<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>صوبائی_حکومت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b5%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c_%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>صوبائی_حکومت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب بھر میں گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن، 445 افراد گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:38:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[پرائس_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روٹی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[روزمرہ_استعمال]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام_دوست_اقدام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d8%b1%d8%a7%da%ba-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b4%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ فوڈ سیفٹی کی کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے جرمانے عائد اور متعدد کاروباری مقامات سیل کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب کے عوام دوست ویژن کے تحت محکمہ فوڈ سیفٹی نے صوبہ بھر میں گراں فروشی اور اشیائے ضروریہ کی زائد قیمتوں پر فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء مقررہ نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانا اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی عمل عمل میں لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکرٹری فوڈ سیفٹی کے جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی چار لاکھ سینتیس ہزار تین سو سترہ انسپکشنز کی گئیں۔ اس وسیع تر معائنے کے دوران دکانداروں کی جانب سے مقررہ کردہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے کے انیس ہزار نو سو دو واقعات سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے گراں فروشی میں ملوث عناصر پر ایک کروڑ چھ لاکھ ستائیس ہزار تین سو روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے۔ اس کے علاوہ دکانوں پر نمایاں مقامات پر سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے والے دو ہزار ایک سو اڑسٹھ مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوور چارجنگ اور دیگر متعلقہ قانونی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینتالیس مقدمات درج کیے اور مجموعی طور پر چار سو پینتالیس افراد کو موقع پر یا بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ عوام کے استحصال میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روزمرہ خوراک کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی کی فروخت میں بھی گراں فروشی کے چار ہزار چھ سو انسٹھ واقعات رپورٹ کیے گئے۔ مقررہ قیمت سے زیادہ دام پر روٹی فروخت کرنے والوں پر پانچ لاکھ باون ہزار پانچ سو روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تاکہ غریب طبقے کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمتوں اور معیار کو جانچنے کے لیے صوبہ بھر میں اٹھارہ ہزار سات سو چوہتر انسپکشنز عمل میں لائی گئیں تاکہ گوشت کی فروخت میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا سختی سے سدباب کیا جا سکے۔ ان میں زائد قیمت پر گوشت فروخت کرنے کی ایک ہزار چار سو اٹھارہ خلاف ورزیاں پکڑی گئیں جن پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مرغی کے گوشت کی اوور چارجنگ پر چار لاکھ چورانوے ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے۔ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر چھپن افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ انیس کاروباری مقامات اور دکانوں کو سیل کر دیا گیا تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ فوڈ سیفٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی تعطل کے بغیر جاری رہیں گی تاکہ رمضان اور دیگر ایام سمیت پورے سال عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ شہریوں سے بھی مسلسل اپیل کی گئی ہے کہ وہ گراں فروشی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اشیائے خورونوش کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے اور ناجائز منافع کمانے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس ضمن میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو خصوصی اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار رہے ہیں اور دکانوں کے نرخ ناموں کا انہی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عوام نے محکمہ فوڈ سیفٹی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مہنگائی کے اس دور میں ایک مثبت اور قابل تحسین قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں ضلعی انتظامیہ نے پرائس مجسٹریٹس کو متحرک کر رکھا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی اوور چارجنگ سے بچایا جا سکے۔ حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی غریب عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشیائے ضروریہ کے معیار اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس مہم کے دوران تمام اضلاع کی مارکیٹوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر قیمتوں کے استحکام کے لیے مزید موثر لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس ایک ہفتے کے دوران کی گئی کارروائیوں سے بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد بہتر ہوا ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ صوبے میں گراں فروشی کے رجحان کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا اور قانون شکن عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1639/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1639/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 02:37:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[800_ارب_روپے]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آڈٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[ثمر_ہارون_بلور]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کے_خلاف_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی حکومت نے وفاق اور دیگر ذرائع سے ملنے والی خطیر رقم کے درست استعمال کی جانچ پڑتال کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر صوبے کو ملنے والے 800 ارب روپے کے فنڈز کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ بھاری رقم کن منصوبوں اور کن مقاصد کے لیے خرچ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو ملنے والی یہ خطیر رقم کوئی معمولی حیثیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو یہ جاننے کا مکمل حق حاصل ہے کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان فنڈز کے استعمال کی مکمل چھان بین کی جائے گی تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آیا یہ رقم واقعی امن و امان کی بحالی اور قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوئی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بہتری کے لیے ملنے والی امداد اور وفاقی گرانٹس کا درست استعمال صوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس آڈٹ کے بعد فنڈز کے استعمال کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط کو بحال کرنا ہے۔ شفافیت کا یہ عمل صوبائی خزانے کی حفاظت اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو صوبے میں گڈ گورننس کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آڈٹ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد فنڈز کے درست استعمال کے بارے میں تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا فنڈز کے غلط استعمال کے شواہد ملے تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قبائلی اضلاع کے عوام نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان علاقوں کی ترقی کے لیے مختص رقم اب صحیح معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگی۔ شفافیت کا یہ مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے مالیاتی شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے صوبے کے مالیاتی نظام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ عوام کے پیسے کو صرف عوامی مفاد کے منصوبوں پر ہی خرچ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1639/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1268/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1268/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:37:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آڈٹ_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_ڈبلیو_او]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معدنیات]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بیانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مائننگ_لائسنس]]></category>
		<category><![CDATA[معدنی_ذخائر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%da%af-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d8%b3%d9%86%d8%b3%d8%b2/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں معدنیات کے شعبے اور جاری لائسنسز کے حوالے سے حقائق اور اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے اور مائننگ لائسنسوں کے اجرا کے حوالے سے اہم ترین حقائق اور اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں جن سے متعدد امور پر روشنی پڑتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں معدنی وسائل کے انتظام اور لائسنسوں کی تقسیم کے معاملے پر مختلف نوعیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی آزادی سے لے کر سال دو ہزار دس تک پورے خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر صرف چار سو بیاسی مائننگ لائسنس جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد کے برسوں میں لائسنسوں کے اجرا میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پی ٹی آئی کی مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران یہ تعداد دو ہزار بیس تک بڑھ کر ایک ہزار سات سو باسٹھ تک پہنچ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید اعداد و شمار کے مطابق فروری دو ہزار چوبیس تک ان لائسنسوں کی تعداد بڑھ کر تین ہزار نو سو باسٹھ ہو گئی جو کہ اب بڑھ کر چار ہزار نو سو سترہ تک جا پہنچی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ لائسنس کسی وفاقی ادارے کی بجائے خود صوبائی حکومتوں کے دور میں جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معدنیات کے شعبے کے حوالے سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ عسکری ادارے معدنیات پر مبینہ طور پر قبضہ کر رہے ہیں جسے ذمہ دار ذرائع نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقیقت یہ ہے کہ عسکری اداروں بالخصوص ایف ڈبلیو او کے پاس اس پورے عرصے میں صرف ایک لائسنس رہا ہے جو دو ہزار پندره میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ شمالی وزیرستان کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقے کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابقہ صوبائی حکومت کے دور میں منرل ڈیپارٹمنٹ میں سولہ ارب چورانوے کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کی وجہ سے صوبائی خزانے کو آٹھ ارب روپے کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا جو کہ ایک قابل ذکر رقم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابقہ صوبائی حکومت نادہندہ ٹھیکیداروں سے چار ارب اکتیس کروڑ روپے اور لیز ہولڈرز سے اکیاسی کروڑ روپے کے واجبات وصول کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ نااہلی اور مالی بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے اب بعض حلقوں کی طرف سے وفاق پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں سندھ کی تھر کول فیلڈ سرفہرست ہے جہاں کوئلے کے وسیع ذخائر ملک کی توانائی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب میں کھیوڑا نمک کی دنیا کی دوسری بڑی کان، چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر اور پوٹھوہار میں تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان اور گلگت بلتستان کے خطوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے قدرتی معدنی ذخائر سے مالا مال کیا ہے جہاں مختلف پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے مطابق معدنیات کی رائلٹی اور آمدن کا بڑا حصہ براہ راست متعلقہ صوبائی خزانے میں ہی جمع ہوتا ہے جس سے صوبے خود کفالت کی طرف بڑھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل کا مسودہ صوبائی محکموں نے مائننگ مافیا کے خاتمے اور ڈیجیٹل سسٹم کے نفاذ کے لیے خود تیار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1268/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ حکومت کا سرکاری ملازمین کا ریٹائرمنٹ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 10:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[جی_پی_فنڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹلائزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریٹائرمنٹ_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_امور]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کا ریٹائرمنٹ ریکارڈ آن لائن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ بروقت ادائیگیاں یقینی بنای جا سکیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری محکموں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے ریٹائرمنٹ کے امور کو مزید بہتر بنانے اور ان کے ریکارڈ کو شفاف اور محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تمام ملازمین کا ریٹائرمنٹ سے متعلق ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے آن لائن نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی اور واضح مقصد یہ ہے کہ ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے روز ہی تمام واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حوالے سے محکمہ کالج تعلیم سندھ نے باضابطہ طور پر اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کی تمام متعلقہ دفتری حلقوں میں توثیق کر دی گئی ہے۔ اس مراسلے کے اجراء سے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں میں ملازمین کے مالی امور کو نمٹانے کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ نیا نظام سابقہ روایتی اور سست رفتار دفتری کارروائی کو ختم کرنے میں اہم مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کالج تعلیم کے سیکریٹری ندیم الرحمان میمن کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے اس اہم مراسلے پر سیکشن افسر جنرل ایڈمنسٹریشن غلام مصطفی کے دستخط ثبت ہیں۔ اس حکومتی فیصلے کے بعد متعلقہ انتظامیہ نے فوری طور پر اس پر عملدرآمد کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ مدت کے اندر تمام ضروری کارروائی کو تکمیل تک پہنچایا جا سکے اور ملازمین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ احکامات کے مطابق تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کا ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ قبل کا تمام تر ریکارڈ متعلقہ دفاتر کو فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت کی پابندی کا مقصد یہ ہے کہ متعلقہ محکمے وقت مقررہ سے پہلے ہی تمام کاغذی کارروائی اور مالی حساب کتاب مکمل کر سکیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے دن کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ہدایات میں اس بات کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے کہ گریجویٹی اور جی پی فنڈ کے تمام مالی معاملات اور فائلیں مقررہ وقت کے اندر اندر مکمل کر کے حل کی جائیں۔ اس نئے آن لائن نظام کی وجہ سے اب کسی بھی فائل کو طویل عرصے تک روکے رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور تمام مراحل ڈیجیٹل نگرانی میں طے پائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فنڈز اور واجبات حاصل کرنے کے لیے طویل اور پیچیدہ دفتری مراحل سے گزرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اکثر غیر ضروری تاخیر ہو جاتی تھی۔ بعض اوقات ملازمین کو اپنی پنشن، گریجویٹی اور جی پی فنڈ کے حصول کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے وہ شدید ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا شکار ہوتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت کے اس نئے ڈیجیٹل اقدام سے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل اور موثر حل نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آن لائن نظام کے نفاذ سے تمام تر ریکارڈ محفوظ رہے گا اور دفتری امور میں شفافیت کو فروغ ملے گا، جس سے بدعنوانی یا تاخیری حربوں کی گنجائش بھی ختم ہو جائے گی اور سرکاری مشینری زیادہ فعال انداز میں کام کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کے اس پختہ قدم کا مقصد بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد کے مراحل میں بھرپور ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی جمع پونجی اور قانونی واجبات باآسانی اور وقت پر حاصل کر سکیں۔ اس سے ملازمین کا ریاست اور متعلقہ محکموں پر اعتماد بھی بحال ہوگا اور وہ اپنے فرائض زیادہ دل جمعی اور اطمینان سے انجام دے سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کالج تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے اس حکم نامے کے بعد صوبے کے دیگر تمام محکموں میں بھی اس طرح کے جدید اقدامات اٹھائے جانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل سختی سے عمل درآمد کریں اور اپنے ماتحت عملے کو بھی اس حوالے سے پوری طرح آگاہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیجیٹل منتقلی کے عمل کو عملی طور پر کامیاب بنانے کے لیے ماہر تکنیکی عملے کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ آن لائن سسٹم میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی کی صورت میں فوری طور پر اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ صوبائی سطح پر اس نظام کی کڑی اور مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ تمام امور احسن طریقے سے انجام پائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ صوبے کے ہر محکمے میں ملازمین کے ریکارڈ کی منتقلی کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہو۔ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل سرکاری دفاتر میں کاغذی کارروائی کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کریں۔ اس جامع نظام کے مکمل فعال ہونے کے بعد سندھ بھر کے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی ان کے مالی حقوق اور فنڈز ملنا شروع ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/860/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/860/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 16:57:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آڈٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_انصاف_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%88-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ایڈوائزری کونسل برائے صحت کی رکن لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے صحت انصاف کارڈ پروگرام کے شفاف آڈٹ اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایڈوائزری کونسل برائے صحت کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران صحت انصاف کارڈ پروگرام کے انتظامی اور مالیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے اس بات پر زور دیا کہ صحت انصاف کارڈ عوام کو طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے والا ایک انتہائی اہم اور فلاحی منصوبہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے مستفید ہونے والے شہریوں کو علاج کی سہولیات کی فراہمی کا تسلسل ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔ عوامی فلاح و بہبود کے اس پروگرام کی افادیت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں مالیاتی شفافیت اور جواب دہی کے امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے ہدایت کی کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام کا جامع آڈٹ کرایا جائے تاکہ مالیاتی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری فنڈز کا استعمال مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور شفاف احتساب کا نظام ناگزیر ہے تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ عوامی وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کا استعمال ذمہ داری، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کے تحت کیا جانا چاہیے۔ صحت انصاف کارڈ جیسے عوامی فلاحی منصوبے کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پروگرام کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت انصاف کارڈ پروگرام خیبرپختونخوا کے شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے جس کے ذریعے غریب اور مستحق افراد نجی و سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروا سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو صحت کی مفت سہولیات میسر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا مقصد علاج معالجے کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ شفافیت کے نئے معیارات کے بعد پروگرام کی کارکردگی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں پروگرام کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت انصاف کارڈ کے ذریعے عوام کو علاج کی سہولیات کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آنے دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام کو ایک شفاف اور فعال نظام کے طور پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ صوبے کے ہر شہری کو علاج کی معیاری سہولیات تک رسائی حاصل رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/860/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں میں تعینات 300 قانونی مشیر نوکری سے فارغ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/832/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/832/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 13:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_وزارت]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_مشیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی حکومت نے انتظامی امور میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تین سو سے زائد لا افسران کو نوکری سے ہٹا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف محکموں میں فرائض انجام دینے والے تمام قانونی مشیروں اور لا افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم انتظامی فیصلے کے بعد محکمہ قانون خیبر پختونخوا نے تمام متعلقہ محکموں کو باضابطہ طور پر مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں ان تمام افسران کی برطرفی سے متعلق تفصیلی احکامات درج کیے گئے ہیں تاکہ فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ قانون کی جانب سے جاری کردہ اس نئے حکم نامے کے نتیجے میں صوبے بھر کے مختلف سرکاری محکموں میں تعینات لگ بھگ تین سو قانونی مشیروں کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام افراد صوبائی حکومت کے مختلف محکموں میں قانونی امور، مقدمہ بازی، مشاورت اور عدالتوں میں حکومتی مؤقف پیش کرنے کے حساس فرائض سرانجام دے رہے تھے جنہیں اب ایک ساتھ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس اجتماعی برطرفی کے اسباب یا وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی سرکاری اعلامیہ سامنے نہیں آ سکا تاہم اس اقدام کو کے پی کے انتظامی و قانونی امور میں بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ قانون کی جانب سے بھیجے گئے اس مراسلے کے بعد متاثرہ قانونی مشیروں کی اکثریت اپنے عہدوں سے فارغ ہو چکی ہے اور انہیں مزید سرکاری امور کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے جو کہ انتظامی سطح پر ایک غیر معمولی قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے تمام سرکاری محکموں میں ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں قانونی عملے کی برطرفی کے بعد یہ اہم سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اب زیر التوا مقدمات اور نئے عدالتی امور کی انجام دہی کس طرح عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ صوبائی حکومت جلد ہی اس حوالے سے کوئی متبادل لائحہ عمل یا نیا طریقہ کار متعارف کروائے گی تاکہ عدالتوں میں چلنے والے حکومتی مقدمات اور قانونی امور کسی بھی طور پر متاثر نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں اس نوعیت کے بڑے انتظامی اقدامات ماضی میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن کا مقصد سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا یا پھر سیاسی و انتظامی بنیادوں پر نئی تقرریاں کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے بعد صوبے کے قانونی حلقوں اور وکلا برادری میں بھی مختلف چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور اس اقدام کے وسیع تر سیاسی و قانونی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطرف کیے جانے والے ان تمام قانونی مشیروں کو باضابطہ طور پر نوکری سے فارغ کرنے کے بعد محکمہ قانون کی طرف سے آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں مزید ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ان تمام لا افسران کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بھی تاحال کوئی حتمی خبر سامنے نہیں آ سکی ہے کیونکہ یہ اچانک ہونے والی برطرفیاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر اس فیصلے کے نفاذ کے ساتھ ہی متعلقہ محکموں کے سربراہان کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں قانونی امور کی انجام دہی کے لیے فوری طور پر متبادل انتظامات عمل میں لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام انتظامات اس لیے ضروری قرار دیے گئے ہیں تاکہ عدالتی کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/832/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
