<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طبی_خدمات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b7%d8%a8%db%8c_%d8%ae%d8%af%d9%85%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 22 Oct 2026 02:17:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>طبی_خدمات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتیں ختم، کنٹریکٹ سسٹم نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1779/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1779/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:17:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_سروس_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیچنگ_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%b9%db%8c%da%86%d9%86%da%af-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرارز کی بھرتی اب پبلک سروس کمیشن کے بجائے تین سالہ کنٹریکٹ پر کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبہ پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لیے مستقل ملازمت کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق اب سینئر رجسٹرارز کی بھرتیاں مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی تبدیلی کے تحت میڈیسن، سرجری اور دیگر اہم طبی شعبوں میں سینئر رجسٹرارز کو تین سالہ معاہدے کے تحت تعینات کیا جائے گا۔ اس سے قبل یہ بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل بنیادوں پر عمل میں لائی جاتی تھیں جو اب ختم کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق سرکاری شعبہ صحت میں افسر شاہی کی جانب سے ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتوں کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل ملازمتوں کے خاتمے سے نوجوان ڈاکٹرز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مستقل ملازمت کا تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے ماہر ڈاکٹرز اب سرکاری ہسپتالوں کے بجائے نجی شعبے یا بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کے مطابق ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرارز کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ڈاکٹرز نہ صرف مریضوں کے علاج میں مصروف ہوتے ہیں بلکہ جونیئر ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کی تربیت بھی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پالیسی تبدیلی کے بعد ہسپتالوں میں طبی خدمات کے تسلسل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تین سالہ کنٹریکٹ کی وجہ سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کا مستقل قیام ممکن نہیں رہے گا جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے حکام کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور طبی خدمات میں لچک پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم ڈاکٹرز تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے طبی معیار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے خاتمے سے یہ بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ تجربہ کار ڈاکٹرز کنٹریکٹ کی غیر یقینی صورتحال میں سرکاری ملازمت جاری رکھنے سے گریز کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیچنگ ہسپتالوں میں تعینات ہونے والے سینئر رجسٹرارز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بھی نئے طریقہ کار وضع کیے جا رہے ہیں۔ کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے پر ان کی ملازمت میں توسیع کا انحصار ان کی کارکردگی اور ہسپتال انتظامیہ کی رپورٹ پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد اب سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی تنظیمیں اس معاملے پر حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ طبی شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس پالیسی کے نفاذ کے بعد اب دیگر طبی کیڈرز میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ تاہم فی الحال سینئر رجسٹرارز کی سطح پر اس تبدیلی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس پالیسی کے اثرات کا اندازہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی اور طبی معیار کے جائزے سے ہی لگایا جا سکے گا۔ فی الحال طبی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اسے ڈاکٹرز کے حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر اس معاملے پر مزید وضاحت کا انتظار ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز کو دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات حاصل ہوں گی یا انہیں صرف تنخواہ پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1779/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کیلئے تمغے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:17:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[تمغہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضیہ_نورین]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرض_شناسی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</guid>

					<description><![CDATA[نرسری میں زیر علاج نوزائیدہ بچے کی بروقت طبی امداد سے جان بچانے پر نرس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی نرسری میں زیر علاج ایک نوزائیدہ بچے کی جان بچا کر انسانیت کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق نرسری میں موجود ایک شیر خوار بچے کی حالت اچانک تشویشناک ہو گئی تھی، جس پر وہاں موجود نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔ ان کی بروقت مداخلت اور درست طبی اقدامات کے باعث بچے کی سانسیں بحال ہوئیں اور اسے نئی زندگی ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں نرس کو انتہائی مستعدی کے ساتھ بچے کو بچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے نرس کی اس جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بے حد سراہا ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرس رضیہ نورین کی اس قابل ستائش کارکردگی کے پیش نظر اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے لیے تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ محکمہ صحت کے دیگر عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا تاکہ وہ اپنے فرائض مزید تندہی سے سرانجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، تاہم رضیہ نورین جیسے افراد اپنی محنت سے اس شعبے کا وقار بلند کرتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین نرس قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز ہسپتال وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں کام کرنے والا عملہ انتہائی دباؤ میں ہوتا ہے، جہاں ایک لمحے کی غفلت بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین نے ثابت کیا ہے کہ اگر نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد خلوص نیت سے اپنے فرائض انجام دیں تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ رضیہ نورین کی یہ مثال دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسنگ کا پیشہ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام ہے، جس میں جذبہ ہمدردی اور صبر و تحمل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس طرح بحرانی کیفیت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا، وہ نرسنگ کے شعبے کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے قابل اور فرض شناس افراد موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں رضیہ نورین کو ان کی شاندار کارکردگی پر تمغہ دیا جائے گا۔ اس تقریب میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کے نمائندے شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں بھی اسی طرح کے واقعات کو سراہا جائے گا تاکہ طبی عملے کا مورال بلند رہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، رضیہ نورین کی یہ کاوش نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام میں مزید برکت عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
