/165/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
