<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طبی_ماہرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b7%d8%a8%db%8c_%d9%85%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 05 Nov 2026 04:45:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>طبی_ماہرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/5049/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/5049/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 05 Nov 2026 04:45:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹزم]]></category>
		<category><![CDATA[اعصابی_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[اعصابی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریاں]]></category>
		<category><![CDATA[پارکنسنز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈوپامین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/5049/</guid>

					<description><![CDATA[ایک نئی طبی تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آٹزم کے مریضوں میں پارکنسنز کی علامات ظاہر ہونے کا امکان عام افراد کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں درمیانی اور اس سے زائد عمر کے افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی محققین نے 45 سال اور اس سے زائد عمر کے 5 کروڑ 70 لاکھ افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آٹزم کے شکار بالغ افراد میں پارکنسنز کی علامات ظاہر ہونے کی شرح ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھی جنہیں اعصابی نشوونما سے متعلق یہ عارضہ لاحق نہیں تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم کے مطابق آٹزم کے شکار تقریباً 4 فیصد افراد میں ہاتھوں میں کپکپی، پٹھوں میں اکڑاؤ اور یادداشت و سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی جیسی علامات دیکھی گئیں۔ اس کے برعکس دیگر افراد میں یہ شرح صرف 1.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈوپامین دماغ میں حرکات، تحریک اور رویوں کو منظم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پارکنسنز کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب دماغ میں ڈوپامین پیدا کرنے والے خلیات کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جبکہ آٹزم کے شکار افراد کا دماغ بھی ڈوپامین کو مختلف انداز میں پراسیس کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آٹزم کے مریضوں میں پارکنسنز کی علامات محض جسمانی ہم آہنگی کی مشکلات کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اگرچہ آٹزم کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی کچھ ادویات کے مضر اثرات بھی پارکنسنز جیسی علامات پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ادویات کے اثرات کو مدنظر رکھنے کے باوجود خطرے کی شرح نمایاں طور پر زیادہ رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق پارکنسنز کا مرض مریض کی خود مختار زندگی گزارنے کی صلاحیت کو بتدریج ختم کر دیتا ہے۔ فی الحال اس مرض کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں ہے، تاہم سائنس دانوں کو امید ہے کہ نئی نسل کی ادویات کی تیاری سے اس بیماری کے علاج میں بڑی پیش رفت متوقع ہے جو آئندہ تین برسوں میں دستیاب ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/5049/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مائیکرو ڈوزنگ: کیا وزن کم کرنے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینا محفوظ ہے؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1098/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1098/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:18:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[اوزیمپک]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[ذیابیطس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88-%da%88%d9%88%d8%b2%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%88%d8%b2%d9%86-%da%a9%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اوزیمپک اور ویگووی جیسے انجیکشنز کی بہت کم مقدار لینے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم طبی ماہرین نے اسے خطرہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر وزن میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جسے مائیکرو ڈوزنگ کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت اوزیمپک، ویگووی اور مونجارو جیسی ادویات کی تجویز کردہ مقدار سے کہیں کم خوراک استعمال کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس طریقے کے حق میں سائنسی شواہد تاحال انتہائی محدود ہیں۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ کم مقدار لینے سے انہیں متلی اور قے جیسے مضر اثرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم طبّی محققین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے خود ساختہ طریقوں کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ممالک میں ان ادویات کا استعمال بنیادی طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس اور مخصوص بی ایم آئی والے افراد کے لیے منظور شدہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس نوعیت کی جی ایل پی ون ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ادویات جسم میں قدرتی ہارمون کی نقل کرتے ہوئے بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں کیے گئے حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ان انجیکشنز کے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے ایک قابل ذکر تناسب ایسے افراد کا ہے جو کسی ماہرِ طب کے مشورے کے بغیر مائیکرو ڈوزنگ کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کا کہنا ہے کہ وہ مالی بچت اور خوراک سے متعلق مسلسل خیالات کو کم کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ وہ انجیکشن پین کے کلکس گن کر یا آن لائن گائیڈز کی مدد سے خوراک کا تعین کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین اس عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقدار کے غلط حساب سے زیادہ خوراک لینے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید قسم کی متلی، قے اور جسم میں پانی کی شدید کمی جیسی شکایات لاحق ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ایک اور اہم تشویش ادویات میں آلودگی اور انفیکشن کا خطرہ ہے۔ جب ایک بار استعمال ہونے والی شیشیوں سے بار بار خوراک نکالی جائے تو جراثیم داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق ادویات ساز ادارے نووو نورڈِسک اور ایلی للی بھی اس طرح کے طریقۂ استعمال کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ ادویات کو ہمیشہ منظور شدہ طبی ہدایات کے مطابق ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ اور امریکہ کے صحت کے نگران ادارے اس نوعیت کی ادویات اور لبلبے کی سوزش کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ محققین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کم مقدار لینے سے ان طبی خطرات میں کوئی کمی آتی ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر یہ عمل کسی مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے تو بعض مریضوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس سے دوائی کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور ضمنی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم طبی ماہرین زور دیتے ہیں کہ خود ساختہ مائیکرو ڈوزنگ اور ڈاکٹر کی نگرانی میں کی جانے والی خوراک کی ایڈجسٹمنٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے مزید وسیع پیمانے پر سائنسی تحقیقات کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ہونے والے طبی مطالعات ہی یہ واضح کر سکیں گے کہ مائیکرو ڈوزنگ کے طویل مدتی اثرات کیا ہیں۔ اس وقت تک ماہرین کا مشورہ ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1098/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
