<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.46.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عالمی_ادارہ_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c_%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%81_%d8%b5%d8%ad%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 05 Nov 2026 20:43:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>عالمی_ادارہ_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گنی بساؤ میں متنازع ہیپاٹائٹس بی ویکسین ٹرائل منسوخ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/5157/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/5157/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 05 Nov 2026 20:43:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[بانڈیم_ہیلتھ_پروجیکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بساؤ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_ادارہ_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوینہ_نانٹوٹے]]></category>
		<category><![CDATA[گنی_بساؤ]]></category>
		<category><![CDATA[ہیپاٹائٹس_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ویکسین_ٹرائل]]></category>
		<category><![CDATA[ویکسینیشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/5157/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی فنڈنگ سے شروع ہونے والے اس تجربے کو غیر اخلاقی قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین سے متعلق ایک متنازع طبی تجربہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو امریکی حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی گئی تھی، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقی منصوبے سے وابستہ ایک محقق فریڈرک شالٹز نے تصدیق کی ہے کہ حکومتی منظوری نہ ملنے کے باعث یہ ٹرائل اب آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل اکتوبر کے وسط میں گنی بساؤ کی جوڈیشل پولیس نے دارالحکومت بساؤ میں قائم &#039;بانڈیم ہیلتھ پروجیکٹ&#039; کے مراکز پر چھاپہ مار کر ویکسین کی کھیپ قبضے میں لے لی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ ٹرائل ملک کے حفاظتی معیارات کے مطابق تھا یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تجربہ 14 ہزار نوزائیدہ بچوں پر کیا جانا تھا، جس کے تحت آدھے بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ویکسین دی جانی تھی جبکہ باقی آدھے بچوں کو یہ ویکسین چھ ہفتے بعد ملنی تھی۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق یہ طریقہ کار غیر اخلاقی ہے کیونکہ اس سے بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کے خطرے میں ڈالا جا رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گنی بساؤ کی وزیر صحت کوینہ نانٹوٹے نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کے کسی بھی ترمیم شدہ پروٹوکول کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس سے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ تجربہ جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت نے اس منصوبے کو &#039;نوآبادیاتی&#039; ذہنیت کا عکاس قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کو ایسے خطرات میں کیوں ڈالا جا رہا ہے جنہیں ترقی یافتہ ممالک میں قبول نہیں کیا جاتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے تحت چلنے والے اس پروجیکٹ کے منتظمین کا مؤقف تھا کہ وہ ویکسین کے ضمنی اثرات کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ثابت شدہ ویکسین کو بچوں سے روکنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گنی بساؤ کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہے، جو جگر کے کینسر اور ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ ملک میں فی الحال ویکسین چھ ہفتے کی عمر میں دی جاتی ہے جبکہ حکومت 2028 تک اسے پیدائش کے وقت دینے کا پروگرام بنا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/5157/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس: سائبیریا میں لیب ورکر کی پراسرار موت، عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/215/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/215/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 18:38:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرار_موت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[سائبیریا]]></category>
		<category><![CDATA[طاعون]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_ادارہ_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قرنطینہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%db%8c%d8%a8-%d9%88%d8%b1%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[سائبیریا کے تحقیقی مرکز میں کام کرنے والی 28 سالہ خاتون کی موت کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی، عالمی ادارہ صحت نے تشویش کا اظہار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس کے علاقے سائبیریا میں واقع ایک تحقیقی مرکز میں کام کرنے والی ایک خاتون لیب ورکر کی پراسرار موت نے طبی ماہرین اور عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارہ صحت اور روسی صحت کے نگران اداروں نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی متعدی بیماری یا طاعون کے پھیلاؤ کے امکانات کو فی الحال مسترد کیا گیا ہے۔ خاتون کی موت کے بعد سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہلاک ہونے والی لیب ورکر میں نمونیا کی علامات دیکھی گئی تھیں، لیکن اس نمونیا کی اصل وجہ کیا تھی، اس کا پتہ لگانے کے لیے سائنسی شواہد ناکافی ہیں۔ ادارے نے اس غیر یقینی صورتحال کو بنیادی تشویش قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی طبی حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متوفی خاتون کے ساتھ رابطے میں رہنے والے دیگر افراد کی صحت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اب تک کسی بھی دوسرے فرد میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہی ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی خطرے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق، 28 سالہ لیب ورکر اکتوبر کی 2 تاریخ کو بیمار ہوئی تھیں اور کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کے بعد روسی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرنطینہ کے اس اقدام کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی تھیں، جس سے عوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر انحصار کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبیریا کا یہ تحقیقی مرکز طاعون اور دیگر متعدی امراض کے خلاف تحقیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے ماہرین انتہائی احتیاطی ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس واقعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور لیب ورکر کے نمونوں کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حتمی تشخیص کے بعد ہی اس معاملے کا مکمل پس منظر واضح ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کے صحت کے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحقیقی مرکز میں کام کرنے والے تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ قرنطینہ میں موجود افراد کی طبی جانچ کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی خطرے کو بروقت بھانپا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ لیبارٹریوں میں کام کرنے والے عملے کی صحت اور حفاظت ایک حساس معاملہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ تمام تر حقائق سامنے آنے تک اپنی نگرانی جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر لیبارٹریوں میں حفاظتی پروٹوکولز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ روسی حکام کی جانب سے جلد ہی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں موت کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/215/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
