<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طبی_تحقیق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b7%d8%a8%db%8c_%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 02:43:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>طبی_تحقیق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دماغی سرطان کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی تجرباتی تکنیک تیار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/4623/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/4623/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 02:43:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الٹراساؤنڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_سرطان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_پیشرفت]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینسر_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[گلیوبلاسٹوما]]></category>
		<category><![CDATA[نینو_پارٹیکلز]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی_آف_ورجینیا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%af%d9%85%d8%a7%d8%ba%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%be%db%8c%d8%b4%d8%b1%d9%81%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی سائنس دانوں نے نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ کی مدد سے گلیوبلاسٹوما کے علاج کا نیا طریقہ وضع کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی سائنس دانوں نے دماغ کے خطرناک ترین سرطان &#039;گلیوبلاسٹوما&#039; کے علاج کے لیے ایک نئی اور امید افزا تجرباتی تکنیک تیار کر لی ہے، جس سے مستقبل میں کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف ورجینیا کے کمپریہینسیو کینسر سینٹر کے محققین نے اس جدید طریقہ کار کو تیار کرنے کے لیے خصوصی جینیاتی مالیکیولز، نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ کا مربوط استعمال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق دماغی سرطان کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ دماغ کی قدرتی حفاظتی رکاوٹ ہوتی ہے، جسے عبور کرنا ادویات کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی تحقیق کے مطابق یہ جدید تکنیک دماغ کی اس حفاظتی رکاوٹ کو عارضی طور پر عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے علاج کو براہ راست سرطان زدہ خلیوں تک پہنچانا ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقی ٹیم کے سربراہ راجر ایبونیڈر نے اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار بیک وقت سرطان کی افزائش میں کردار ادا کرنے والے متعدد جینیاتی عوامل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد کینسر کے خلیوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے تاکہ بیماری کے دوبارہ پلٹنے کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس تحقیق کو مستقبل میں کلینیکل ٹرائلز تک پہنچایا جائے گا، جس سے گلیوبلاسٹوما اور دماغی رسولیوں کے دیگر مریضوں کے علاج کے لیے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو یہ طبی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جائے گی کیونکہ گلیوبلاسٹوما کو اب تک کے مشکل ترین دماغی امراض میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم محققین نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ یہ طریقہ تاحال ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے اور انسانی مریضوں پر اس کی حتمی افادیت اور حفاظت ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قسم کی تحقیق سے کینسر کے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے، خاص طور پر ان کیسز میں جہاں روایتی علاج کے اثرات محدود ہو جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہرین اب اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اسے کلینیکل سطح پر ٹیسٹ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والے وقت میں اس تحقیق کے نتائج سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ تکنیک انسانی جسم میں کس حد تک مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/4623/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دل کی دھڑکن کی بحالی کا ٹیسٹ: صحت اور طویل عمری کا راز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1970/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1970/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_دھڑکن]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طویل_عمر]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%af%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%da%91%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کے بعد دل کی دھڑکن جتنی تیزی سے معمول پر آئے، قلبی صحت اتنی ہی بہتر ہوتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسانی جسم میں صحت مند طرزِ زندگی اور جسمانی فٹنس کو جانچنے کے لیے متعدد طریقے اور پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں اب ایک ایسا سادہ ٹیسٹ بھی سامنے آیا ہے جو دل کی کارکردگی اور مجموعی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ورزش کے دوران جسم کا ردعمل ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ورزش ختم ہونے کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلدی معمول پر آتی ہے، یہ صحت کا ایک بنیادی اشارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیسٹ کو دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کہا جاتا ہے، جس سے مراد ورزش کے دوران دل کی بلند رفتار اور ورزش روکنے کے ایک منٹ بعد دل کی دھڑکن کے درمیان پایا جانے والا فرق ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ رفتار دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا تعین کرتی ہے اور اس سے بلند فشارِ خون سمیت دل کی دیگر بیماریوں کے خطرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کی بحالی کا یہ عمل صرف قلبی امراض تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج جسم میں موجود دیگر پوشیدہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق اس ٹیسٹ کا غیر تسلی بخش نتیجہ مجموعی طور پر قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافے کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس حوالے سے اہم ترین تحقیق سنہ 1999 میں امریکی ریاست اوہائیو کے کل یو لینڈ کلینک کے ماہرین نے کی تھی۔ اس چھ سالہ طویل تحقیق میں تقریباً چوبیس سو بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تاکہ دل کی دھڑکن اور صحت کے خطرات کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مطالعے کے دوران یہ اہم ترین حقیقت سامنے آئی کہ جن افراد کے دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول کی حالت میں واپس آنے میں زیادہ وقت لیتی تھی، ان میں موت کا خطرہ دیگر عام افراد کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ پایا گیا۔ بعد ازاں دنیا بھر میں ہونے والی دیگر طبی تحقیقات نے بھی ان نتائج کی بھرپور تصدیق کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گھر پر عام اشیا کی مدد سے اس ٹیسٹ کو انجام دینے کا ایک آسان طریقہ موجود ہے، البتہ کوئی بھی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو طبی نگرانی کے بغیر اس نوعیت کا کوئی بھی ٹیسٹ خود کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرنے کے لیے وقت نوٹ کرنے کا کوئی ذریعہ یا موبائل فون کا ٹائمر درکار ہوتا ہے، جبکہ سمارٹ واچ یا فٹنس ٹریکر بھی اس مقصد کے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی عمر کی مدد سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ دل کی دھڑکن کا اندازہ لگایا جاتا ہے، جس کا عام طریقہ یہ ہے کہ دو سو بیس میں سے اپنی عمر کو تفریق کر دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد ایسی جسمانی سرگرمی یا ورزش کی جاتی ہے جس سے دل کی دھڑکن اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ستر سے پچاسی فیصد تک پہنچ جائے۔ اس مقصد کے لیے دوڑنا، سائیکل چلانا یا روئنگ مشین کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کا انحصار فرد کی اپنی جسمانی استعداد پر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش ختم ہوتے ہی جب دل کی رفتار بلند سطح پر ہو تو اپنی نبض چیک کی جاتی ہے، اور اگر سمارٹ واچ نہ ہو تو گردن پر انگلی رکھ کر دس سیکنڈ تک دھڑکنیں گن کر اسے چھ سے ضرب دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک منٹ تک آرام کرنے کے بعد دوبارہ نبض چیک کی جاتی ہے اور پہلی تعداد میں سے دوسری کو تفریق کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اگر ورزش کے پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کم از کم اٹھارہ دھڑکنیں کم ہو جائے تو اسے ایک اچھا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ کمی بارہ دھڑکنوں سے کم ہو تو یہ مستقبل میں صحت کے بعض ممکنہ مسائل یا خطرات کی علامت ہوسکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دل کی دھڑکن کے جلد معمول پر آنے اور صحت کے درمیان تعلق کی ایک بڑی وجہ ویگس اعصاب کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب دماغ کو دل، جگر اور آنتوں سمیت جسم کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور دباؤ یا سکون کی حالت کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورزش کے دوران جسم کا ایک نظام ایکسیلیریٹر کی طرح کام کرتے ہوئے دل کی دھڑکن کو تیز کرتا ہے اور خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے۔ ورزش مکمل ہونے کے بعد جسم کا دوسرا نظام بریک کا کردار ادا کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو دوبارہ آرام دہ اور معمول کی حالت میں لے آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیسے جیسے کسی شخص کی جسمانی فٹنس بہتر ہوتی جاتی ہے، اس کا جسم ان دونوں نظاموں کے درمیان زیادہ مؤثر طریقے سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس صلاحیت کو بلند وی گل ٹون کہا جاتا ہے جو کہ بہتر ذہنی کارکردگی اور طویل صحت مند زندگی سے جڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی شخص کو اپنے دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کے حوالے سے کوئی تشویش ہو تو ماہرین اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کے ذریعے اس رفتار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور صحت کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1970/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ناشتہ کرنے کے حیرت انگیز طبی فوائد سامنے آ گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1885/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1885/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 23:19:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پروٹین]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_دباؤ]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[طرز_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%86%d8%a7%d8%b4%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ناشتہ کرنے والے افراد ذہنی دباؤ اور تناؤ کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دن کا آغاز ایک متوازن ناشتے سے کرنا انسانی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد روزانہ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ تناؤ اور ذہنی دباؤ پر زیادہ بہتر طریقے سے قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی بینگہمٹن یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق میں نفسیاتی لچک کو صحت مند طرز زندگی کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ نفسیاتی لچک سے مراد انسان کی وہ دماغی صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ پر تناؤ حالات کے دوران خود کو سنبھالنے اور جلد بحال ہونے میں کامیاب رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق، جو افراد ہفتے میں کم از کم پانچ بار ناشتہ کرتے ہیں، ان میں نفسیاتی لچک کا تناسب ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جو ناشتہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت انسان کو جذباتی طور پر مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق میں چار سو افراد کو شامل کیا گیا جن کی غذائی عادات، نیند کے دورانیے اور جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد کے مقابلے میں ناشتہ کرنے والے افراد اپنی فرسٹریشن اور جذبات کو بہتر انداز میں کنٹرول کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ صرف ناشتہ ہی کافی نہیں بلکہ روزانہ کم از کم بیس منٹ کی جسمانی ورزش بھی نفسیاتی لچک کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، جو افراد رات کو چھ گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں، ان کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال صحت پر منفی اثرات ڈالتا ہے اور نفسیاتی لچک کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی اپنانے سے نہ صرف تناؤ کم ہوتا ہے بلکہ درمیانی عمر میں فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جولائی 2026 میں ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی ناشتے کو دن کی اہم ترین غذا قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں ایک سو اٹھائیس نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ناشتہ دن بھر کی غذائی عادات پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے دوران شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے کچھ کو ناشتہ نہیں کرایا گیا جبکہ کچھ کو پندرہ اور تیس گرام پروٹین پر مشتمل ناشتہ دیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ناشتہ کرنے والے افراد دن بھر میں فائبر، آئرن، زنک اور کولین جیسے اہم غذائی اجزاء زیادہ مقدار میں حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناشتہ کرنے والے افراد دن بھر میں چینی سے بنی اشیاء کا استعمال بھی کم کرتے ہیں، جو کہ مجموعی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کے برعکس، ناشتہ نہ کرنے والے افراد اکثر غیر صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں، جس سے ان کے جسم کو ضروری غذائی اجزاء نہیں مل پاتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروٹین سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ دن بھر میں دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ آئرن اور کولین حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ غذائی توازن انسان کو دن بھر توانا رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جبکہ اس کی تفصیلات جرنل آف امریکن کالج ہیلتھ میں بھی شائع کی گئی ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ناشتہ صحت مند زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے متوازن ناشتے کے ساتھ ساتھ مناسب نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا چاہیے۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں طویل مدتی بنیادوں پر انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1885/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1328/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1328/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 18:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الٹرا_پراسیسڈ_غذائیں]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریوں_سے_بچاؤ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d9%84%d9%b9%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی اجزاء سے بھرپور غذاؤں کا کثرت سے استعمال دماغی نقصان اور فالج کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جدید دور میں ہماری غذائی عادات میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق نے ان غذاؤں کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میک ماسٹر یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی جانب سے کی گئی یہ تحقیق طبی جریدے &#039;جاما نیٹ ورک اوپن&#039; میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد پراسیس شدہ غذاؤں اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد اپنی روزمرہ خوراک میں الٹرا پراسیسڈ اشیاء کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ میں ایسے نقصانات کی علامات ظاہر ہونے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے جو فالج کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں میں ایسے کیمیائی اجزاء اور مصنوعی مٹھاس شامل ہوتی ہے جو عام طور پر گھروں میں کھانا پکانے کے دوران استعمال نہیں کی جاتی۔ یہ اجزاء طویل مدتی بنیادوں پر جسمانی اور دماغی افعال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان غذاؤں کی فہرست میں سافٹ ڈرنکس، چپس، کوکیز، کریکرز اور ٹافیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈبوں میں بند میکرونی، پنیر، منجمد تیار شدہ کھانے، فوری استعمال کے لیے دستیاب اشیاء اور پراسیس شدہ گوشت بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان اشیاء کا کثرت سے استعمال نہ صرف وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ قلبی اور دماغی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی کے لیے قدرتی غذاؤں کا انتخاب ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں شامل صحت مند افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ غذا میں موجود مصنوعی کیمیکلز اعصابی نظام اور دماغی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ اثرات وقت کے ساتھ ساتھ فالج جیسے جان لیوا مرض کی راہ ہموار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرز زندگی میں سہولت کی تلاش میں ہم غیر صحت بخش غذاؤں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ گھر میں تیار کردہ تازہ اور متوازن غذا کا استعمال ہی ایسی بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق کی اشاعت کے بعد طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی خوراک میں پھلوں، سبزیوں اور قدرتی اجزاء کو شامل کریں۔ پراسیس شدہ اشیاء کے استعمال میں کمی لانا طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات پر دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہماری غذا کا براہ راست تعلق ہماری ذہنی اور جسمانی کارکردگی سے ہے، جسے نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فالج اور دیگر دائمی امراض کے پیچھے ناقص غذائی عادات ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہیں تاکہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کون سے مخصوص اجزاء دماغی نقصان میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال، احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غذائی عادات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ مصنوعی اور پراسیس شدہ غذاؤں سے دوری اختیار کر کے ہم نہ صرف فالج بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1328/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پستے کھانے کے طبی فوائد، پرسکون نیند کے حصول میں مددگار قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1033/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1033/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 00:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پستے]]></category>
		<category><![CDATA[خشک_میوہ_جات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈائٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_تندرستی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d8%b3%d8%aa%db%92-%da%a9%da%be%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d9%be%d8%b1%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%86-%d9%86%db%8c%d9%86%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پستوں کا استعمال انسانی جسم میں نیند کے معیار کو بہتر بنانے والے ہارمونز کو متحرک کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پستے نہ صرف اپنے منفرد ذائقے اور خوبصورت رنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا باقاعدہ استعمال رات کو پرسکون نیند لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق میں ماہرین نے پستوں کے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق پستے ٹرپٹوفان، فائٹومیلاٹونین اور دیگر اہم اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ پستوں میں موجود میگنیشم اور وٹامن بی 6 جیسے اجزا جسم میں ٹرپٹوفان کو سیروٹونین اور میلاٹونین میں تبدیل کرنے کا عمل تیز کرتے ہیں۔ میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو قدرتی طور پر نیند لانے کے لیے انسانی جسم میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پستے جسم کے ان حیاتیاتی افعال کو متحرک کرتے ہیں جو نیند کے نظام سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ تحقیق میں پستوں کی مخصوص مقدار کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم ان کا استعمال مجموعی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پستوں کی غذائی افادیت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ 28 گرام پستے کھانے سے جسم کو تقریباً 159 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں 6 گرام پروٹین، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس اور 3 گرام فائبر کی مقدار بھی شامل ہوتی ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گری میں پائے جانے والے دیگر اہم اجزا میں پوٹاشیم، فاسفورس، کاپر اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ تمام معدنیات انسانی جسم کے مختلف اعضاء کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور انہیں توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے جسمانی کمزوری دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پستوں میں موجود وٹامن بی 6 کی اہمیت بھی مسلمہ ہے، جو جسمانی افعال کو درست رکھنے کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون کی گردش اور اعصابی نظام کی بہتری کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا میں پستوں کو شامل کرنا ایک بہترین انتخاب ہے۔ یہ نہ صرف دل کی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ ان میں موجود چکنائی اور دیگر غذائی اجزا جسمانی ورم میں کمی لانے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج &#039;جرنل نیوٹریشن ریسرچ ریویوز&#039; میں شائع ہوئے ہیں، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قدرتی غذاؤں کا استعمال مصنوعی سپلیمنٹس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ پستے کا استعمال انسان کو صحت مند اور فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق تنہائی اور سماجی دوری صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جبکہ صحت بخش غذاؤں کا استعمال ذہنی سکون اور جسمانی تندرستی کا باعث بنتا ہے۔ پستے کا استعمال ان افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو نیند کی کمی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پستے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اسے دنیا بھر میں ایک بہترین خشک میوہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی ماہرین اسے روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پستے کھانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعی صحت کو ہی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخروٹ کا استعمال بھی جسمانی ورم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلاصہ یہ کہ پستے محض ایک ذائقہ دار گری نہیں بلکہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں جو انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا متوازن استعمال نہ صرف نیند کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسمانی قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1033/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
