<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عالمی_بینک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c_%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عالمی_بینک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان میں غربت کی شرح کورونا وبا سے قبل کی سطح سے زیادہ، عالمی بینک کی رپورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور غربت کے اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں معاشی دباؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی شرح میں مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران 64 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال عام آدمی کی قوت خرید پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی شرح میں بھی 32 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے اس تسلسل نے نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے غربت میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، شدید مہنگائی، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو قرار دیا ہے۔ ان عوامل نے روزگار کے مواقع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح جو 2025 میں 4.5 فیصد تھی، 2026 میں بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مزید برآں 2027 میں اس شرح کے 8.2 فیصد تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدنی کا 35 سے 50 فیصد حصہ صرف خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ خوراک کی شدید قلت یا اس سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان خاندانوں کے لیے بڑے معاشی بحران کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی یہ صورتحال پورے خطے کے اعداد و شمار پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح کورونا کے بعد سے اب تک معمول پر نہیں آ سکی اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے، جس سے نجی شعبے اور روزگار کی فراہمی کے عمل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صنعتی پیداوار میں کمی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کو درپیش ان چیلنجز کے باوجود حکومتی سطح پر معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی یہ رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ غربت کے خاتمے اور معاشی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں توازن لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک_کے_اخراجات]]></category>
		<category><![CDATA[دیہی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے متوسط اور غریب طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے پاکستان میں غربت اور معاشی صورتحال سے متعلق اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کم آمدن والی اسی فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیہی علاقوں میں مقیم اس کم آمدن والی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خوراک پر ہونے والے اخراجات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک کا متمول اور امیر طبقہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس، متوسط اور غریب طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا ستر سے اسی فیصد حصہ صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے یہ کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی کی لہر غریب خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی اس رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دو ہزار انیس کے بعد یہ مثبت پیش رفت رک گئی اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس کے دوران اس خطے کی چودہ اعشاریہ تین فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والی آبادی کی شرح دس اعشاریہ چار فیصد ہے، جو خطے کی صورتحال کو زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ممالک میں چھبیس اعشاریہ نو فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی چار اعشاریہ بیس ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں چار اعشاریہ بیس ڈالر یومیہ آمدنی والی آبادی کی اوسط شرح اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد ہے، جو خطے کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح سے جڑے یہ منفی معاشی رجحانات دو ہزار چھبیس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کے وسائلِ آمدن کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا مقصد ان اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی مالی حالت بہتر بنانا اور ان کی آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 15:17:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[بنکاک_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[فیول_سبسڈی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%b9%db%81%d8%af%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی ادارے کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور اصلاحاتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عمل میں آئی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ امور اور معاشی پالیسیوں پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کو سراہا اور پاکستان کی معاشی سمت کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے ساختی اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد اور مضبوط سیاسی عزم انتہائی ضروری ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب واپسی کا ذکر کیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دکھائی جانے والی بھرپور دلچسپی اور شرکت کو اجاگر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عالمی عہدیدار کو ملک کے کمزور طبقات کے تحفظ اور معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت معاشرے کے پس ماندہ طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہدفی فیول سبسڈی کے نظام پر مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والے اضافے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جس سے ملکی معاشی پوزیشن کو مزید تقویت ملی ہے اور تجارتی سرگرمیاں بہتر ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے مسلسل تین سال تک بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول کے سنگ میل پر روشنی ڈالی اور اسے معاشی نظم و ضبط کا بڑا ثبوت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ملکی قرضوں میں کمی کے رجحان کو بھی نمایاں کیا گیا جو حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں کے درمیان پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنانے پر اتفاق رائے ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص اخراجات کا تحفظ کیا جائے تاکہ انسانی وسائل کی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا معاشی چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں محصولات کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ٹیکس وصولی میں اضافے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا تاکہ قومی خزانے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران انسانی سرمائے کی ترویج، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے نئے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اصلاحات کا ایجنڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی بینک کی رپورٹ: پاکستان میں غربت اور غذائی عدم تحفظ کے چیلنجز برقرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 21:17:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[غذائی_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[غربت]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%d8%a7%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں معاشی مشکلات اور غربت کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان سے متعلق رپورٹ میں خطے کی معاشی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت کئی ممالک میں غربت کی شرح میں اضافہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن پر گزارا کرنے والے افراد کی شرح 20 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی آبادی اسی سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، مذکورہ خطے میں روزانہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے افراد کا تقریباً 48 فیصد حصہ پاکستان میں موجود ہے۔ یہ صورتحال ملک میں قوتِ خرید میں کمی اور معاشی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں غذائی عدم تحفظ کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان، لبنان اور پاکستان جیسے ممالک میں خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے نمایاں دباؤ موجود ہے، جس سے نچلا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ 2026ء کے اختتام تک ایل نینو جیسی صورتحال خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان مون سون کے نظام میں تبدیلیوں کے باعث اس خطرے سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معاشی شرحِ نمو کے حوالے سے رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران یہ 3.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری اور سرکاری اداروں میں شفافیت لانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، پاکستان کو پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات معیشت کو درپیش بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے رپورٹ اور دیگر ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر بنیادی اشیاء کی مہنگائی عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ معاشی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیم اور صحت کے شعبوں میں درپیش چیلنجز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں درپیش مسائل ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق 2026 میں ہیضے، اسہال، ملیریا اور فلو جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے صحت کے شعبے میں بہتری اور فنڈز کی فراہمی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی پاکستان کی معیشت کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم عالمی اداروں کی رپورٹس معیشت کو درپیش طویل مدتی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عوام کی معاشی بہتری کے لیے ان اصلاحات کا ثمر ملنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
