<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b7%d8%a8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 21:26:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>طب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں &#8216;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#8217; ڈیجیٹل نظام کا نفاذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2911/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2911/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:36:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں سوا ارب روپے کی لاگت سے مریضوں کی رجسٹریشن اور طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے &#039;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#039; ڈیجیٹل نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم منصوبے پر سوا ارب روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد مریضوں کے علاج معالجے کے عمل کو شفاف بنانا اور ان کے طبی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مریضوں کی رجسٹریشن کے عمل کو ان کی تشخیصی رپورٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کا مکمل طبی ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر فوری طور پر دستیاب ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ وزارتِ صحت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے لیے درکار سافٹ ویئر نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے پمز کے پانچوں ذیلی ہسپتالوں کو آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے، جن میں کارڈیک سینٹر، چلڈرن ہسپتال، برن سینٹر، زچہ و بچہ سینٹر اور بڑوں کا ہسپتال شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے مجموعی طور پر 24 شعبوں کو ایک ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک پر لایا گیا ہے، جن میں لیبارٹری، ایکسرے یونٹ، استقبالیہ، وارڈز، ایمرجنسی، ٹرانسپورٹ اور آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں ہسپتال کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے اور مریضوں کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں کارڈیک سینٹر کو 31 اکتوبر تک مکمل طور پر پیپر لیس کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے مریضوں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید نظام سے نہ صرف مریضوں کو قطاروں میں لگنے سے نجات ملے گی بلکہ ان کے علاج کے عمل میں بھی تیزی آئے گی، کیونکہ اب پرانے ریکارڈ کو تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل ہسپتال کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے وسائل کے بہتر استعمال اور ادویات و طبی آلات کی فراہمی میں شفافیت لانے میں بھی مدد ملے گی، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس نظام کو دیگر سرکاری ہسپتالوں تک بھی پھیلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں مریضوں کا ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جا سکے اور علاج کے عمل کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2911/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2217/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2217/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[پرائیڈ_آف_برٹین_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_آصف_حسن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%86%da%98%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ڈاکٹر آصف حسن نے تین دہائیوں تک بچوں کے دل کے پیچیدہ آپریشنز اور پیوندکاری کے ذریعے ہزاروں زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر آصف حسن کو طب کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 2026 کے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں بچوں کے دل کی سرجری میں تین دہائیوں پر محیط ان کی انتھک محنت کے صلے میں دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ایسے بچوں کے علاج کے لیے خود کو وقف کیے رکھا جو پیدائشی قلبی نقائص کا شکار تھے۔ انہوں نے نیو کیسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے طبی سفر کے دوران ڈاکٹر آصف حسن نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس کیے۔ انہوں نے بچوں کو دل کی پیوندکاری تک زندہ رکھنے کے لیے &#039;برج ٹو ٹرانسپلانٹ&#039; پروگرام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس میں برلن ہارٹ میکانکی پمپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کی طبی جدت طرازیوں میں &#039;بوٹ لیس کلو زر&#039; کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس کے ذریعے آپریشن کے بعد سینے کی ہڈی کو بند کرنے کا عمل آسان اور محفوظ بنایا گیا۔ اس تکنیک نے ان بچوں کے لیے بھی علاج کی راہیں کھولیں جن کے سینے میں پیچیدگیوں کا خدشہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فری مین اسپتال میں ڈاکٹر آصف حسن کی ٹیم ان پیچیدہ کیسز کو بھی قبول کرتی تھی جنہیں دیگر طبی مراکز خطرے کے پیش نظر لینے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے زیرِ علاج رہنے والے بچوں میں میکس جانسن اور سی سی لیا ادامو جیسے مریض شامل ہیں، جو ماضی میں پرائیڈ آف برٹین کے &#039;چلڈرن آف کوریج&#039; ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کا ماننا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی صرف آپریشن کرنا نہیں بلکہ سرجنز کی ایک ایسی نئی نسل تیار کرنا ہے جو ان کے بعد بھی بچوں کی بہترین طبی نگہداشت کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔ انہوں نے تربیت کے عمل کو ہمیشہ اپنی ترجیح رکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی ٹیم اور برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے عملے کو دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ ان کے کیریئر میں خوشی اور غم کے کئی لمحات آئے۔ انہوں نے ان مریضوں کو بھی دیکھا جنہیں بچایا نہ جا سکا، تاہم کامیاب سرجریز نے ہمیشہ انہیں حوصلہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ان کے تیار کردہ سرجنز اب دنیا بھر میں بچوں کی زندگیاں بچانے کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک ڈاکٹر کے لیے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کا کام اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز کی جانب سے یہ اعزاز ان کی انسانیت دوستی اور اس عزم کا اعتراف ہے جس کے تحت انہوں نے تین دہائیوں تک ہزاروں خاندانوں کو امید کی نئی کرن فراہم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے، کیونکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارت اور محنت سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی زندگی کا یہ سفر آنے والے طبی ماہرین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی خدمات کا دائرہ کار صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بچوں کے دل کے سرجنز کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی لگن نے طب کے شعبے میں جدید علاج کے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ طبی عملے کی قربانیوں کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔ انہوں نے نرسز اور دیگر معاون عملے کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ایوارڈ ان تمام خاندانوں کی دعاؤں کا بھی اعتراف ہے جن کے بچوں کو ڈاکٹر آصف حسن نے نئی زندگی دی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا کام ان کی تیار کردہ ٹیم کے ذریعے جاری رہے گا، جو ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2217/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2211/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2211/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:36:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امڈیلٹرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایسٹرا_زینیکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایمفنزی]]></category>
		<category><![CDATA[ایمن]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پھیپھڑوں_کا_کینسر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%da%be%db%8c%d9%be%da%be%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%db%8c%d9%86%d8%b3%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%91%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b4/</guid>

					<description><![CDATA[طبی تحقیق کے مطابق دو ادویات کے امتزاج سے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">میڈرڈ میں منعقدہ یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی کانفرنس کے دوران پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج سے متعلق ایک انتہائی اہم طبی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق نے کینسر کے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی ایمن کی تیار کردہ دوا &#039;امڈیلٹرا&#039; اور ایسٹرا زینیکا کی امیونوتھراپی &#039;ایمفنزی&#039; کو ملا کر استعمال کرنے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں موت کے خطرے کو 58 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مطالعہ خاص طور پر &#039;اسمال سیل لنگ کینسر&#039; کے ان مریضوں پر کیا گیا جن میں بیماری تیزی سے پھیل چکی تھی۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ دونوں ادویات کا مشترکہ استعمال مریضوں کی زندگی کو طویل کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، جن مریضوں کو یہ دونوں ادویات دی گئیں ان کی اوسط بقا 21.1 ماہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف ایمفنزی استعمال کرنے والے مریضوں کی اوسط بقا 12.7 ماہ تک محدود رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں شامل مریضوں کے ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشترکہ علاج حاصل کرنے والے تقریباً 80 فیصد مریض ایک سال بعد بھی حیات تھے، جبکہ صرف ایمفنزی لینے والے گروپ میں یہ شرح 53 فیصد تک رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمن کے چیف میڈیکل آفیسر پال برٹن نے ان نتائج کو کینسر کے علاج میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امڈیلٹرا کو علاج کے ابتدائی مراحل میں شامل کرنے سے طبی فوائد میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق &#039;ایمفنزی&#039; پہلے ہی ان مریضوں کے لیے معیاری علاج سمجھی جاتی ہے جن میں کیموتھراپی کے بعد بیماری مزید نہیں بڑھتی، تاہم نئی تحقیق نے علاج کے نئے امکانات روشن کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی جریدے &#039;نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن&#039; میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق امڈیلٹرا ایک بائی اسپیسیفک اینٹی باڈی ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کے ٹی سیلز کو کینسر کے خلیوں کے قریب لا کر انہیں تباہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایمفنزی ایک مختلف نوعیت کی امیونوتھراپی ہے جو کینسر کے خلیوں کو مدافعتی نظام سے چھپنے سے روکتی ہے۔ ان دونوں ادویات کا امتزاج کینسر کے خلاف ایک مضبوط دفاعی نظام تشکیل دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ افراد &#039;اسمال سیل لنگ کینسر&#039; کا شکار ہوتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے کینسر کی مجموعی اقسام میں اس قسم کے کیسز تقریباً 15 فیصد ہوتے ہیں جو کافی پیچیدہ تصور کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد سرجری کے لیے موزوں نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں ابتدائی طور پر کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی تحقیق ان مریضوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جن کے پاس علاج کے محدود مواقع ہوتے ہیں۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں کینسر کے علاج کے پروٹوکولز میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق کے نتائج کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ مشترکہ علاج عالمی طبی مراکز میں مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر دستیاب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2211/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، وفاقی وزیر نے ڈریپ کو قیمتوں پر نظرثانی کا حکم دے دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:57:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈریپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیوں_کی_بیماریاں]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d9%84%d9%88-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%aa-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں خامیوں کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ویکسینز مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے توانائی و پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں فلو ویکسین کی عدم دستیابی کی اہم وجہ واضح کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے درآمد کی جانے والی فلو ویکسینز قیمتوں کے تعین میں پیچیدگیوں کے باعث تاحال مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدق ملک کے مطابق، تین مختلف فلو ویکسینز کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں تکنیکی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ان ویکسینز کی موجودہ درآمدی لاگت ان کی مجوزہ قیمتوں سے کافی کم ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان تینوں فلو ویکسینز کی قیمتوں کا متعلقہ سرکاری پالیسی کے مطابق دوبارہ جائزہ لے۔ اس عمل کا مقصد عوامی مفاد کو یقینی بنانا اور غیر ضروری مہنگائی کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدق ملک نے مزید بتایا کہ صرف فلو ویکسین ہی نہیں، بلکہ 52 نئی ادویات کی مجوزہ قیمتوں میں بھی کچھ خامیاں پائی گئی ہیں۔ ان ادویات کی قیمتیں مقرر کرتے وقت مارکیٹ کے مروجہ نرخوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس پر نظرثانی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فلو ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی عدم دستیابی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ ادویات اور ویکسینز کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور ڈریپ کی مقرر کردہ پالیسیوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو معیاری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈریپ کی جانب سے قیمتوں کے دوبارہ جائزے کے بعد حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔ ان سفارشات کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی ان ادویات اور ویکسینز کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد دوا ساز کمپنیوں اور عوام کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتوں کا تعین شفاف ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ہر سال سردیوں کے موسم میں فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین بھی شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈریپ حکام اب ان تمام کیسز پر کام کر رہے ہیں جن میں قیمتوں کے تعین کے دوران غلطیاں ہوئی تھیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نظرثانی کے عمل کے بعد جلد ہی فلو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ بحال ہو جائے گا اور ادویات کی قیمتیں بھی مستحکم ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عام آدمی کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے، تاہم حکومتی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت سے شہریوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی انہیں مارکیٹ میں فلو ویکسین دستیاب ہوگی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی کا فیصلہ ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف فلو ویکسین بلکہ دیگر اہم ادویات کی قیمتوں میں بھی توازن آئے گا۔ عوام کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں ریلیف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2051/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2051/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 21:56:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[انفلوئنزا]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈریپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%84%d9%b9%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%84-%da%a9%d9%85%d9%be%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی کابینہ کی جانب سے قیمتوں کی منظوری نہ ملنے کے باعث بین الاقوامی کمپنیوں کی فلو ویکسین درآمد نہیں کی جا سکی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم اس بار ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تیار کردہ فلو ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں کو موسمی نزلہ و زکام سے بچاؤ کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق ملٹی نیشنل فارما کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے مابین قیمتوں کے تعین پر تنازع اس تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے تاحال نہیں مل سکی ہے، جس کی وجہ سے درآمدی عمل رکا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ فلو ویکسین کی قیمتوں کا معاملہ ایک متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیر خزانہ اور وزیر صحت پر مشتمل ایک کمیٹی ڈریپ کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں پر اتفاق کر چکی ہے، تاہم کابینہ کی حتمی توثیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک بھی اس معاملے پر متعدد اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں تاکہ جلد از جلد ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ایبٹ اور ہوئسٹ جیسی بڑی کمپنیاں قیمتوں میں نظرثانی کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ویکسین درآمد کرنے سے گریزاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت صحت کے ترجمان نے صورتحال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں صرف چینی ساختہ انفلوئنزا ویکسین کے دو برانڈز &#039;این فلو&#039; اور &#039;ویریونزا&#039; دستیاب ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر بین الاقوامی برانڈز کی قلت برقرار ہے جس سے شہریوں کے پاس انتخاب کے مواقع محدود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں سیزن کے لیے تین اسٹرینز پر مشتمل فلو ویکسین کی سفارش کی ہے۔ حکام کے مطابق چار اسٹرینز والی ویکسین کو عالمی سطح پر واپس لے لیا گیا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی صرف منظور شدہ معیار کی ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فارما انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں تاخیر سے نہ صرف درآمدات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ کمپنیاں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فلو ویکسین کا بروقت استعمال بچوں، بزرگوں اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ موسم سرما کے دوران انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا صحت عامہ کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد قیمتوں کا تعین کر کے ویکسین کی سپلائی چین کو بحال کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ہر سال موسم سرما کے دوران فلو کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ صحت کے ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر ضرورت ہو تو دستیاب چینی ساختہ ویکسین کے بارے میں اپنے معالج سے مشورہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والا ادارہ ڈریپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ قیمتیں نہ صرف کمپنیوں کے لیے قابل قبول ہوں بلکہ عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق بھی رہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ہی اس تعطل کے خاتمے کی کلید ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچنے کے لیے فارما سیکٹر اور حکومت کے درمیان ایک مستقل میکانزم کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے ادویات کی قلت اور قیمتوں کے تنازعات کو بروقت حل کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2051/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دل کی دھڑکن کی بحالی کا ٹیسٹ: صحت اور طویل عمری کا راز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1970/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1970/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_دھڑکن]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طویل_عمر]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%af%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%da%91%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کے بعد دل کی دھڑکن جتنی تیزی سے معمول پر آئے، قلبی صحت اتنی ہی بہتر ہوتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسانی جسم میں صحت مند طرزِ زندگی اور جسمانی فٹنس کو جانچنے کے لیے متعدد طریقے اور پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں اب ایک ایسا سادہ ٹیسٹ بھی سامنے آیا ہے جو دل کی کارکردگی اور مجموعی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ورزش کے دوران جسم کا ردعمل ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ورزش ختم ہونے کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلدی معمول پر آتی ہے، یہ صحت کا ایک بنیادی اشارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیسٹ کو دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کہا جاتا ہے، جس سے مراد ورزش کے دوران دل کی بلند رفتار اور ورزش روکنے کے ایک منٹ بعد دل کی دھڑکن کے درمیان پایا جانے والا فرق ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ رفتار دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا تعین کرتی ہے اور اس سے بلند فشارِ خون سمیت دل کی دیگر بیماریوں کے خطرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کی بحالی کا یہ عمل صرف قلبی امراض تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج جسم میں موجود دیگر پوشیدہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق اس ٹیسٹ کا غیر تسلی بخش نتیجہ مجموعی طور پر قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافے کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس حوالے سے اہم ترین تحقیق سنہ 1999 میں امریکی ریاست اوہائیو کے کل یو لینڈ کلینک کے ماہرین نے کی تھی۔ اس چھ سالہ طویل تحقیق میں تقریباً چوبیس سو بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تاکہ دل کی دھڑکن اور صحت کے خطرات کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مطالعے کے دوران یہ اہم ترین حقیقت سامنے آئی کہ جن افراد کے دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول کی حالت میں واپس آنے میں زیادہ وقت لیتی تھی، ان میں موت کا خطرہ دیگر عام افراد کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ پایا گیا۔ بعد ازاں دنیا بھر میں ہونے والی دیگر طبی تحقیقات نے بھی ان نتائج کی بھرپور تصدیق کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گھر پر عام اشیا کی مدد سے اس ٹیسٹ کو انجام دینے کا ایک آسان طریقہ موجود ہے، البتہ کوئی بھی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو طبی نگرانی کے بغیر اس نوعیت کا کوئی بھی ٹیسٹ خود کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرنے کے لیے وقت نوٹ کرنے کا کوئی ذریعہ یا موبائل فون کا ٹائمر درکار ہوتا ہے، جبکہ سمارٹ واچ یا فٹنس ٹریکر بھی اس مقصد کے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی عمر کی مدد سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ دل کی دھڑکن کا اندازہ لگایا جاتا ہے، جس کا عام طریقہ یہ ہے کہ دو سو بیس میں سے اپنی عمر کو تفریق کر دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد ایسی جسمانی سرگرمی یا ورزش کی جاتی ہے جس سے دل کی دھڑکن اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ستر سے پچاسی فیصد تک پہنچ جائے۔ اس مقصد کے لیے دوڑنا، سائیکل چلانا یا روئنگ مشین کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کا انحصار فرد کی اپنی جسمانی استعداد پر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش ختم ہوتے ہی جب دل کی رفتار بلند سطح پر ہو تو اپنی نبض چیک کی جاتی ہے، اور اگر سمارٹ واچ نہ ہو تو گردن پر انگلی رکھ کر دس سیکنڈ تک دھڑکنیں گن کر اسے چھ سے ضرب دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک منٹ تک آرام کرنے کے بعد دوبارہ نبض چیک کی جاتی ہے اور پہلی تعداد میں سے دوسری کو تفریق کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اگر ورزش کے پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کم از کم اٹھارہ دھڑکنیں کم ہو جائے تو اسے ایک اچھا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ کمی بارہ دھڑکنوں سے کم ہو تو یہ مستقبل میں صحت کے بعض ممکنہ مسائل یا خطرات کی علامت ہوسکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کے جلد معمول پر آنے اور صحت کے درمیان تعلق کی ایک بڑی وجہ ویگس اعصاب کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب دماغ کو دل، جگر اور آنتوں سمیت جسم کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور دباؤ یا سکون کی حالت کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش کے دوران جسم کا ایک نظام ایکسیلیریٹر کی طرح کام کرتے ہوئے دل کی دھڑکن کو تیز کرتا ہے اور خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے۔ ورزش مکمل ہونے کے بعد جسم کا دوسرا نظام بریک کا کردار ادا کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو دوبارہ آرام دہ اور معمول کی حالت میں لے آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیسے جیسے کسی شخص کی جسمانی فٹنس بہتر ہوتی جاتی ہے، اس کا جسم ان دونوں نظاموں کے درمیان زیادہ مؤثر طریقے سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس صلاحیت کو بلند وی گل ٹون کہا جاتا ہے جو کہ بہتر ذہنی کارکردگی اور طویل صحت مند زندگی سے جڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی شخص کو اپنے دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کے حوالے سے کوئی تشویش ہو تو ماہرین اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کے ذریعے اس رفتار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور صحت کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1970/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی میں منکی پاکس کے مزید 2 مریضوں کی تصدیق، ہسپتال میں تعداد سات ہو گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1963/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1963/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:17:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_مریض]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_انفیکشنز_ڈیزیز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[سہراب_گوٹھ]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%86%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-2-%d9%85%d8%b1%db%8c%d8%b6%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہرِ قائد میں منکی پاکس کے پھیلاؤ میں تیزی، مزید دو افراد میں بیماری کی تصدیق کے بعد ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کی کل تعداد سات ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں خطرناک وبائی بیماری منکی پاکس کے پھیلاؤ میں تیزی آنے لگی ہے اور طبی حلقوں کی جانب سے مزید دو افراد میں اس بیماری کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ شہرِ قائد میں اس وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر طبی اداروں اور ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق منکی پاکس کے تازہ ترین کیسز میں سامنے آنے والے دونوں متاثرہ افراد آپس میں گہرے دوست ہیں اور شہر کے ایک مقامی کیفے ٹیریا میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان دونوں نوجوانوں کے جسموں پر وائرس کی علامات کے طور پر مخصوص دانے ظاہر ہوئے تھے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افراد کی رپورٹ آنے کے بعد فوری طور پر ان کا علاج شروع کر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت کی ٹیمیں ان کے قریبی رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد شہریوں میں ایک بار پھر اس بیماری کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ذرائع کے مطابق منکی پاکس کی تصدیق کے بعد نیو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک اور مشتبہ مریض کو بھی سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال نیپا منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نئے مشتبہ مریض کی منتقلی کے بعد مذکورہ خصوصی ہسپتال میں زیرِ علاج منکی پاکس کے کل مریضوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں داخل تمام مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی انتہائی نگہداشت اور خصوصی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے دیگر وبائی امراض کی طرح اس مرض سے نبردآزما ہونے کے لیے بھی تمام ضروری طبی وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال میں داخل کُل مریضوں میں چار مرد، دو خواتین اور ایک چالیس دن کا شیرخوار بچہ شامل ہے۔ ان تمام مریضوں کی الگ الگ وارڈز میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاکہ انفیکشن کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نومولود بچے کے حوالے سے طبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس معصوم بچے کو مبینہ طور پر ختنہ کرانے کے دوران یہ بیماری منتقل ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد بچوں کے طبی طریقہ کار اور جراثیم سے پاک ماحول کی فراہمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے یا متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال اشیاء کے ذریعے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، جسم پر دانے یا آب لے بننا، اور غدود کا سوج جانا شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشتبہ علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے اس بیماری پر قابو پانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم چلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ہسپتالوں کے عملے کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آنے کے بعد مقامی انتظامیہ بھی الرٹ ہو گئی ہے اور طبی عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام آنے والے مشتبہ مریضوں کی فوری سکریننگ کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ ہسپتالوں میں ادویات اور حفاظتی کٹس کا ذخیرہ بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں بلکہ مستند طبی مشوروں پر عمل کریں تاکہ اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔ صحت کے عالمی اداروں کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پہلے ہی حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1963/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ، طبی ماہرین متحرک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1945/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1945/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:16:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شامونڈا_وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فرانس میں ایک مریض میں شامونڈا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو اب تک صرف مویشیوں میں پایا جاتا تھا، ماہرین نے تحقیقات شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں صحت کے حکام نے شامونڈا وائرس (Shamonda virus) کا پہلا انسانی کیس رپورٹ کیا ہے، جس نے طبی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ وائرس ماضی میں صرف کیڑوں کے ذریعے مویشیوں اور فارم کے جانوروں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کا شکار ہونے والا مریض لیون شہر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھا جہاں وہ اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث طبی امداد حاصل کر رہا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں انتقال کرنے والے اس مریض کی علامات نے ماہرین کو چونکا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی طبی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مریض کی موت سے قبل سامنے آنے والی شدید دماغی پیچیدگیاں اسی وائرس کے سبب تھیں۔ طبی ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت کیسے حاصل کر گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شامونڈا وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ پہلی بار 1960 کی دہائی میں نائیجیریا میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ وائرس افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کے ریوڑوں میں وقتاً فوقتاً پایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ یہ وائرس شْمَالینبرگ (Schmallenberg) وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مویشیوں میں یہ بیماری بخار، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسہال اور بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا باعث بنتی ہے جو کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موسم گرما کے دوران یورپ کے کئی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، کسی انسان میں اس کی منتقلی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس نے یورپی صحت کے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور نئی تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زرعی اور صحت کے حکام نے عوام کو تسلی دی ہے کہ عام شہریوں کے لیے اس وائرس سے فی الحال کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے ہی جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکام اب یورپ بھر میں جانوروں اور مڈجز (چھوٹے کیڑوں) پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کے رویے اور اس کی منتقلی کے ذرائع کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت طبی سائنس کے لیے ایک اہم چیلنج ہے کیونکہ اب تک اس وائرس کو صرف جانوروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی اس کیس کے بعد یورپ میں وائرس کی جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے زور دیا ہے کہ فارم کے جانوروں کے قریب کام کرنے والے افراد کو حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ جانوروں میں کسی بھی غیر معمولی علامت کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری حکام کو مطلع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکومت نے اس معاملے پر مزید تحقیق کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا یہ وائرس انسانوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1945/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ناشتہ کرنے کے حیرت انگیز طبی فوائد سامنے آ گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1885/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1885/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 23:19:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پروٹین]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_دباؤ]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طرز_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%86%d8%a7%d8%b4%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ناشتہ کرنے والے افراد ذہنی دباؤ اور تناؤ کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دن کا آغاز ایک متوازن ناشتے سے کرنا انسانی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد روزانہ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ تناؤ اور ذہنی دباؤ پر زیادہ بہتر طریقے سے قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی بینگہمٹن یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق میں نفسیاتی لچک کو صحت مند طرز زندگی کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ نفسیاتی لچک سے مراد انسان کی وہ دماغی صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ پر تناؤ حالات کے دوران خود کو سنبھالنے اور جلد بحال ہونے میں کامیاب رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق، جو افراد ہفتے میں کم از کم پانچ بار ناشتہ کرتے ہیں، ان میں نفسیاتی لچک کا تناسب ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جو ناشتہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت انسان کو جذباتی طور پر مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق میں چار سو افراد کو شامل کیا گیا جن کی غذائی عادات، نیند کے دورانیے اور جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد کے مقابلے میں ناشتہ کرنے والے افراد اپنی فرسٹریشن اور جذبات کو بہتر انداز میں کنٹرول کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ صرف ناشتہ ہی کافی نہیں بلکہ روزانہ کم از کم بیس منٹ کی جسمانی ورزش بھی نفسیاتی لچک کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، جو افراد رات کو چھ گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں، ان کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال صحت پر منفی اثرات ڈالتا ہے اور نفسیاتی لچک کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی اپنانے سے نہ صرف تناؤ کم ہوتا ہے بلکہ درمیانی عمر میں فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جولائی 2026 میں ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی ناشتے کو دن کی اہم ترین غذا قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں ایک سو اٹھائیس نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ناشتہ دن بھر کی غذائی عادات پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے دوران شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے کچھ کو ناشتہ نہیں کرایا گیا جبکہ کچھ کو پندرہ اور تیس گرام پروٹین پر مشتمل ناشتہ دیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ناشتہ کرنے والے افراد دن بھر میں فائبر، آئرن، زنک اور کولین جیسے اہم غذائی اجزاء زیادہ مقدار میں حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناشتہ کرنے والے افراد دن بھر میں چینی سے بنی اشیاء کا استعمال بھی کم کرتے ہیں، جو کہ مجموعی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کے برعکس، ناشتہ نہ کرنے والے افراد اکثر غیر صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں، جس سے ان کے جسم کو ضروری غذائی اجزاء نہیں مل پاتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروٹین سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ دن بھر میں دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ آئرن اور کولین حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ غذائی توازن انسان کو دن بھر توانا رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جبکہ اس کی تفصیلات جرنل آف امریکن کالج ہیلتھ میں بھی شائع کی گئی ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ناشتہ صحت مند زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے متوازن ناشتے کے ساتھ ساتھ مناسب نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا چاہیے۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں طویل مدتی بنیادوں پر انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1885/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
