<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>صدر_آصف_علی_زرداری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b5%d8%af%d8%b1_%d8%a2%d8%b5%d9%81_%d8%b9%d9%84%db%8c_%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 16:57:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>صدر_آصف_علی_زرداری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، صدر آصف علی زرداری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/446/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/446/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 16:57:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی_امن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت آصف علی زرداری سے مکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ملاقات کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اغراض و مقاصد اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زرداری نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی نئے بلاک کی تشکیل نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون کو مستحکم بنانا ہے۔ پاکستان خطے میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان اس طرح کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث بنیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود، جو ریاض میں قائم سہہ ملکی اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے، نے صدر مملکت کو معاہدے کی تفصیلات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ معاہدہ خطے کے ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں قریبی روابط استوار کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ مشترکہ سیکیورٹی خدشات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی تعاون کو فروغ دے کر خطے کو درپیش غیر روایتی سیکیورٹی خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق، یہ ملاقات پاکستان کے علاقائی دفاعی شراکت داری کے عزم کا اظہار ہے۔ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے قیام سے خطے میں ایک نیا دفاعی ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے اس معاہدے میں فعال کردار ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک علاقائی امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے دعا کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/446/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدر مملکت نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے بیرون ملک دوروں کی منظوری دے دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 22:16:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جاپان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کوریا]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_دورے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%85%d9%85%d9%84%da%a9%d8%aa-%d9%86%db%92-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورے پر دونوں اہم شخصیات کے لیے این او سی اور بیرونِ ملک رخصت کی منظوری جاری کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم پاکستان کے مشورے پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے بیرونِ ملک دوروں کے لیے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت وہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عدالتی امور اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیڈول کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان 14 اکتوبر سے 21 اکتوبر 2026 تک برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے دوسرے مرحلے کے دورے کے لیے 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک دوبارہ بیرونِ ملک قیام کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صدرِ مملکت نے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے دورہ آذربائیجان کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ دورہ علاقائی عدالتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان 19 اکتوبر سے 22 اکتوبر 2026 تک جمہوریہ آذربائیجان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں کی کانفرنس (TÜRK-AY) میں شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کانفرنس میں شرکت کے ذریعے پاکستان کی عدالتی نمائندگی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ کانفرنس میں مختلف ممالک کے آئینی ماہرین اور جج صاحبان شرکت کریں گے جو آئینی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان دوروں کی منظوری آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے ان دوروں کے لیے ضروری این او سی جاری کرنے کی ہدایات جاری کیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ دورے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان اپنی عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی عدالتی فورمز پر اپنی موجودگی کو فعال رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ بیرونِ ملک دوروں سے عدالتی نظام میں بہتری کے تجربات کے تبادلے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس آف پاکستان کے دوروں کا سلسلہ نومبر کے اوائل تک جاری رہے گا، جس کے بعد وہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آئیں گے۔ اس دوران عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے متعلقہ قوانین کے مطابق انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے پاکستان اور ترک دنیا کے ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کانفرنس آئینی عدالتوں کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوانِ صدر کے اعلامیے میں ان دوروں کے مقاصد کو واضح کیا گیا ہے تاکہ عوامی سطح پر ان کے بارے میں درست معلومات پہنچ سکیں۔ یہ دورے پاکستان کی سفارتی اور عدالتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے عدالتی سربراہان کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے عالمی برادری میں ملک کا وقار بلند ہوتا ہے۔ اس طرح کے دورے قانونی ماہرین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ حکام کو ان دوروں کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ دورے پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
