<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b5%d8%ad%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بارڈر_ہیلتھ_سروسز]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیو]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جناح_انٹرنیشنل_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سفری_ہدایات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمرہ_زائرین]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[گردن_توڑ_بخار]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ویکسی_نیشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/</guid>

					<description><![CDATA[بارڈر ہیلتھ سروسز نے جناح ٹرمینل پر 24 گھنٹے فعال ویکسی نیشن سینٹر قائم کر دیا جہاں مسافروں کو سفری تقاضوں کے مطابق ویکسین لگائی جا رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ویکسی نیشن کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام عارضی رعایت کی مدت ختم ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارڈر ہیلتھ سروسز کے زیر انتظام ایئرپورٹ پر ایک خصوصی انٹرنیشنل ٹریولر ویکسی نیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ سینٹر اسٹار گیٹ کے قریب سول ڈسپنسری میں واقع ہے اور مسافروں کو چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق عمرہ زائرین کے لیے گردن توڑ بخار اور پولیو کی ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح افریقہ اور شمالی امریکہ جانے والے مسافروں کے لیے یلو فیور سمیت دیگر متعلقہ ویکسینیشن کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل عمرہ زائرین کو ویکسی نیشن کے بغیر سفر کرنے کی عارضی رعایت دی گئی تھی جس کی مدت میں دس اکتوبر تک دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔ اب یہ رعایت ختم ہونے کے بعد تمام مسافروں کے لیے ویکسین لگوانا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارڈر ہیلتھ حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے تمام مسافروں کے لیے منزل اور ٹرانزٹ کے مطابق ویکسینیشن کروانا ضروری ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنے سرٹیفکیٹس کی تصدیق یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوکل پرسن بارڈر ہیلتھ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ویکسین کی دستیابی اور سرٹیفکیٹس کے فوری اجرا کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویکسی نیشن کے لیے مقررہ فیسوں کے مطابق گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کی ویکسین کی فیس دو ہزار سات سو پچاسی روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انفلوئنزا ویکسین کے لیے ایک ہزار سات سو بیس روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پولیو کے قطرے مسافروں کو مفت فراہم کیے جائیں گے۔ غیر ملکی شہریوں کو متعلقہ ہدایات کے تحت ان ویکسی نیشن کی شرائط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم پاکستانی مسافروں کے لیے یہ پابندی برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایئرپورٹ ہیلتھ قرنطینہ کے حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنے متعلقہ ممالک کے سفری تقاضوں کو اچھی طرح جانچ لیں۔ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی پروازوں پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ویکسی نیشن سینٹر نہ صرف عمرہ زائرین بلکہ دیگر ممالک کا رخ کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی ایک اہم سہولت ہے۔ اس مرکز کے قیام سے مسافروں کو شہر کے دیگر مراکز میں جانے کے بجائے ایئرپورٹ پر ہی ویکسین لگوانے کی سہولت میسر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ اقدامات بین الاقوامی صحت کے معیارات اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ بارڈر ہیلتھ سروسز کی ٹیمیں ایئرپورٹ پر الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی مسافر کو ویکسی نیشن کے حوالے سے دشواری نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پرواز کے وقت سے کافی پہلے ایئرپورٹ پہنچیں تاکہ ویکسی نیشن اور سرٹیفکیٹ کے حصول کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویکسی نیشن کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر بھی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہریوں کے لیے سفری دستاویزات کی تکمیل میں آسانی ہوگی۔ محکمہ صحت کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مسافروں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کیلئے تمغے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:17:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تمغہ]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضیہ_نورین]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرض_شناسی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[نرسنگ]]></category>
		<category><![CDATA[نوزائیدہ_بچہ]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</guid>

					<description><![CDATA[نرسری میں زیر علاج نوزائیدہ بچے کی بروقت طبی امداد سے جان بچانے پر نرس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی نرسری میں زیر علاج ایک نوزائیدہ بچے کی جان بچا کر انسانیت کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق نرسری میں موجود ایک شیر خوار بچے کی حالت اچانک تشویشناک ہو گئی تھی، جس پر وہاں موجود نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔ ان کی بروقت مداخلت اور درست طبی اقدامات کے باعث بچے کی سانسیں بحال ہوئیں اور اسے نئی زندگی ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں نرس کو انتہائی مستعدی کے ساتھ بچے کو بچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے نرس کی اس جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بے حد سراہا ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرس رضیہ نورین کی اس قابل ستائش کارکردگی کے پیش نظر اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے لیے تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ محکمہ صحت کے دیگر عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا تاکہ وہ اپنے فرائض مزید تندہی سے سرانجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، تاہم رضیہ نورین جیسے افراد اپنی محنت سے اس شعبے کا وقار بلند کرتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین نرس قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز ہسپتال وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں کام کرنے والا عملہ انتہائی دباؤ میں ہوتا ہے، جہاں ایک لمحے کی غفلت بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین نے ثابت کیا ہے کہ اگر نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد خلوص نیت سے اپنے فرائض انجام دیں تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ رضیہ نورین کی یہ مثال دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسنگ کا پیشہ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام ہے، جس میں جذبہ ہمدردی اور صبر و تحمل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس طرح بحرانی کیفیت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا، وہ نرسنگ کے شعبے کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے قابل اور فرض شناس افراد موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں رضیہ نورین کو ان کی شاندار کارکردگی پر تمغہ دیا جائے گا۔ اس تقریب میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کے نمائندے شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں بھی اسی طرح کے واقعات کو سراہا جائے گا تاکہ طبی عملے کا مورال بلند رہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، رضیہ نورین کی یہ کاوش نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام میں مزید برکت عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
